پرانے زمانے میں حج کیسے ہوتا تھا؟

سوشل میڈیا پر کئی دہائیوں قبل حج کے دوران گزارے گئے دنوں اور منیٰ میں موجود اس وقت حجاج کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود تصاویر میں طواف، کنکریاں مارنے، وقوف عرفہ کے قدیم مناظر دیکھے جا سکتے ہیں (تصاویر: پبلک ڈومین)

حج کے دن قریب آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین حج سے متعلق معلومات، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ ان تصاویر میں ماضی میں مناسک حج کی ادائیگی کے مناظر اور کیفیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان تصاویر میں سعودی عرب کی جانب سے گذشتہ ادوار میں حجاج کرام کی سہولیات کے لیے کی جانے والی غیرمعمولی کوششوں کی تفصیلات بھی سامنے آتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر کئی دہائیوں قبل حج کے دوران گزارے گئے دنوں اور منیٰ میں موجود اس وقت حجاج کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

العربیہ اردو کے مطابق ان تصاویر میں طواف، کنکریاں مارنے، وقوف عرفہ کے قدیم مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حجاج کرام کے قافلے کس طرح اونٹوں اور دوسرے جانوروں پر حجاز پہنچتے تھے۔

گذشتہ برسوں میں حجاج کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان تاریخی حوالوں کے مطابق ماضی میں حج کا سفر مشکل اور خطرات سے دوچار تھا۔

وائرل تصاویر میں اونٹوں کو دیکھا جا سکتا ہے کہ پرانے دور میں لوگ کس طرح ان پر حج کا کھٹن سفر کرتے تھے۔

حجاج کرام کے قافلوں کے راستوں میں پڑاؤ اور ان کے کھانے پکانے کے مناظر بھی کم حیران کن نہیں۔

زائرین اپنے علاقوں سے متعدد دن تک مقدس مقامات کی طرف چلتے تھے۔ انہیں موسم کی حدت اور شدت کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس صبر آزما سفر میں حجاج کو کہیں شدید گرمی، چلچلاتی دھوپ اور کہیں شدید طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

حج کا سفر

سعودی عرب میں حج اور عمرہ سروسز کے ماہر احمد حلبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شاہ عبد العزیز کے ہاتھوں سعودی عرب کے قیام سے قبل حج کا سفر خطرات سے بھرپور تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’عازمین کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، سڑکیں، راستے اور ذرائع نقل وحمل کا فقدان تھا۔ لوگ مہینوں تک اونٹوں کے ذریعے پرخار وادیوں، تپتے صحراؤں، جنگلوں اور بیابانوں سے گزرتے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کے حوالے سے ماضی کے لوگوں نے کہاوتیں بنانا شروع کر دی تھیں۔ حج کے کٹھن سفر کی وجہ سے ایک عربی کہاوت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ’جو حج پر جاتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے اور جو حج سے لوٹ آتا ہے گویا اس نے نئے سرے سے جنم لیا ہے۔‘

وہ اس حوالے سے مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ایک ایسا جملہ ہوتا تھا جو کم وبیش ہرعازم حج کے سفر حج کی روانگی کے وقت بولا جاتا تھا۔ اگر وہ فریضہ حج کے بعد بہ حفاظت واپس آجاتا تو گویا اس نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سینکڑوں سالوں تک قافلے اونٹوں پر چلتے، حجاج اپنے سامان، جانوروں کا چارہ ساتھ لے کر چلتے۔

کہیں گدھوں پر سفر کرتے اور اونٹ لے کر پیدل پہاڑوں کو عبور کرتے تھے کیونکہ ماضی میں نقل و حمل کا یہی واحد ذریعہ تھا۔‘

حجاج کرام کی آمدورفت کے بارے میں الحلبی نے کہا کہ عازمین کی نقل و حمل اور سفر کا آغاز جدہ سے مکہ، مدینہ اور مقدس مقامات ’عرفات، مزدلفہ، منیٰ‘ تک اونٹوں سے کیا جاتا تھا۔

حج کے سفر کے دوران اونٹوں کا بھی خاص خیال رکھا جاتا تھا اور ان پر گنجاش سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ