نانا افغانستان کے مشہور جنگجو اور نواسا ایک ٹیچر

گلبدین حکمت یار پر 1990 کی دہائی میں سول جنگ میں ہزاروں افراد کے قتل کا الزام ہے لیکن ان کے نواسے عبید اللہ بہیر امن اور مفاہمت پر زور دیتے ہیں۔

عبیداللہ بہیر بچے تھے جب انہوں نے اپنے والد کو آدھی رات ایک چھاپے کے دوران گھر سے باہر گھسیٹ کر لے جائے جاتے دیکھا۔

ان کے نانا اور جنگجو گلبدین حکمت یار پر 1990 کی دہائی میں سول جنگ میں ہزاروں افراد کے قتل کا الزام ہے۔

مگر 31 سالہ عبیداللہ نے خاندان کے تلخ ماضی کو پس پشت ڈال کر امن اور مفاہمت پر نظریں جما دی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے عبیداللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی بھلا کر نئے آغاز کا انتخاب کرنا ہوگا۔

وہ اس وقت امریکین یونیورسٹی آف افغانستان میں ٹرانزیشنل جسٹس کا مضمون پڑھا رہے ہیں۔

عبیداللہ افغانستان کی خانہ جنگی سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہوئے اور ان کی پرورش پاکستان میں ہوئی۔

ان کے نانا گلبدین حکمت یار سابق افغان وزیر اعظم اور حزب اسلامی ملیشیا کے بانی تھے، جنہیں 90 کی دہائی میں کابل کے محاصرے کے وقت ’کابل کے قصائی‘ کا نام دیا گیا۔

دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے لیے حکمت یار نے اس وقت کے وزیر دفاع شاہ مسعود کی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے کابل پر راکٹ حملے کیے جس سے ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی اس حملے کے متاثرین عبیداللہ سے سوال کرتے ہیں۔

کابل میں ایک کانفرنس میں اپنی جلاوطنی کی بات کرنے کے دوران ایک خاتون نے اپنے والد کی موت کا ذمہ دار حکمت یار کو ٹھہرایا تو عبیداللہ کا کہنا تھا ’میرے پاس معذرت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں، یہ سب میں نے نہیں کیا۔‘

حکمت یار کو دہشت گرد قرار دیا گیا مگر وہ اب بھی افغان امن مذاکرات کا حصہ ہیں۔

عبید اللہ بہیر کے والد غیرت بہیر کو اسلام آباد میں گھر سے نکال کر بگرام میں قید کیا گیا، جسے گذشتہ ہفتے امریکہ نے افغان افواج کے حوالے کر دیا ہے۔

عبیداللہ کے مطابق ان کے والد کو گھر سے گھسیٹ کر لے جانے والے سی آئی اے افسران تھے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے والد کو افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی سالوں تک قید رکھا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں امریکہ سے نفرت تھی مگر وقت کے ساتھ ان کی سوچ میں تبدیلی آئی۔

وہ کہتے ہیں: ’زندگی میں ایک وقت میں مجھے اس بات کی سمجھ آئی یہ جو کچھ ہوا وہ عام امریکی شہریوں نے نہیں کیا۔

’جو لوگ مجھے نہیں جانتے وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اسی طرح ہمارے جنگجو مغرب سے اس لیے نفرت کرتے ہیں کیوں کہ وہ مغرب کو نہیں جانتے۔‘

ماضی میں ناکامی کے باوجود عبیداللہ کے نزدیک افغانستان میں اب مفاہمت اور امن کا راستہ بالکل صاف ہے۔

عبیداللہ کی امریکی یونیورسٹی سے وابستگی کے بعد امریکہ سے نیا تعلق قائم ہوا ہے مگر وہ اپنے نانا سے لگاؤ نہیں چھپا سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ اپنے خاندان سے پیار کیسے ختم ہو سکتا ہے؟

آسٹریلیا میں تعلیم نے انہیں امن اور مفاہمت کے راستے پر ڈالا مگر وہاں بھی اپنے نانا حکمت یار کے بارے میں بہت کچھ سنتے رہے۔

عبیداللہ 2018 میں کابل واپس آئے جب حکمت یار اشرف غنی سے ہونے والے امن معاہدے کے بعد خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے کابل واپس آئے۔

امریکن یونیورسٹی آف افغانستان کی ڈائریکٹر ویکٹوریا فونٹن کا کہنا تھا حکمت یار کو اپنے نواسے پر بہت فخر ہے۔

اس پر عبیداللہ نے کہا بالکل ایسا ہی ہے، بلکہ حکمت یار اکثر مذاق کرتے ہیں کہ خاندان کے بارے میں یونیورسٹی میں بری باتیں نہیں کرنا۔

’میرا جواب ہوتا ہے کہ میں سیاسی تجزیہ کار ہوں اور جو میرے ذہن میں ہوگا میں وہی کہوں گا اور سچ بولوں گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا