عمران خان اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر کے ممکنہ ہدف تھے: ہاریتس

ہیکنگ کا نشانہ بننے والوں میں بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزرا سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

این ایس او ایک اسرائیلی فرم ہے جس کی خدمات معاوضے پر حاصل کی جا سکتی ہیں(فائل فوٹو: اے ایف پی)

مشہور اسرائیلی اخبار ہاریتس کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان پیگاسس نامی اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر کا ممکنہ ہدف تھے۔

اس سافٹ ویئر کو انٹرنیٹ پر جاسوسی کرنے کے اسرائیلی ادارے این ایس او نے بنایا ہے۔

پیر کے روز شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار ہاریتس کی رپورٹ کے مطابق پیرس کے ادارے ’فوربڈن سٹوریز‘ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو افشا ہونے والے 50 ہزار فون نمبروں تک رسائی حاصل ہے جنہیں این ایس او کے صارفین نے نگرانی کے لیے چنا تھا۔

افشا ہونے والے نمبرز کی معلومات ہاریتس اور دنیا بھر کے 16 دیگر ذرائع ابلاغ کے اداروں کو فراہم کی گئی ہیں جو اس معاملے پر ایک ماہ سے خبریں شائع کر رہے تھے۔

فوربڈن سٹوریز نے پیگاسس پر کی جانے والی تحقیقات کا جائزہ لیا اور  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کا فورینزک تجزیہ کیا ہے۔

ہارٹز کے مطابق پیگاسس نامی منصوبے میں اخبار گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ شراکت دار تھے جبکہ بھارتی اخبار دی وائر بھی ان میں شامل تھا۔

ان اداروں نے پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ راہول گاندھی جو بھارتی وزیر اعظم کے سب سے بڑے سیاسی حریف ہیں کم از کم دو مرتبہ اس سافٹ ویئر کے ہدف کے طور پر چنے جا چکے تھے۔

اس کے علاوہ پاکستانی اعلی حکام بھی اس سافٹ ویئر کے ممکنہ اہداف تھے جن میں پاکستانی وزیر اعظم کے سب سے قریبی نائب بھی شامل ہیں۔ چند کشمیری رہنما اور تبت کے مذہبی رہنما بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔

بین الااقوامی میڈیا کنسورشیم کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت سمیت کئی ملک اسرائیلی ٹیکنالوجی فرم ’این ایس او‘ کے سافٹ ویئر کی مدد سے دنیا بھر میں موجود سیاست دانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت اہم سیاسی اور حکومتی شخصیات کے فون ہیک کر رہے ہیں۔

ہیکنگ کا نشانہ بننے والوں میں بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزرا سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

تحقیقاتی صحافت کی بھارتی ویب سائٹ ’دا وائر‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت میں استعمال ہونے والے تین سو موبائل ٹیلی فون نمبر افشا ہونے والی فہرست میں موجود ہیں اور ان میں وزرا، حزب اختلاف کے سیاست دانوں، صحافیوں، سائنس دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے نمبر شامل ہیں۔

ان نمبروں میں بھارت کے ان 40 سے زیادہ صحافیوں کے نمبر بھی ہیں جو بڑے اشاعتی اداروں جیسا کہ ’ہندوستان ٹائمز،‘ ’دا ہندو‘ اور ’انڈین ایکسپریس‘ سے وابستہ ہیں۔ ان کے علاوہ بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دا وائر‘ کے بانی ایڈیٹروں کے ٹیلی فون نمبر بھی فہرست کا حصہ ہیں۔

وٹس ایپ کی جانب سے این ایس او کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا کہ گروپ میسیجنگ کے پلیٹ فارم کو سائبر جاسوسی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ مقدمہ دائر ہونے کے بعد بھارتی حکومت نے 2019 میں اس بات کی تردید کی کہ اس نے شہریوں کی جاسوسی کے لیے سافٹ ویئر استعمال کیا۔

عالمی میڈیا کنسورشیم نے اہداف سے متعلق لیک ہونے والی ڈیٹا کو بنیاد بناتے ہوئے تحقیقات کی ہے جس نے مزید شواہد فراہم کیے ہیں۔ ان پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل میں قائم ٹیکنالوجی فرم این ایس او گروپ کے تیارہ کردہ فوجی معیار کے سپائی ویئر کو صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

 این ایس او ایک اسرائیلی فرم ہے جس کی خدمات معاوضے پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قائم غیرمنافع بخش تنظیم ’فوربڈن سٹوریز‘ اور انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 50 ہزار موبائل فون نمبر حاصل کر کے انہیں 16 ذرائع ابلاغ کے 16 اداروں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

اس اقدام کی بدولت صحافیوں نے 50 ملکوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو شناخت کیا جنہیں این ایس اوکی خدمات حاصل کرنے والوں نے ممکنہ طور پر نگرانی کے لیے منتخب کیا تھا۔

کنسورشیم کے رکن امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان افراد میں189 صحافی، چھ سو سے زیادہ سیاست دان، سرکاری حکام، کاروباری اداروں کے کم ازکم 65 عہدے دار، انسانی حقوق کے 85 کارکن اور متعدد ریاستی سربراہان شامل ہیں۔

جن صحافیوں کی جاسوسی کی ان میں ایسوسی ایٹڈپریس، روئٹرز، سی این این، امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل، فرانسیسی اخبار لے موند اور برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے لی کام کرتے ہیں۔

اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ معلومات کے لیک ہونے کا ذریعہ اور اس کے درست ہونے کی تصدیق کیسے کی گئی۔ ڈیٹا میں کسی فون نمبر کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ کنسورشیم کے مطابق اس کا خیال ہے کہ ڈیٹا سے این ایس او کے حکومتی کلائنٹس کے ممکنہ اہداف کا اشارہ ملتا ہے۔

 

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کہا ہے کہ اس نے فہرست میں شامل 37 سمارٹ فونز کی نشاندہی کی ہے جنہیں ہیک کیا گیا۔ کنسورشیم کے ایک اور رکن برطانوی اخبار ’دا گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی کو 15 صحافیوں کے سمارٹ فونز میں پیگاسس نامی سپائی ویئر کی موجودگی کی علامات ملی ہیں۔ یہ جان کر ان کے نمبر لیک ہونے والے ڈیٹا میں شامل ہیں ان صحافیوں نے اپنے فونز کے معائنے کی اجازت دی تھی۔

فہرست میں موجود زیادہ موبائل فون نمبرز میکسیکو کے تھے، اس کے علاوہ ان نمبر کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ سے بھی ہے۔ این ایس او گروپ اک سپائی ویئر زیادہ مشرقی وسطیٰ اور میکسیکو میں اہداف کی نگرانی میں ملوث پایا گیا ہے۔

فہرست میں جن ملکوں کے موبائل فون نمبرزموجود ہیں ان میں فرانس، ہنگری، بھارت، آذربائیجان ،قازقستان اور پاکستان شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل آنیئس کیلامار کے بقول: ’جتنی تعداد میں صحافیوں کے ہدف ہونے کی نشاندہی ہوئی اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ پیگاسس (جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والا سافٹ ویئر) کو تنقید کرنے والے میڈیا کو ڈرانے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔‘

اخبار گارڈین کے ایک کیس میں ان کے میکسیکو کے رپورٹر سسیلیوپنیڈا کو ان کا نمبر لیک ہونے والی لسٹ میں ظاہر ہونے کے بعد 2017 میں قتل کر دیا گیا۔

جاسوسی کے پروگرام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اس کی شناخت نہ ہو سکے اور اس کی سرگرمی خفیہ رہے۔ اہداف کو نشانہ بنانے کے این ایس او کے طریقے اتنے جدید ہیں کہ ان کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ اب یہ گروپ صارف سے رابطہ کیے بغیر ’زیروکلک‘ کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جاسوسی کر سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سال 2019 میں میسیجنگ کے لیے استعمال ہونے والے امریکی سافٹ ویئر وٹس ایپ اور اس کی مالک کمپنی فیس بک نے ایس ایس او گروپ کے خلاف سان فرانسسکو میں امریکہ کی وفاقی عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا تھا۔

 گروپ پر الزام لگایا گیا کہ اس نے تقریباً 14 سو صارفین کو صرف مس کال کر کے میسیجنگ کی مقبول محفوظ سروس میں موجود خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ہدف بنایا۔ این ایس او گروپ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق لیگ ہونے والی فہرست میں موجود نمبرز کس کے ہیں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن پراجیکٹ میں حصہ لینے والے میڈیا ادارے 50 ملکوں ایک ہزار سے زیادہ ایسے افرادکی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو گئے جن کی جاسوسی کی گئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق این ایس او نے ہفتے کو تردید جاری کی جس میں فوربڈن سٹوریز کی رپورٹ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گروپ نے اس رپورٹ کو ’غلط مفروضوں اور بلاثبوت تصورات سے بھرپور‘ قرار دیتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس معاملے پر کی جانے والی اپنی ٹویٹ میں اظہار تشویش کیا ہے۔ ٹویٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان خبروں پر شدید تشویش ہے کہ بھارتی حکومت اسرائیلی کمپنی کا سافٹ وئیر استعمال کر کے صحافیوں، سیاسی مخالفین اور سیاست دانوں کی جاسوسی کر رہی ہے۔ مودی حکومت کی غیر اخلاقی پالیسیز نےبھارت اور خطے کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔‘

جب کہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی بھارتی وزیر اعظم مودی پر اپنے ہی کابینہ ارکان کی جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بظاہر اسرائیلی فرم این ایس او اس سپائی وئیر کے فروخت کے لیے اسرائیلی حکومت کی منظوری لیتی ہے اس لیے یہ تعلق واضح ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا