بھارت: ’مسلمان مخالف ڈی این اے بل‘ کی اگست میں منظوری ممکن

مجوزہ قانون کو ’ڈی این اے ٹیکنالوجی ریگولیشن بل‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا کا مقصد جرائم کے متاثرین، ملزمان اور لاپتہ افراد کی پروفائلنگ کرنا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سے عوام کی نجی زندگی اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا سکتا ہے (اے ایف پی / فائل)

بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت جرائم سے نمٹنے کے لیے جینیاتی اعداد و شمار جمع کرنے اور ان کے استعمال سے متعلق قانون سازی کر رہی ہے جس کے بارے میں ٹیکنالوجی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سے عوام کی نجی زندگی اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا سکتا ہے۔

مجوزہ قانون، جسے ’ڈی این اے ٹیکنالوجی ریگولیشن بل‘ کا نام دیا گیا ہے، کا مقصد جرائم کے متاثرین، ملزمان اور لاپتہ افراد کی پروفائلنگ کرنے اور ڈیٹا کو قومی اور علاقائی ڈیٹا بینکس میں محفوظ کرنا ہے۔ اس قانون کے ذریعے ڈی این اے ریگولیٹری بورڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔

یہ بل فروری میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا اور امید ہے کہ 31 اگست تک جاری رہنے والے موجودہ اجلاس میں اسے منظور کر لیا جائے گا۔

رازداری کے حق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں اقلیتی گروہوں کو غیر متناسب طور پر مجرموں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ذات پات یا مخصوص برادری کی پروفائلنگ کے لیے اعداد و شمار کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون سے رازداری کے حق کی خلاف ورزیوں کا بھی امکان ہے کیونکہ ملک میں نجی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

تکشاشلا انسٹی ٹیوشن کے ٹیکنالوجی اور پالیسی پروگرام سے وابستہ شمبھوی نائک نے کہا کہ ’بل متعدد مقاصد کے لیے بنایا جا رہا ہے لیکن بنیادی تشویش اس وضاحت کا موجود نہ ہونا ہے کہ اس حوالے سے کون سے ڈیٹا کو محفوظ کیا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس سے نجی معلومات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوں گے کیونکہ ڈی این اے کسی بھی فرد کے رشتے داروں اور آبا و اجداد کے بارے میں بھی معلومات افشا کر سکتے ہیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً 40 ہزار نا معلوم لاشیں ملتی ہیں اور 60 ہزار سے زیادہ بچے لاپتہ ہو جاتے ہیں۔

بل کی جزویات طے کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جے رام رمیش نے کہا کہ ’ڈی این اے ٹیکنالوجی کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے اور اس کا استعمال فوجداری تحقیقات میں غلطیوں کے امکان کو کم اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنا سکتا ہے۔‘

حزب اختلاف کی جماعت سے تعلق رکھنے والے رمیش نے کہا کہ ’اس بل میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ نجی نوعیت کی رازداری کے حق کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔ یقینی طور پر مزید حفاظتی تدابیر پر غور کیا جانا چاہیے کیونکہ ہمیں ٹیکنالوجی کے استعمال سے مزید تجربہ حاصل ہوتا ہے۔‘

بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترجمان نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

مسلم رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ڈی این اے سے حساس معلومات افشا ہو سکتی ہیں جنہیں کسی برادری یا ذات کو مجرم ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں شک کی بنیاد پر گرفتار ہونے والوں میں سے اکثریت کا تعلق دلت، مسلم یا مقامی آدی واسی برادریوں سے ہوتا ہے۔

اسد الدین اویسی نے مجوزہ بل کے بارے میں ایک اختلافی نوٹ میں کہا: اکٹھا کیے جانے والا ڈیٹا ڈی این اے کی طرح حساس ہے۔ اس کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے غلط استعمال کا امکان اور اس سے ممکنہ نقصان بہت زیادہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’رازداری کے حق کی حفاظت کرنے والے کسی قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں اس بل سے عوام کے رازداری کے حق کے ساتھ ساتھ انصاف کے نظام کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔‘

بھارت کی پولیس فورس، اس کی معلومات جمع کرنے اور مجرموں کی شناخت کے عمل کو جدید بنانے کے لیے حکام ملک میں ہوائی اڈوں، ریلوے سٹیشنوں اور پولنگ بوتھس میں چہرے کی شناخت کے نظام کو نصب کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ایکسیس گروپ‘ سے وابستہ رامان جیت سنگھ چیمہ نے کہا کہ ’اگر جواب دہی یا نگرانی کے بغیر ڈی این اے ڈیٹا بینک چہرے کی پہچان جیسے دیگر جاسوسی کے نظام سے منسلک ہو گیا تو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔‘

ان کے بقول: ’ڈی این اے ڈیٹا بیس مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے ایک ریگولیٹری بیک سٹاپ کی ضرورت ہے جو اس وقت بھارت میں موجود نہیں ہے۔ ڈی این اے ٹیکنالوجی بل، پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل سے پہلے نہیں آنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا