کسی کو شام یاد ہے؟

عالمی برادری کو شام کے بحران کا حل ڈھونڈنا ہو گا اور جلد۔

خانہ جنگی سے بےگھر ہونے والے شامی شہری ترکی کی سرحد پر (اے ایف پی)

ایک ایسا ملک جس کی آدھی آبادی یعنی 66 لاکھ افراد دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہیں، مزید 67 لاکھ افراد اپنے ملک ہی میں دربدر ہو گئے ہیں اور ان کا واحد روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بین الاقوامی امداد ہے۔

پھر موذی بیماری کووڈ کی وجہ سے ملک کے تین لاکھ افراد نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے اور نتیجتاً ملک میں رہ جانے والی 82 فیصد آبادی اپنی روز مرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور 90 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے جی رہی ہے۔

یہ بات ہو رہی ہے شام کی جہاں دس سال سے خانہ جنگی جاری ہے۔ ایک وقت تھا جب دنیا کا کوئی اخبار نہ تھا جس میں شام کی جنگ کی خبر نہ چھپتی ہو، ٹی وی چینلوں کی خبریں اس وقت تک ادھوری تھیں جب تک شام کی خبر نہ ہو۔ شام کی جنگ کی فوٹوز اور ویڈیوز روزانہ کی بنیاد پر چھپتیں جن میں وہاں کی دل خراش حقیقت دکھائی جاتی۔

پھر آہستہ آہستہ شام خبروں میں کم ہوتا گیا اور اب یہ حال ہے کہ شاید ہی کبھی شام کا ذکر کسی اخبار میں لگتی ہے اور شاید ہی کوئی ایسا ٹی وی چینل ہو جو شام کی خبر چلائے۔ یقیناً شام میں جاری جنگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کبھی کبھار جھڑپوں اور بمباری کی خبریں سنتے یا پڑھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن جنگ میں کمی کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں حالات معمول پر آ چکے ہوں۔

شام صحیح معنوں میں عالمی میدان جنگ ہے۔ وہ میدان جنگ جہاں پر پانچ ممالک کی فوجیں اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ یہ پانچ ممالک ہیں روس، اسرائیل، ایران، ترکی اور امریکہ۔

ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی کے باعث شام کا زیادہ تر بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، مکانات، ہیلتھ سینٹرز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا پھر فعال نہیں رہے۔  ملک میں محض 58 فیصد ہسپتال کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شامی عوام کے لیے ہر دن ایک جدوجہد ہے۔ ملک میں بحران نے عوام کو ایک اور مشکل میں ڈال دیا ہے اور وہ ہے زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرنا۔ چاہے وہ حلب کے باسی ہوں یا دیرالزور کے، ادلب میں جدوجہد کر رہے ہوں یا  الحسکہ میں، دمشق ہو یا دیہی دمشق، حمس ہو یا درعا اور کئی ایسے نام جو ہم نے کبھی شاید سنے بھی نہ ہوں میں شامی خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

بنیادی ضروریات جیسے کہ روٹی اور دیگر خوراک کے لیے گھنٹوں قطار میں لگنا، ایندھن، پانی کے حصول کے لیے کوششیں کرنا اور اگر مل جائیں تو انتہائی مہنگی۔ گھروں سے دربدر ہونے والے خاندان واپس لوٹ رہے ہیں تاکہ ایک نیا آغاز کریں لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ سجے سجائے گھر جہاں پورا خاندان اکٹھے ہنستے بولتے تھے اب کھنڈروں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کسی مکان میں دروازے کھڑکیاں نہیں ہیں تو کسی کی دیواریں سلامت نہیں رہیں۔ زندگی دوبارہ شروع کریں تو کیسے؟ سونے کے لیے کوئی بستر نہیں۔ مختصراً جو گھر وہ چھوڑ کر جنگ سے دور گئے تھے وہ گھر ان سے دور ہو چکا ہے اور اس کی جگہ آدھا کھڑا مکان باقی ہے۔

شام کا بحران ختم نہیں ہوا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اگر شامیوں کے لیے یہ کافی نہیں تھا تو مغربی ممالک کی پوری توجہ پناہ گزینوں کے بحران کو سنبھالنے پر مبذول ہے نہ کہ اس وجہ کو حل کرنے کی جانب ہو جس کے باعث پناہ گزین دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

یورپی ممالک نے حال ہی میں خود ہی سے پناہ لینے کے لیے تسلیم شدہ قانون کو مزید سخت کر دیا ہے جس کے باعث پناہ لینے والے شامیوں کو اب پناہ گزین کا سٹیٹس نہیں ملتا۔ یورپی ممالک کی جانب سے اس اقدام کا مقصد شامی خاندانوں کو جنگ سے دور پناہ لینے کے لیے حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ 

شامی مغربی ممالک کا رخ اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ذرا سوچیے کہ اگر آپ صبح اٹھتے وقت خوف محسوس کرتے ہوں، گھر سے باہر نکلتے وقت ڈر ہو کہ معلوم نہیں کہ واپس آئیں بھی یا نہیں۔

مشہور پارلیمینٹیرین سر ایڈمنڈ برک نے کہا تھا کہ ’برائی کی فتح کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اچھے لوگ کچھ نہ کریں۔‘

عالمی برادری اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ محض پابندیاں لگاتی جائے اور پناہ گزینوں کے لیے زمین مزید تنگ کرتی جائے۔ عالمی برادری کو شام کے بحران کا حل ڈھونڈنا ہو گا اور جلد۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا