واٹس ایپ کا نیا فیچر: تصویر یا ویڈیو ایک بار دیکھنے پر خود بخود ڈیلیٹ

واٹس ایپ کے نئے فیچر ’ویو ونس‘ کے ذریعے صارفین ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھیج سکتے ہیں جو صرف ایک بار ہی دیکھی جا سکتی ہیں۔

ویو ونس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے (اے ایف پی)

معروف چیٹ ایپلیکیشن ’واٹس ایپ‘ نے نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے صارفین ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھیج سکتے ہیں جو صرف ایک بار ہی دیکھی جا سکتی ہیں۔

نئے فیچر ’ویو ونس‘ کے ذریعے صارفین ایسی فائلیں بھیج سکیں گے جو چیٹ سے کھلتے ہی غائب ہو جائیں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر سے نہ صرف فونز اور کنورسیشنز میں سپیس کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو مزید نجی نوعیت کی فائلز شیئر کرنے کی اجازت دینا ہے۔

مثال کے طور پر اس فیچر کا استعمال کرتے ہوئے آپ ’کچھ نئے کپڑوں کی تصویریں جو آپ سٹور پر ٹرائی کر رہے ہوں، کسی لمحے پر فوری ردعمل یا وائی فائی پاس ورڈ جیسی حساس معلومات‘ شیئر کر سکتے ہیں۔

واٹس ایپ نے کہا ہے کہ نئے فیچر کا استعمال کرتے ہوئے بھیجی جانے والی ہر فائل کو ’ون ٹائم‘ آئیکن کے ساتھ مارک کیا جائے گا اور اسے کھولنے کے بعد اس میں ’اوپن‘ انڈیکیٹر شامل ہوں گے تاکہ واضح کیا جا سکے کہ چیٹ میں کیا ہوا ہے۔

واٹس ایپ نے کہا کہ یہ فیچر دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے رواں ہفتے سے شروع کیا جا رہا ہے۔ فیچر کو استعمال کرنے کے لیے ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔

واٹس ایپ کے ایک سپورٹ ڈاکیومنٹ میں بتایا کیا گیا کہ ’آپ کی جانب سے بھیجی گئی انکرپٹڈ میڈیا فائلز چند ہفتوں کے لیے واٹس ایپ کے سرورز پر محفوظ رہ سکتی ہے۔‘

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر صارفین کو یقین ہے کہ بھیجی گئی فائلز سے کمپنی کے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے (مثال کے طور پر ناپسندیدہ یا نازیبا مواد) تو وہ ’ویو ونس‘ ٹول کے ساتھ بھیجے گئی میڈیا فائلز کو ’رپورٹ‘ کر سکیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کی صورت میں کمپنی ان تصاویر یا ویڈیوز کو دیکھ سکے گی۔

واٹس ایپ نے زور دیا ہے کہ پرائیویسی پر توجہ مرکوز کرنے کی پالیسی کے تحت کمپنی پیغامات اور گفتگو کو مستقل کی بجائے انہیں عارضی طور پر محفوظ رکھنے کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔

کمپنی نے جون میں دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ بہت سارے لوگ ان (چیٹ کو مستقل محفوظ نہ کرنے والی) آپشنز کا انتخاب کریں گے۔ ہمارے خیال میں وقت کے ساتھ یہ معمول بن جائے گا، ظاہر ہے اب تک ایسا نہیں ہے۔‘

کمپنی کا مزید کہنا تھا: ’لیکن ہمیں لگتا ہے کہ جیسے جیسے یہ آسان ہوتا جا رہا ہے، لوگوں کو ہر چیز کا ریکارڈ ہمیشہ کے لیے نہ رکھنے کے فوائد کا ادراک ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ ان کے پیغامات کو خفیہ رکھتا ہے، کیوں کہ اس سے انہیں اضافی سکیورٹی جیسے فوائد ہیں اور یہ انہیں آزادانہ طور پر اپنے خیالات کو بیان کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی