ایشیا کے بلند ترین ریلوے سٹیشن کی بحالی کے لیے دس کروڑ مختص

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے اخترمحمود خٹک نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں کان مہترزئی سے سی پیک کے تحت ایم ایل تھری نے بھی گزرنا ہے، ایسا نہ ہو کہ ابھی حکومت خطیر رقم لگا کراس ریلوے سٹیشن کو ٹورسٹ سپاٹ میں تبدیل کرے اور کل اسے دوبارہ اکھاڑنا نہ پڑے۔

حکومت بلوچستان نے ایشیا کے بلند ترین ریلوے سٹیشن کی بحالی کے لیے رواں مالی سال کے دوران 10 کروڑ کی رقم مختص کی ہے جس سے اس عمر رسیدہ اور بوسیدہ ریلوے سٹیشن کو کارآمد بنایا جائے گا تاہم یہاں کے مقامی افراد اس پیش رفت پر خوش اور فکر مند دونوں ہیں۔ 

’میری پیدائش اس ریلوے سٹیشن میں بنے رہائشی کوارٹر میں ہوئی ہے اور میں آج بھی اس کی حفاظت پر مامورہوں کیونکہ میرے والد ریلوے میں ملازم اور کان مہترزئی ریلوے سٹیشن میں تعینات تھے۔ اس زمانے میں کوئٹہ سے چمن اور بوستان سے کان مہترزئی، ژوب تک آمدورفت کا واحد ذریعہ ٹرین تھی۔ لوگ گھنٹوں ٹرین کا انتظار کرتے اور پلیٹ فارم سے متصل لکڑی کے بنے ہوٹل میں قہوے سےے لطف اندوز ہوتے اور گپ شپ لگاتے تھے۔‘

یہ الفاظ ہیں پاکستان ریلوے کے عمررسیدہ ملازم شیرمحمد مہترزئی کے جنہوں نے اپنی بچپن، لڑکپن اور جوانی انگریز دور میں تعمیرکیے گئے کان مہترزئی ریلوے سٹیشن میں گزاری اور زندگی کا بقیہ حصہ بھی اس کی دیکھ بھال میں گزارنے کا عزم رکھتے ہیں۔ مگر کھنڈرات میں تبدیل، بکھری اینٹوں، خستہ حال دیواروں اور ٹپکتی چھتوں کے ساتھ کان مہترزئی ریلوے سٹیشن آج اپنی حالت پر شکوہ کناں ہے۔

شیرمحمد مہترزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس زمانے میں یہاں ٹرین چلتی تھی، اس وقت بسیں نہیں تھیں۔ ٹرین کو لوگ سواری اور سامان لے جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ چونکہ کان مہترزئی میں شدید برف باری ہوتی ہے، اس لیے بارشوں اور برف باری سےاس کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے تاہم اس کی مرمت سالہا سال نہیں کی گئی ہے۔

’ایک زمانے میں برف باری کی وجہ سے ٹرین نہیں چل سکی۔ تو ہم نے پوری ٹرین کے سواریوں کو سات دن تک اپنے گھر میں رکھا۔ کوئلے سے چلنے والی ریل گاڑی کمزور تھی۔ دو انجنوں کی مدد سے بوگیوں کو کھینچا جاتا تھا۔ ژوب سے کان مہترزئی تک دو انجن جبکہ کان مہترزئی سے بوستان سٹیشن تک ایک انجن کی مدد سے ریل گاڑی چلتی تھی۔‘

اس تاریخی ریلوے سٹیشن میں آج اگرچہ نہ تو کوئی انجن موجود ہے اور نہ ہی بوگیاں، تاہم پرانے زمانے کے ریلوے آلات، فرنیچر، آئل لیمپس، لائٹس، انگلش کموڈ، برتن، گھنٹیاں، سامان وزن کرنے کا آلہ، ٹرینوں کے شیڈول اور حتیٰ کہ ٹکٹ والے ’بابو‘ کے کمرے میں نصف صدی پرانا کلینڈر آج بھی آویزاں ہے۔

لہلہاتے کھیتوں، سیب اور آڑو کے باغات میں گرے بلوچستان کے سردترین علاقے کان مہترزئی میں قائم ریلوے سٹیشن کو محفوظ رکھنے، اس کی کھوئی ہوئی ماضی اور خوبصورتی کو دوبارہ بحال کرنے اور اسے ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کیلئے محکمہ ثقافت، سیاحت اور آثارقدیمہ حکومت بلوچستان نے رواں سال بجٹ میں 10 کروڑ کی خطیر رقم مختص کی ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ سیاحت بلوچستان محمد قیصرخان نے اردو انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کان مہترزئی ریلوے سٹیشن ایشیا کا سب سے بلند نیروگیج لائن ریلوے سٹیشن ہے۔ وزیراعلی بلوچستان کی ہدایت پر اس اہم قومی ورثے کو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں بحال کیا جارہا ہے، جس کی ماسٹرپلاننگ پر کام جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی سٹیشن کی بحالی کے اس ایک سالہ منصوبے کے تحت میوزیم، پارک، لائبریری، ہوٹل اور ٹک شاپ تعمیر کیے جائیں گے اورسٹیشن کی تزئین وآرائش سمیت پرانے ریکارڈ اور استعمال کیے گئے پرانے آلات بھی محفوظ کیے جائیں گے۔ تاکہ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ آکر اسے دیکھ سکیں۔

’بلوچستان سیاحت کے حوالے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے۔ صوبے میں کوسٹ لائن، ساحل، دریا، وادیاں، ریگستان، جنگلات، پہاڑی درے، میدانی اور سردی اور گرمی والے علاقے موجود ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ٹوارزم سیکٹر کو اس طرح مارکیٹ کریں، کہ پرائیویٹ سیکٹر آکر اس میں سرمایہ کاری کرسکے۔‘

کان مہترزئی کے رہائشی زمیندار بسم اللہ کاکڑ نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ منصوبے سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ علاقے میں بھی ترقی و خوشحالی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ریلوے سٹیشن کی بحالی اور تزئین وارائش احسن اقدام ہے، تاہم علاقہ پسماندہ ہونے کے پیش نظر اس کی ترقی پر بھی توجہ دی جائے۔‘

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے اخترمحمود خٹک نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں کان مہترزئی سے سی پیک کے تحت ایم ایل تھری نے بھی گزرنا ہے، ایسا نہ ہو کہ ابھی حکومت خطیر رقم لگا کراس ریلوے سٹیشن کو ٹورسٹ سپاٹ میں تبدیل کرے اور کل اسے دوبارہ اکھاڑنا نہ پڑے۔

ان کے مطابق: ’بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات اور تاریخی کان ریلوے سٹیشن کو محفوظ رکھنا خوش آئند ہے۔ تاہم صوبے میں ریلوے کی زمینیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرکے اس کا معاوضہ پاکستان ریلوے کو ادا نہیں کیا جاتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اخترمحمود خٹک نے مزید کہا کہ پاک افغان سرحد سے متصل علاقے چمن میں جدید طرز کا ڈرائی پورٹ بن رہا ہے۔ جہاں سے ٹرینوں کے ذریعے مختلف اشیا ملک کے مختلف حصوں میں بھیجی جائیں گی۔

کان مہترزئی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سو کلومیٹر کے فاصلے پربوستان ریلوے سٹیشن اور ژوب ریلوے سٹیشن کے درمیان واقع ہے۔ کان مہترزئی سطح سمندر سے تقریباَ سات ہزار تین سو فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہ بلوچستان کا سردترین علاقہ ہے اور یہاں کے سیب پورے ملک میں مشہور ہیں۔

بلوچستان میں ریلوے لائنز کا جال بچھانے کا آغاز اٹھارویں صدی میں ہوا اور مختلف علاقوں میں سنگلاغ پہاڑوں کا سینہ چاک کرکے ایک دوسرے کے ساتھ واحد ذرائع آمدورفت ٹرین کے ذریعے منسلک کردیا گیا۔ تاہم بوستان ژوب نیروگیج پٹری ایک صدی قبل 1921 میں بچھائی گئ۔

1986 میں ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی اور 2008 میں پٹری ہی نیلام کردی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا