افغان شہریوں کی آمد: ’انسانی ہمدردی کے علاوہ دوسرا فیکٹر بھی‘

دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف کے مطابق: ’اس وقت تو حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ عارضی قیام ہے، لیکن میرے خیال میں یہ فوجی ادھر ہی رکیں گے۔‘

20 اگست 2021 کی اس تصویر میں  انخلا سے قبل امریکی فوجی کابل ایئرپورٹ پر خاردار تاروں  کے پیچھے  موجود  ہیں جبکہ ملک سے جانے کے خواہشمند افغان شہری بھی نظر آرہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے واحد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر بم دھماکوں کے بعد پاکستانی حکومت نے اتحادی فوجیوں اور دیگر غیر ملکیوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی پہنچنے اور قیام کی اجازت دی ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان سے آنے والے غیر ملکیوں کو زیادہ سے زیادہ ایک مہینے کے لیے پاکستان میں قیام کی اجازت ہوگی۔  

تاہم دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) شاہد لطیف کے خیال میں افغانستان سے آنے والے غیرملکی فوجیوں کا پاکستان میں قیام بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’ابھی تو یہ عارضی طور پر آئے ہیں لیکن بعد میں دباؤ بڑھ جاتا ہے اور حکومتوں کے پاس ان کا قیام بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس وقت تو حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ عارضی قیام ہے، لیکن میرے خیال میں یہ فوجی ادھر ہی رکیں گے۔‘

دوسری طرف وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق کابل سے پاکستان آنے والے امریکی فوجیوں کو ٹرانزٹ ویزے فراہم کیے گئے ہیں، جو ایک مخصوص مدت کے لیے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے غیر ملکی فوجیوں اور دیگر اہلکاروں کے پاکستان میں طویل قیام کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور انہیں پورا کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملوں کے بعد غیرملکی اتحادیوں نے اپنے فوجیوں اور دیگر عملے کے انخلا کے عمل کو تیز کر دیا تھا، جو گذشتہ رات اختتام کو پہنچا دیا گیا۔

 

جن زمینی راستوں سے غیر ملکیوں نے پاکستان افغان سرحد عبور کی، ان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں واقع طورخم اور بلوچستان میں چمن بارڈر شامل ہیں۔ 

کابل سے آنے والے غیر ملکیوں کے قیام کی غرض سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں نجی ہوٹلوں کو ’مہمانوں‘ کو رہائش فراہم کرنے کی خاطردیگر افراد کے لیے مزید بکنگز بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

وزارت داخلہ کے سینئیر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہوائی جہازوں کے علاوہ افغانستان سے زمینی راستوں سے بھی غیر ملکی مہمان پاکستان پہنچے ہیں۔

جن زمینی راستوں سے غیر ملکیوں نے پاکستان افغان سرحد عبور کی، ان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں واقع طورخم اور بلوچستان میں چمن بارڈر شامل ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ جہازوں اور زمینی راستوں سے اسلام آباد، کراچی اور لاہور پہنچنے والے غیر ملکیوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے، جن کی اکثریت کو نجی ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک دوسرے حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بعض سینئیر فوجی اہلکاروں کو ہوٹلوں کے علاوہ سرکاری رہائش گاہوں میں بھی ٹھہرایا گیا ہے۔

منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان سے کل 10 ہزار 302 غیرملکی افراد پاکستان آئے جن میں 155 امریکی اور 545 افغان شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک نو ہزار 32 افراد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو چکے ہیں جبکہ 1229 تاحال پاکستان میں موجود ہیں جو آج ہی کسی وقت روانہ ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان افغانستان میں فوجوں کے انخلا کے دوران یا اس کے بعد امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈوں کی فراہمی کے سلسلے میں انکار کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اتوار کی شب کراچی میں حکومت مخالف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس سلسلے میں تحریک انصاف حکومت پر شدید تنقید کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا: ’تحریک انصاف حکومت نے اڈے دینے سے تو انکار کیا لیکن اب امریکی فوجیوں کو ہوٹلوں میں ٹھہرایا جا رہا ہے۔‘

ایک سینئیر حکومتی عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغانستان سے آنے والے ’مہمانوں‘ کو ویزہ تو ایک مہینے کا دیا گیا ہے، لیکن اس میں دو ماہ تک کی توسیع ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی امور کے استاد اور محقق پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں افغانستان سے آنے والے غیر ملکیوں کو پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کے پیچھے انسانی ہمدردی کے علاوہ کوئی دوسرا  فیکٹر بھی ضرور موجود ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرانزٹ کی سہولت تو چند ایک دن کے لیے بھی ہوسکتی تھی، جس کے ختم ہونے پر انہیں اگلی پرواز کے ذریعے بھیج دیا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہ لمبے عرصے تک یہاں موجود رہے گے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دوسری بات بھی ضرور ہے۔‘

ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں: ’امریکہ اور دوسرے اتحادیوں نے جن افغان باشندوں کو ساتھ لے کر جانا تھا انہیں پاکستان کو آؤٹ سورس کیا گیا ہے اور اسی لیے انہیں زمینی راستوں سے یہاں پہنچایا گیا۔ ‘

’دنیا کا کوئی دوسرا ملک ان افغانوں کو قبول نہیں کر رہا تھا جبکہ پاکستان نے حامی بھر لی اور یہ افغان باشندے اسی ڈیل کے تحت پاکستان پہنچے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے افغانستان سے پناہ گزینوں کی آمد کی امید کے باوجود کسی کے نہ آنے کے بیان کی روشنی میں ان افغانوں کی آمد کو دیکھیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ 

ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا: ’گذشتہ چند دنوں میں پاکستان پہنچنے والے افغان باشندے اگر پناہ گزین نہیں ہیں تو کون ہیں؟‘

ان کے خیال میں پاکستانی حکومت نے ضرور امریکہ اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کے بعد ہی ان افغان باشندوں کو قبول کیا ہے۔

تاہم وفاقی وزارت داخلہ کے سینئیرعہدیدار نے اس سلسلے میں کسی ڈیل کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام غیر ملکیوں کو خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان