’اینٹی ہراسمنٹ سیلز میں15منٹ میں خواتین کی داد رسی ہوگی‘

ویمن اینڈ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ سدرہ ہمایوں کے مطابق یہ سیل قائم کرنے سے پولیس پر اضافی بوجھ پڑ گیا ہے لیکن یہ ایک اچھا قدم ہے، اسے قائم رہنا چاہیے اور پورا فالو اپ ہو نا چاہیے۔

پنجاب پولیس کے سربراہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے  صوبے بھر کے تمام  اضلاع میں خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے 'اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل' قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا ہے کہ سیلز ایک ہفتے کے اندر اندر فعال ہو جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیلز' میں  خواتین سے متعلقہ جرائم کی روک تھام اورمقدمات کی میرٹ پر تفتیش کویقینی بنایا جائے گا۔

ان سیلز میں خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی جرائم کی کالز پر رسپانس ٹائم 15 منٹ ہو گا جب کہ ’اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیلز‘ میں لیڈی پولیس اہلکار وکٹم سپورٹ آفیسر کے فرائض سر انجام دیں گی۔ آئی جی پنجاب کے حکم کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب سہیل سکھیرا اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلینس سیلز کے قیام کی کلوز مانیٹرنگ کریں گے اور اس کے بعد ڈی آئی جی انویسٹی گیشن درج ہونے والے ہر مقدمے کی میرٹ پر تیز رفتار تفتیش کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں گے۔

اضلاع میں بننے والے یہ خصوصی سیل سی پی اوز اور ڈی پی اوز کی نگرانی میں کام کریں گے۔ آئی جی پنجاب کے خیال میں اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل کے قیام کے بعد ان کی تشہیر کیلئے بھرپور مہم بھی چلائی جانی چاہیے۔

ان سیلز میں  میں فون کالز کی موصولی کے لیے مناسب ٹیلی فون لائنز کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے یہ حکم نامہ پیر کے روز جاری ہوا جس کے بعد آئی جی پنجاب آفس کے مطابق منگل کو ہی  شیخوپورہ میں اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل فعال ہو گیا جہاں رچنا ٹاون میں شوہر کے بیہمانہ تشدد کی شکار بیوی نے اینٹی وومن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس سیل سے رابطہ کیا تھا۔

خاتون کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے  تھانہ فیروزوالہ میں خاتون کے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا جب کہ خاتون کو ان کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھیج دیا گیا۔ آئی جی پنجاب کہتے ہیں کہ قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے۔

لاہور کی بات کریں تو یہاں بھی لبرٹی خدمت مرکز کے عقب میں پہلے اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلنس  سیل کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اسی سیل کے تعمیریاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چودھری بھی لبرٹی خدمت مرکز میں موجود تھے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سہیل چودھری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’آئی جی پنجاب کے احکامات کی روشنی میں اس سیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ عنقریب اس کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ ان سیلز میں شکایات درج کروانے یا مدد لینے کے لیے جلد ایک ہیلپ لائن کا اجرا بھی کردیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں فی الحال دو سیلز بنائے جائیں گے۔ ان میں ایک لبرٹی والا اور دوسرا سیل ڈیفنس بی میں بنے گا۔ یہ سیلز تھانوں سے الگ بنیں گے، ہو سکتا ہے کہ کچھ کو تھانوں کے ساتھ بنا دیاجائے۔ ہماری بھرپور کوشش یہ ہو گی کہ ان سیلز میں بیٹھے پولیس افسران خواتین کی عزت و نفس کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ وہاں آنے والی خاتون کو یہ محسوس ہو کہ وہ کسی محفوظ مقام پر ہیں اور ان کی داد رسی ضرور کی جائے گی۔‘

ڈی آئی جی آپریشنز لا ہور سہیل چودھری نے یہ بھی بتایا کہ ان سیلز کے لیے بجٹ میں کوئی خاص رقم یا کوئی الگ سے رقم نہیں دی گئی بلکہ پولیس کے پاس جو بجٹ موجود ہے اسی کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ آگے چل کر اس کے لیے کوئی رقم مختص ہو جائے تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ان سیلز کے کام کے طریقہ کار کے بارے میں سہیل چودھری کا کہنا تھا کہ ان کی ورکنگ بھی ویسے ہی ہوگی جیسے عام تھانوں کی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہ سیلز خواتین کے لیے مخصوص ہوں گے۔ باقی لوگ تھانوں میں شکایات درج کروائیں لیکن خواتین اپنی شکایت لے کر ان سیلز میں بلا جھجھک آسکتی ہیں۔ اور باقی عمل وہی ہوگا جو عموماً ہوتا ہے اورجو آئی جی پنجاب نے ان سیلز کے لیے وضع کیا ہے۔

خواتین پولیس افسران ان سیلز کے حوالے سے کیا کہتی ہیں؟

تھانہ لٹن روڈ میں قائم  لاہور کے واحد خواتین پولیس سٹیشن کی ایس ایچ او طوبیٰ منیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا  ’ہمارے معاشرے میں خاندان کی طرف سے اتنا دباؤ ہوتا ہے خاص طور پر درمیانے طبقے کی خواتین تو اپنے ساتھ ہونے والے ہراسانی یا اس سے ملتے جلتے کیس رپورٹ ہی نہیں کرتیں۔ دوسرا خواتین کو آگاہی بھی نہیں ہے۔ وہ برداشت کرنا مناسب سمجھتی ہیں۔ میرا تھانہ بنا ہی خواتین کے لیے ہے یہاں جب خواتین آتی ہیں تو میں انہیں بتاتی ہوں کہ ان کے لیے ویمن سیفٹی ایپ بھی بنی ہوئی ہے اس لیے ضروری نہیں کہ آپ تھانے میں آ کر رپورٹ کریں۔ آپ ایپ کے ذریعے، جہاں بھی ہوں، کسی ہراسانی یا ایسی کسی بھی صورتحال میں  اپنے فون کے ذریعے براہ راست پولیس سے رابطے میں آسکتی ہیں اور مددطلب کر سکتی ہیں۔‘  

طوبیٰ کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں ان سیلز میں خواتین پولیس افسران کے ساتھ مرد افسران بھی ہونے چاہئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کے ساتھ پیش آئے کسی بھی حادثے کی صورت میں ہم نے جہاں کوئیک رسپانس دینا ہے وہاں ہم نے مردوں کاسامنا بھی کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ مرد سٹاف بھی ہمارے ساتھ ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پنجاب پولیس کا خواتین کے لیے ایک بڑا قدم ہے کہ وہ ہمارے پاس ان سیلز میں آکر اپنے ساتھ ہوئی ہراسانی یا زیادتی یا مسائل ہمیں بتائیں کیونکہ ہم بیٹھے ہی ان کے لیے ہیں۔

مرد پولیس افسران کیا کہتے ہیں؟

شیخوپورہ کے تھانہ  فاروق آباد کے ایس ایچ او خرم ڈوگر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ پنجاب پولیس کا انتہائی اچھا اقدام ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ ہراسانی کی رپورٹنگ سب سے مشکل کام ہے۔ پہلے تو کوئی بھی خاتون اسے رپورٹ نہیں کرتیں۔ اگر وہ ہمت کر کے رپورٹ کر بھی دیں تو  تھانے میں سارا سٹاف ہی مردوں کا ہے۔ انہیں خوف ہو تا ہے کہ اب ان سے جانے کیا کیا سوال کیے جائیں گے۔ اس لیے ان سیلز میں خواتین پولیس افسران ہونی چاہیے جو ان کی شکایت سنیں اور اکیلے میں سنیں، وہاں اس وقت کوئی اور موجود نہ ہو۔‘

خرم کے مطابق یہ سیلز پولیس سٹیشنز سے ہٹ کر ہونے چاہئیں، جیسے کسی کمیونٹی سینٹرز وغیرہ میں۔ کیونکہ ’وقوعہ جہاں ہوا ہو اس علاقے کے پولیس سٹیشن میں آکر خواتین ویسے ہی گھبرا جاتی ہیں۔‘

حقوق نسواں کے لیے سرگرم خواتین کی تجاویز

ویمن اینڈ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ سدرہ ہمایوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 509 میں 2010 میں ترمیم ہوئی تھی۔ اس کے مطابق جنسی ہراسانی جو کہیں بھی ہوئی ہو، دفتر میں، گھر میں سڑک پر یا کسی بھی جگہ اس کے خلاف پی پی سی کے اس سیکشن کے تحت پولیس میں درخواست دی جاسکتی ہے۔ بہت اچھا ہو جائے گا اگر سیکشن 509 کے تحت پولیس درخواستیں وصول کرنے لگ جائے اور پولیس کے پاس  بھی کوئی اعدادوشمار آئیں۔‘

سدرہ کہتی ہیں کہ سڑک پر چلنے والی خاتون ضروری نہیں کہ صرف شاپنگ کرنے نکلی ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں دہشت گردی کی وجہ سے جو خواتین بیوہ ہوئیں ان میں ہمارے فورسسز کے شہدا کی بیویاں، بیٹیاں، مائیں، بہینیں بھی ہیں۔ بہت سی خواتین اپنی معاشی ضروریات کے لیے گھر سے نکل رہی ہے۔ ایسے میں معاشرے کے ہر فرد کا یہ وقار ہونا چاہیے کہ وہ اس خاتون کی عزت کرے تاکہ وہ باحفاظت اپنی ضروریات کا سامان لے کر اپنے گھر جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سدرہ کہتی ہیں کہ یہ سیل قائم کرنے سے پولیس پر اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ معاشرہ اپنی اخلاقی ضروریات پوری نہیں کر رہا۔ یہ ایک اچھا قدم ہے، اسے قائم رہنا چاہیے اور پورا فالو اپ ہو نا چاہیے۔ پبلک ہراسمنٹ کی ڈٰیٹا بیس پولیس کو پہلے ہی دن سے بنانی شروع کر دینی چایے۔  جو ملزم اس کیس میں پکڑا جائے اس کی مکمل  پروفائلنگ ہونی چاہیے تاکہ ڈیٹا بیس بنے اور اس شخص کو تین سال کے لیے مانیٹر ضرور کیا جائے تاکہ دیکھا جاسکے کہ اس کے اندر کچھ بہتری آئی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے مختلف اداروں سے مدد لے کر ان چیزوں پر کام کرنا ضروری ہے۔

اگست کے مہینے کی ابتدا میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریپ کے ایک ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) سے جواب طلب کیا تھا کہ ’کیا اینٹی ریپ آرڈینینس پر عمل کروانے کے لیے پولیس نے اینٹی ریپ انویسٹی گیشن یونٹس قائم کیے ہوئے ہیں؟‘ جس کے جواب میں عدالت کو سی پی اوآفس پنجاب کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ  محکمہ کے پاس یہ یونٹس قائم کرنے کے نہ پیسے ہیں نہ وسائل۔

سی پی او کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھاکہ محکہ پولیس کو یہ یونٹ قائم کرنے کے لیے ابتدائی طورپر 4.9 ارب روپے اور سالانہ 2.85 ارب روپے درکار ہوں گے۔ جس پر عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ آئی جی پنجاب اینٹی ریپ آرڈینینس پر فوری عمل کروائیں اور اینٹی ریپ انویسٹیگیشن یونٹس قائم کیے جائیں۔ 

اس فیصلے کے دو ہفتے بعد ہی آئی جی پنجاب نے پیر کے روز تمام اضلاع میں ’اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائلینس سیل‘ قائم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین