پنج شیر ’مداخلت‘: ’ایرانی دہشت گردی کی تحقیقات کی اجازت ہوگی؟‘

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین افغان صوبے پنج شیر میں طالبان کی فتح میں ’بیرونی مداخلت‘ کے ایرانی الزامات پر برہم ہیں اور ایران کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

افغان صوبے پنج شیر میں طالبان مخالف فورسز ٹریننگ کر رہی ہیں (اے ایف پی فائل)

طالبان کی جانب سے افغانستان کے صوبے پنج شیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عملاً پورا افغانستان 20 سال بعد ایک مرتبہ پھر طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔

تاہم بین الاقوامی میڈیا اداروں کی خبروں اور ایران کی جانب سے بیانات سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ طالبان کو پنج شیر میں ’بیرونی مدد ملی‘، جس کا اشارہ اکثر پاکستان پر ہی ہوتا ہے۔ 

بظاہر تو ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا تھا مگر ایرانی میڈیا کے متعدد اداریے اور خبروں میں براہ راست پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگایا گیا تھا۔

ایرانی اخبار روزنامہ جوان میں ایک خبر کی سرخی لگائی گئی کہ تہران نے افغانستان میں بیرونی مداخلت اور مزاحمتی رہنماؤں کے قتل سے خبردار کیا ہے۔

اس خبر میں لکھا گیا کہ کابل کا قبضہ حاصل کرنے کے تین ہفتوں کے بعد طالبان نے پاکستان ملٹری کی مدد سے پنج شیر کا کنٹرول حاصل کر لیا اور اس پر دنیا مکمل خاموش رہی۔

اسی طرح ایرانی اخبار روز نامہ ’اعتماد‘ میں ’پاکستان کی افغان فوج کے معاملات میں مداخلت‘ کے بارے میں لکھا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ’پاکستانی ڈرونز سے افغان رہنماؤں کی ہلاکت ہوئی۔‘ 

روزنامہ ’ایران‘ کی ایک خبر میں میں لکھا گیا کہ پن جشیر میں ہونے والے حملے قابل مذمت ہیں اور افغان رہنماوں کی ہلاکتیں افسوسناک ہیں جبکہ ایران ’بیرونی مداخلت پر غور کر رہا ہے۔

اس کے قبل ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے دو دن پہلے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بھی پاکستان پر پنج شیر میں مداخلت کا براہ راست الزام لگایا تھا۔

 بھارتی میڈیا نے بھی ’جعلی ویڈیوز‘ کا سہارا لے کر یہ کہا تھا کہ پاکستانی ڈرونز اور لڑاکا طیاروں نے پنج شیر پر بمباری کی۔

بعد ازاں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ہی نشاندہی کی گئی کہ جو ویڈیوز بھارتی چینلز پر دکھائی گئی ہیں وہ دراصل ایک ویڈیو گیم ارما تھری سے لی گئی ہیں۔

ایران اور بھارت کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے بعد گذشتہ روز پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں پنج شیر میں پاکستانی مداخلت کے الزامات کو گمراہ کن پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے تردید کی گئی تھی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ پراپیگنڈا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا، جس کی حقیقت دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی طرح پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ایران یا کسی بھی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔

مگر اب سوشل میڈیا پر پاکستانی اکاؤنٹس ایران کے الزامات کا جواب دیتے نظر آ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹوئٹر صارف اسفندیار بھٹانی کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کی گیا جس کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’ایران کا کہنا ہے کہ وہ پنج شیر میں پاکستان کے کردار (جو کہ جھوٹ ثابت ہو چکا ہے) کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ایران خود عراق میں کردوں کو قتل کرتا رہا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

انہوں نے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے تھریڈ میں یہ بھی تحریر کیا کہ پاکستان کی پنج شیر میں مداخلت کے ثبوت تو نہیں ملے تاہم گذشتہ ماہ 11 اگست کو افغانی صوبے فراہ میں طالبان نے دو ایرانی ڈرون مار گرائے تھے۔

رضوان عاطف کا کہنا تھا: ’ایران کسی اور ملک میں دوسرے ممالک کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہے؟ کیا تہران ایرانی دہشت گردی کے دستاویزی ثبوت رکھنے والی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو تحقیقات کی اجازت دے گا؟‘

احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کیا: ’اس وقت دنیا کو مصر کے شہر دررا کے رہائشیوں کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے، جن کا ایران نے قتل عام کیا ہے۔‘

طلحہ حسینی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مصر، عراق، لبنان، بحرین، افغانستان اور پاکستان میں ایران کے کردار کو بھولنا نہیں چاہیے۔‘

نوید احمد نے ایرانی فورسز کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی خبر شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا: ’بین الاقوامی قوانین، سالمیت اور مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا؟ کیا ایران اور خمینی کے حمایتی اس بارے میں کچھ کہیں گے؟‘

پاکستان ڈیفنس نامی اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ ’ایران خودساختہ طور پر خطے کا ’بڑا‘ بنتے ہوئے پنج شیر میں پاکستان کے کردار (جو کہ جھوٹ پر مبنی ہے) کی تحقیقات کر رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو چابہار میں کام کر رہے تھے اور دو ایرانی ڈرونز افغانستان میں گرائے بھی جا چکے ہیں پھر بھی پاکستان نے کبھی بھی ایران پر براہ راست جاسوسی کے الزامات عائد نہیں کیے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل