کراچی کے سرفرز اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کے لیے بیتاب

کراچی کے ساحل ہاکس بے کی ماہی گیر بستی عبدالرحمان گوٹھ کے رہائشی نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت سرفنگ کرتے ہیں۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مشہور ساحل سینڈز پٹ کے پاس ایک درجن کے قریب ہنستے کھلکھلاتے نوجوان سرفنگ بورڈ پر کھڑے لہروں پر پھسلتے نظر آرہے تھے۔

یہ نوجوان کراچی کے ہاکس بے کی ساحلی ماہی گیر بستی عبدالرحمان گوٹھ کے رہائشی ہیں جو پیدل یا موٹرسائیکل پر کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے یہاں سرفنگ کرنے پہنچے ہیں۔

عبدالرحمان گوٹھ کا پُرانا نام بُلیجی ہے، اس لیے گاؤں کے رہائشی نوجوانوں نے ’سرفرز آف بُلیجی‘ کے نام سے سرفنگ کلب بنایا ہے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو سرفنگ سکھا سکیں۔ اس کلب کی سربراہی عرفان عبدال کرتے ہیں۔

عرفان عبدال کے مطابق کراچی کے ہاکس بے، سینڈز پٹ اور مبارک ولیج کے ساحل سرفنگ کے لیے سازگار سمجھتے جاتے ہیں۔ گرم پانیوں والے پاکستان کے ان ساحلوں پر سرفنگ کا سیزن مارچ سے شروع ہو جاتا ہے اور اکتوبر تک چلتا ہے جبکہ سردیوں میں سرفنگ نہیں کی جاتی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان عبدال  نے بتایا: ’عالمی سطح پر اب سرفنگ اولمپکس کا کھیل بن چکا ہے، مگر پاکستان میں حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ اس اہم کھیل پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ کراچی کے ساحل پر مقامی ماہی گیر نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت سرفنگ کرتے ہیں۔ مگر پاکستان میں اس کھیل کا رجحان نہ ہونے کے باعث سرفنگ بورڈ، سرف بورڈ کی موم جس سے سرفر کے پاؤں بورڈ پر مضبوطی سے جمے رہیں، بھی دستیاب نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق: ’ہم نے شروعات میں اپنے بڑوں کو سرفنگ کرتے دیکھا تو ان سے متاثر ہوکر ہم نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت سرفنگ سیکھی اور کھیلنا شروع کی۔ پہلے لکڑی کے عام پھٹے لے کر سرفنگ کرتے تھے۔ اس کے بعد ہم نے ویڈیو دیکھنا شروع کی تو پتہ چلا سرفنگ کے لیے سرف بورڈ ہوتا ہے۔ ہمیں وہ سرف بورڈ ہی نہیں مل رہے تھے، کیوں کہ پاکستان میں سرفنگ نہیں کی جاتی۔ اس کے بعد شیرشاہ اور دیگر کباڑ بازاروں سے استعمال شدہ سرف بورڈ خرید کر ان کی مرمت کرکے استمال کرنا شروع کیا۔‘

عرفان عبدال کے مطابق ان کے سرفنگ کلب میں 12 سے 15 نوجوان سرفر ہیں مگر ان میں چار، پانچ سرفر اس سطح کے ہیں وہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔

’کراچی کے ساحل مبارک ولیج اور بلوچستان کے گڈانی اور کُنڈ ملیر پر پانچ میٹر اونچی لہریں بنتی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہاں جاکر پریکٹس کریں، مگر ہمارے پاس وہاں جانے کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔ اگر حکومت ہماری سرپرستی کرے اور ہمیں سرفنگ کا سامان اور سفری سہولیات دیں تو بہت بڑی لہریں جن کو جاز ویوز کہا جاتا، میں جاکر بھی سرفنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

عبدال نے کہا: ’میں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ اگر پاکستان حکومت ہماری سرپرستی کرے اور ہمیں سہولیات دے تو ہم نہ صرف پاکستان کی عالمی سطح پر نمائندگی کرسکتے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے سرفنگ کا اولمپک میڈل بھی دلاسکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل