’مقناطیسی بم کا حامی‘ کابل یونیوسٹی کا نیا سربراہ

افغانستان کے سب سے بڑے اور اہم تعلیمی ادارے کابل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر ایک بیچلرز ڈگری یافتہ محمد اشرف غیرت کی تقرری نے افغان سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

کابل یونیورسٹی دسمبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کھلنے کا ایک منظر (اے ایف پی)

افغانستان کے سب سے بڑے اور اہم تعلیمی ادارے کابل یونیورسٹی کے سربراہ یا وائس چانسلر کے طور پر ایک بیچلرز ڈگری یافتہ محمد اشرف غیرت کی تقرری نے افغان سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

 کابل یونیورسٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اشرف غیرت نے بدھ کو افغانستان کے نائب وزیر اعلیٰ تعلیم روح اللہ روحانی کی موجودگی میں نئی ذمہ داری سنبھالی۔

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل محمد اشرف غیرت نے جس شخص کی جگہ لی ہے وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے تھے اور انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔

کابل یونیورسٹی کے سربراہ کے طور پر تقرری کے بارے میں اپنے پہلے ردعمل میں اشرف غیرت نے ٹوئٹر پر لکھا: ’میں سب سے پہلے کابل یونیورسٹی کو مغربی اور کافر سوچ، جسم فروشی اور اخلاقی بدعنوانی سے نجات دلانے کی کوشش کروں گا اور اس سائنسی مقام کو اسلامی اقدار کا گہوارا بناؤں گا۔‘

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اس تقرری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک فیس بک صارف رامین انوری نے لکھا: ’کچھ خبریں اور واقعات واقعی آپ کو پریشان کرتے ہیں۔ کابل یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے اس شریف آدمی کی تعیناتی ان خبروں میں سے ایک ہے۔

’ایک شخص جس کا کوئی علمی پس منظر نہیں وہ ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں سے ایک کا سربراہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جو خیالات پیدا کرے اور معاشرے میں کام کرنے کے لیے ماہر قوت فراہم کرے۔

’کابل یونیورسٹی پہلے ہی ایک نازک صورت حال سے گزر رہی تھی، لیکن اب یہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں آچکی ہے جو یقینی طور پر جدید سائنس اور عصری تعلیم کی قدر نہیں کرتے۔‘

ملیئشیا اور سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے والے پرویز مسام نے کہا، ’میں صرف اپنے ملک کے یونیورسٹی اداروں کے لیے رو سکتا ہوں اور بس۔

’کون منطقی طور پر یہ مانتا ہے کہ بیچلرز کی ڈگری جس کے پاس نہ تو کافی کام کا تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس سائنسی کامیابی اور نہ ہی وہ خطے اور دنیا کی یونیورسٹیوں کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔‘

اشرف مذہبی انتہا پسندی کی سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2020 میں ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ اگر کوئی صحافیوں کے قتل کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اس کے مذہب پر شک کریں گے کیونکہ کابل یونیورسٹی کے موجودہ صدر کے خیال میں ایک صحافی طالبان کو اتنا ہی نقصان پہنچائے گا جتنا کہ سو ازبک باغی۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے مقناطیسی بارودی سرنگوں کے ذریعے کار دھماکوں کی حمایت میں لکھا: ’مقناطیس زندہ باد!‘

اشرف غنی کے دور میں طالبان کی طرف سے استعمال ہونے والی ان مقناطیسی بارودی سرنگوں میں سے کئی نے شہری گاڑیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

تاہم، اشرف غیرت ان کی طالبان امارت اسلامیہ کی نظر میں ماہر ہیں۔ طالبان نے منگل کو اپنی کابینہ میں توسیع کا اعلان کیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ اس بار نئی شخصیات کی تقرری ماہرانہ صلاحیت کے ایک اصول پر کی گئی ہے۔

شاید ذبیح اللہ مجاہد کا مطلب یہ ہے کہ وزارت تجارت کے سربراہ نورالدین عزیزی ایک تاجر ہیں۔ مزید یہ کہ نذر محمد کو کھیلوں کا نگران بنایا گیا ہے جنہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے، کھیلوں کی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر طالبان رہنما ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے صرف عام مذہبی علوم سبق اور علم سے سیکھے ہیں۔

ان میں سے بیشتر کو دیوبندی حقانی مدرسوں میں بنیادی مذہبی علوم پڑھائے جاتے ہیں، جو پاکستان کے انتہائی انتہا پسند سکولوں میں سے ایک ہے۔

وہ اپنے اندر مختلف علوم کے ماہر نہیں تلاش کر سکتے اور لامحالہ ایسے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں جنہیں متعلقہ شعبے کا کم ہی علم ہے۔

مثال کے طور پر محمد اشرف غیرت نے ایک بار مغربی افغانستان میں طالبان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کام کیا تھا اور وہ طالبان کے الحجرہ انسٹی ٹیوٹ کے انچارج تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر کابل یونیورسٹی نے نئے صدر(چانسلر) کی تعیناتی پر موقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل یونیورسٹی ایک تاریخی درس گاہ ہے جس کے لیے ضروری ہے اس کی حیثیت برقرار رہے۔

پریس ریلیز کے مطابق نئی تبدیلیوں کی وجہ سے یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عثمان بابری نے ہائر ایجوکیشن وزارت کو بتایا کہ وہ چھ ماہ کے لیے جرمنی میں تحقیق کے سلسلے میں جا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وزارت اعلیٰ تعلیم نے یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن وزارت کے مابین بہتر رابطے کے لیے محمد اشرف غیرت کو عبوری سربراہ مقرر کیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق اشرف غیرت کابل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے فارغ التحصیل ہیں اور اس سے پہلے ہائر ایجوکیشن وزارت کے کلچر شعبہ میں کام کر چکے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ تعیناتی عبوری ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں تبدیلی آسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس