نواز شریف کی ویکسینیشن کا اندراج پاکستان میں کیسے ہو گیا؟

نادرا ریکارڈ کے مطابق ان دنوں لندن میں رہائش پذیر نواز شریف کو 22 ستمبر کو سائینو ویک کی پہلی ڈوز لگائی گئی جب انہیں دوسری خوراک کے لیے 20 اکتوبر کو آنا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف گذشتہ کئی مہینوں سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے شناختی کارڈ نمبر پر ویکسین لگوائے جانے کے ڈیٹا کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ریکارڈ کے مطابق نواز شریف کو ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی گئی تھی جس پر سابق وزیراعظم کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

لاہور میں کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کے ویکسینیشن سینٹر میں نواز شریف کو کرونا ویکسین لگائے جانے کا اندراج کرنے والے محکمہ صحت کے دو اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں۔

تاہم میڈیا میں اطلاعات سامنے آنے کے بعد حکام کی جانب سے ان کا سٹیٹس تبدیل کرتے ہوئے اب 1166 سے جو پیغام موصول ہو رہا ہے اس کے مطابق سابق وزیر اعظم کا شناختی کارڈ نمبر بھیجنے پر انہیں قریبی ویکسی نیشن مرکز سے ویکسین لگوانے کا کہا جا رہا ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

نادرا کے ریکارڈ میں گذشتہ روز نواز شریف کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سائینوویک کی پہلی ڈوز لگنے کا ریکارڈ درج کیا گیا ہے، جس کی انٹری ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ویکسینیٹر نوید الطاف نے بدھ ( 22 ستمبر) کو شام چار بجکر پانچ منٹ پر کی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے عدالتی ریکارڈ میں موجود شناختی کارڈ نمبر سے جب 1166 پر میسج کیا گیا تو وہاں سے ہدایات ملیں کہ انہیں سائینوویک ویکسین کی پہلی ڈوز لگادی گئی ہے اور دوسری کے لیے 20 اکتوبر کو بلایا گیا ہے۔

بغیر ویکسین لگائے ریکارڈ کیسے درج ہوا؟

ترجمان محکمہ سیکنڈری اینڈ ہیلتھ کیئر پنجاب عبدالواحد نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا کہ ’پنجاب میں ان دنوں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سائینوویک ویکسین لگائی جارہی ہے اور جو بھی ویکسین لگواتا ہے اسی کا ریکارڈ نادرا میں درج کیا جاتا ہے۔ جہاں تک بات نواز شریف کے شناختی کارڈ نمبر پر ویکسین لگوانے کی ہے تو ایسا ممکن تو نہیں کیونکہ ان کا شناختی کارڈ تو حکومت نے بلاک کر رکھا ہے اور بلاک شناختی کارڈ پر ریکارڈ درج نہیں ہوسکتا لیکن اگر شرارت کے طور پر کسی نے درج کردیا ہو تو کچھ کہا نہیں جاسکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالواحد کے بقول: ’کرونا ویکسین لگانے کا نظام بڑا سخت ہے اور جو ویکسین لگواتا ہے اسی کا ریکارڈ درج ہوتا ہے تاہم اس معاملے کی تحقیق کی جارہی ہے اور جو بھی اس لاپروائی کا مرتکب ہوا، اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ پنجاب میں انڈپینڈنٹ اردو کی تحقیقات کے مطابق بغیر ویکسین لگوائے نادرا سرٹیفکیٹس کے اجرا اور مختلف ناموں سے جعلی اندراج کا سلسلہ آغاز سے ہی جاری ہے اور کئی شہریوں کی شکایات سامنے آئیں کہ بغیر ویکسین لگوائے ان کے شناختی کارڈ نمبر پر ویکسین لگوانے کا ریکارڈ درج کردیا گیا ہے۔

ان شکایات کے بعد محکمہ ہیلتھ پنجاب نے نظام میں بہتری کا دعویٰ بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود نواز شریف کے لندن میں ہونے کے باوجود یہاں ریکارڈ درج ہونے سے اس دعوے کی حقیقت کھل گئی۔

معاملے پر تشویش ہے: مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اس معاملے پر تشویش اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس کے سلسلے میں کیس کی سماعت کے موقع پر احاطہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ ’مجھے اس خبر پر تشویش ہوئی۔ اگر یہ آپ کا سسٹم ہے کہ جعلی طریقے سے ویکسین کا اندراج کیا جارہا ہے تو اس کا عالمی ردعمل آسکتا ہے۔‘

انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ ’حکومت کی ہر چیز کی طرح ویکسین کا اندراج بھی جعلی ہے۔‘

اس سے قبل مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اسے ’حکومت کی ناکامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’نواز شریف لندن میں ہیں اور نادرا میں بغیر ویکسین لگوائے ان کا ریکارڈ درج کردیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے ویکسین لگانے کا کتنا شفاف انتظام قائم کر رکھاہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان