’ٹیکا نہیں لگوانا، پیسے لے کر سرٹیفکیٹ دے دیں‘

لوگوں کے کرونا ویکیسن نہ لگوانے کے حوالے سے جب ایک سینٹر کی ان چارج ڈاکٹر ثنا سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ویکسین لگائے بغیر سرٹیفکیٹ دینے والے ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف کے لوگ اپنے پیشے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک طالبہ کو کرونا ویکسین لگائی جا رہی ہے (اے ایف پی فائل)

حال ہی میں گلوکار علی آفتاب سعید نے کرونا ویکسین کی آگاہی سے متعلق اپنا ایک گانا ’ٹیکہ‘ ریلیز کیا ہے جس میں وہ لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ کسی بھی سازشی نظریہ پر یقین کرنے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بچانے کے لیے کرونا کا ٹیکہ ضرور لگوائیں۔

اپنے اس گانے میں ہلکے پھلکے انداز میں علی نے لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے اس ویکسین میں کوئی ’چپ‘ موجود نہیں ہے، اگر کسی نے ہماری معلومات لینا ہوئیں تو اس کے لیے وہ باآسانی ہمارا موبائل فون استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی انہوں نے ہمیں اپنی مصنوعات بیچنی ہیں تو وہ ہمیں ٹیکے سے کیوں کر ماریں گے؟

علی کو اپنا یہ گانا بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اب بھی ہمارے ہاں بہت سے لوگ ویکسین لگوانے سے کتراتے ہیں۔ اس کی وجہ بہت سے سازشی نظریات پر یقین رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 22 کروڑ آبادی کے ملک میں اب تک محض دو کروڑ لوگوں کو ہی مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے۔

ویکسین کی پہلی خوراک حاصل کرنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ 80 لاکھ کے قریب ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کئی افراد جنہوں نے پہلی خوراک تو حاصل کرلی وہ دوسری خوراک حاصل کرنے میں شاید دلچسپی نہیں لے رہے۔

پھر ان میں بھی ویکسین لگوانے والے کئی ایسے افراد بھی ہیں جن کو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ویکسین لگوانا پڑی۔ کسی کو اپنی نوکری کی مجبوری تھی تو کسی کو کاروبار کی۔ اسی طرح کراچی اور سندھ میں حکومت کی طرف سے سم بند کیے جانے کے خوف سے بہت سے لوگوں کو ویکسین لگوانا پڑی۔

مطلب اگر سرکاری یا نجی اداروں کی طرف سے یہ سب پابندیاں نہ لگائی جاتیں تو شاید ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد جتنی اب ہے، اتنی بھی نہ ہوتی۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کئی لوگ ویکسین لگوائے بغیر ہی ویکسین کارڈ حاصل کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساہیوال کے ایک سرکاری ہسپتال میں قائم کردہ کرونا ویکسین سینٹر میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ وہاں پر لوگ آ کر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم نے ٹیکہ نہیں لگوانا، آپ بس پیسے لے کر سرٹیفکیٹ دے دیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کے نام پر جاری شدہ ویکسین یا تو مبینہ طور پر ضائع کر دی جاتی ہے یا پھر وہ کہیں اور بیچ دی جاتی ہے۔ اس طرح سے ان لوگوں کا نام ویکسین لگوانے والے افراد کی لسٹ میں تو آجاتا ہے مگر حقیقت میں ان کو ویکسین نہیں لگی ہوتی۔ جس سے ویکسین لگوانے والے افراد کے اعدادو شمار کی صداقت پر بھی سوال اٹھ جاتا ہے۔

اس فعل کے مرتکب افراد جہاں اپنے اور دوسرے لوگوں کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں وہاں اس میں شامل ڈاکٹرز بھی برابر کے شریک جرم ہیں جو اس کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو جانتے ہوئے بھی ویکسین لگائے بغیر لوگوں کو پیسے کے لالچ میں سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں۔

لوگوں کے کرونا ویکسین نہ لگوانے کے حوالے سے جب ایک سینٹر کی انچارج ڈاکٹر ثنا سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ویکسین لگائے بغیر سرٹیفکیٹ دینے والے ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹاف کے لوگ اپنے پیشے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ’لوگ مجھے بھی کہتے ہیں کہ ویکسین لگائے بغیر سرٹیفکیٹ دے دیں لیکن وہ لوگوں ویکسین لگوانے پر قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ان کے نزدیک لوگوں کے ویکسین نہ لگوانے کی کچھ وجوہات تو وہی ہیں جو کہ سازشی نظریات پر مبنی ہیں جیسا کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ ویکسین لگنے کے دو سال بعد ان کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ کچھ لوگ جو پہلے ہی کسی بیماری جیسے ہائی بلڈ پریشر یا شوگر میں مبتلا ہوتے ان کو یہ لگتا کہ کرونا ویکسین سے ان کی بیماری بڑھ سکتی یا ان کو کوئی اور مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کا خیال ہے کہ کرونا ویکسین سے ان کے بچے پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔

پھر کئی لوگ آ کر یہ کہہ دیتے کہ کرونا تو ویکسین لگنے کے بعد بھی ہو رہا ہے تو پھر وہ کس لیے ویکسین لگوائیں؟ ڈاکٹر ثنا نے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں میں موجود ان تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے جہاں پر سرکار کی طرف سے کرونا آگاہی مہم کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے وہاں پر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی آگے آ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس ضمن میں گلوکار علی آفتاب سعید کی کاوش کو سراہا جانا چاہیے اور دیگر لوگوں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے بلکہ ہوسکے تو سرکار کو چاہیے کہ وہ علی جیسے لوگوں کو ساتھ ملا کر کورونا ویکسین سے متعلق غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کریں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ علی آفتاب جب اپنے اس گانے کا آئیڈیا لے کر سرکاری حکام کے پاس گئے تو ان کو سراہا جانا تو درکنار ان کی بات بھی کسی نے صحیح طریقے سے نہیں سنی۔

اور پھر علی کو خود ہی اپنے پیسوں سے اس گانے کی ویڈیو بنانا پڑی۔ اس سے سرکار کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اگر سرکار کی روش یہی رہی اور لوگوں کا سوچنے کا انداز نہ بدلا تو پولیو کی طرح کرونا کے معاملے میں بھی شاید ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا رہے گا جو اس وبا سے نجات حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ