کامیابی لالچ کا نام ہے یا اس کے سفر میں نکلی چیخوں کا؟

کامیابی ہنستے رہنے سے کیوں نہیں مل جاتی؟ غم دماغ میں جمع کیوں رہتے ہیں، محرومیاں اکٹھی کیوں ہوتی ہیں اور کامیابیاں جیسے ہی مل جائیں تو اگلی کی تلاش میں انسان کیوں خوار ہونے لگتا ہے؟

زندگی کی گیم لالچ پہ چل رہی ہے اور وہی لالچ تکلیفیں لاتی ہے، پریشانیاں لاتی ہے، عذاب لاتی ہے لیکن وہ لالچ ہماری فطرت میں ہے(تصویر: پکسابے)

ہماری چیخوں کا نام بعد میں کامیابی رکھ دیا جاتا ہے۔

دنیا مبارک بادیں دینے آئے گی، مٹھائیاں بٹیں گی، تحفے ملیں گے، ستائشی راگ گائے جائیں گے، شریکے جلیں گے، دوست رشک کریں گے لیکن کامیابی کے پیچھے جو کڑاکے نکلے تھے وہ کس کھاتے میں جائیں گے؟ اور پھر اگلی کامیابی کے لیے وہی سب کچھ دوبارہ سے ہوگا کیا؟

فرض کیا آپ میٹرک میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے۔ کیا کہنے، سبحان اللہ! لیکن اس سے پہلے جو سٹریس لیا، راتوں کو جاگ کے پڑھائیاں کیں، صبح تڑکے اٹھ کے زیرو پیریڈ لیے، کبھی ڈنڈے کھائے، کبھی سواری نہ ہونے پر پیدل سکول گئے، ماں باپ نے کچی سے دسویں تک جس طرح پاپڑ بیل کے فیسیں بھریں، جو بھی تکلیفیں اس دوران آئیں، ہوم ورک کرنے یا نہ کرنے کی جو ٹینشنیں رہیں ۔۔۔ بارہ سال کا وہ مکمل پیکج ایک کامیابی کے پردے میں چھپ گیا کیا؟

یا دوبارہ فرض کر لیں کہ اولاد کو اچھی نوکری مل گئی، بڑی کامیابیاں مل گئیں، وہ سب کچھ ہو گیا جو آپ کی خواہش تھی، لیکن اس کے پیچھے کیا کیا کچھ تھا کبھی سوچا؟ سب سے پہلے تو پیدائش کے مرحلے سوچیں۔ پہلے ہفتے سے لے کر نو مہینے تک جن مسائل سے ماں گزری، کسی حد تک باپ بھی گزرا، پھر اس کے بعد جب اولاد وجود میں آ گئی تو اس کی راتوں کے جگاروں سے لے کر دودھ، پیمپر اور کپڑوں کے کمر توڑ خرچے، پھر پڑھائی کی فیسیں، پھر روزانہ کی بنیاد پر نئی ٹینشنیں، نئی شکائتیں، نئے ازالے، کمپلیکس زندگی ۔۔۔ اور پھر ایسے کئی بڑے بڑے مرحلے پار کر کے جب اچھی نوکری یا کوئی ’بڑی کامیابی‘ مل گئی تو اس پورے سفر کی تکلیفیں کس کھاتے میں گئیں؟ انہیں ہر بندہ اپنے اپنے فرائض میں فِٹ کر لے یا بھول جائے؟

کوئی ایک بھی کامیابی اٹھا کے دیکھ لیں اس کے پیچھے آہوں، رت جگوں، چیخوں، غموں اور تکلیفوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ نظر آئے گا پر وہ کسی قطار میں نہیں آتا۔ کامیاب ہو گئے تو سب کچھ بُھلا دیا، لیکن جب سر پہ پڑی تو وقت کیسے گزرا تھا، وہ کس طرح بھلایا جائے؟

کوئی فلم دیکھیں، ناول پڑھ لیں، ڈرامہ لگائیں ۔۔۔ جو کچھ ہیرو اور ہیروئن پہ گزر رہا ہو گا وہ سب آپ اپنے اوپر طاری کریں گے، ان کی خوشی میں خوش ہو گے، ان کے دکھوں میں روئیں گے، انہیں کچھ فائدہ ملے گا تو خوش ہوں گے، ان کے جیسا بننا چاہیں گے لیکن اگر اس میں کوئی ایک کردار کسی جوکر کا ہوا، کسی کامیڈین کا ہوا، کسی ہنستے رہنے والے انسان کا ہوا تو کیا وہ بننا چاہیں گے آپ؟

کسی فلم میں عامر خان بری طرح پٹ رہا تھا، اس کے ماتھے پہ چوٹ لگی، منہ بھی زخمی ہوا، ہونٹوں سے خون نکلا، اس نے ہاتھ کا پچھلا حصہ منہ پہ پھیرا، ہونٹوں کا خون کلائی پہ لگا نظر آیا تو وہ غضب ناک ہو گیا۔ اس کے بعد سلوموشن میں اسے زمین سے اٹھتا دیکھا اور پھر اس نے جو کُٹ لگائی ولن کی، جس طرح ایک ایک آدمی کو پھینٹا، وہ سارے منظر مجھے یاد ہیں اب تک، لیکن اس فلم میں ایک کامیڈین بھی تھا۔ اس کا ایک سین بھی یاد نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

کامیابی ہنستے رہنے سے کیوں نہیں مل جاتی؟ غم دماغ میں جمع کیوں رہتے ہیں، محرومیاں اکٹھی کیوں ہوتی ہیں اور کامیابیاں جیسے ہی مل جائیں تو اگلی کی تلاش میں انسان کیوں خوار ہونے لگتا ہے؟ وہ کیوں بھول جاتا ہے کہ جب ہیرو طیش میں آ کر اٹھا تھا اور اس نے سارے ولنوں کی پھینٹی لگائی تھی تو اس سے پہلے رج کے اس نے مار کھائی بھی تھی، خون بھی بہا تھا، سر بھی پھٹا تھا، وہ سیدھا گھر سے آ کے صاف ستھرے کپڑوں میں فائٹ سین کر کے واپس نہیں چلا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو کیا ہم اس سے یہ دو نتیجے نکال سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ خوشی ہمیں یاد رہتی ہے اور نہ ہنسی خوشی کوئی کامیابی ہمیں کبھی ملتی ہے۔ دوسرا یہ کہ کامیابی دکھوں کے ایک پورے پیکج کا نام ہے لیکن اس سب سے گزرنے کے بعد ہم پھر سے کسی اگلے تکلیف دہ سفر کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، کسی اگلی ’کامیابی‘ کے لیے۔

اگر ایسا ہے تو پھر ہم خوش کیوں رہنا چاہتے ہیں؟ آسانیوں کے انتطار میں کیوں ہوتے ہیں؟ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی ہمیں خوشیوں سے مزید دور کرے گی، دُکھوں کا ایک دریا پار ہونے پہ ملے گی، اس میں غوطہ کیوں مارنا چاہتے ہیں؟ کیا ہماری فطرت میں آرام ہے لیکن ساتھ ساتھ لالچ بھی ہے کسی بڑے منصب کا؟ کسی بڑی ڈگری کا؟ کسی بڑے مکان کا؟ کسی بڑے صلے کا؟ کسی بڑے ثواب کا؟ کسی بڑی اچیومنٹ کا؟

پھر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ کامیابی لالچ کا دوسرا نام ہے؟

بھئی جب علم تھا کہ سب مشکلیں آئیں گی، سب تکلیف دہ مرحلے آئیں گے، ہزاروں سال سے انسانی تاریخ کا نتیجہ سامنے تھا، لیکن پھر بھی انہی ہزاروں انسانوں کی طرح ’کچھ پانے‘ کے لیے ’کچھ کھونے‘ کی جو کوشش آپ نے شروع کی اور اس میں سرخ رُوئی بھی نصیب ہوئی تو کیا یہ لالچ نہیں تھی؟

زندگی کی گیم لالچ پہ چل رہی ہے اور وہی لالچ تکلیفیں لاتی ہے، پریشانیاں لاتی ہے، عذاب لاتی ہے لیکن وہ لالچ ہماری فطرت میں ہے۔

ہمیشہ ہنسنے والا آدمی ’سائیں لوک‘ تو ہوسکتا ہے ساونت نہیں ہو سکتا۔   

تو گویا یہ طے ہو گیا کہ لالچ ہمیں اس اندھی گھاٹی میں دھکیلتی ہے، جس سے نکلنے پہ سورما یا ’کامیاب‘ بنے ہوئے ہم لوگ پیچھے مڑ کے دیکھتے ہیں اور بھولے بن کر پوچھتے ہیں کہ دھکا کس نے دیا تھا؟

بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ بیٹا ’نو پین نو گین‘ لیکن جب وہی گین کے لیے اختیار کیا ہوا پین کڑاکے نکالتا ہے تو روتے بھی ہیں؟

زندگی کامیابی کے پیچھے بھاگتے رہنے کا تکلیفوں بھرا سفر ہے۔ کامیڈین کی باتوں پہ ہنستے سب ہیں لیکن ہنسنے ہنسانے والا کوئی نہیں بننا چاہتا، سب کو ویسا ہیرو بننا ہے جو ہونٹ پھٹنے پہ کلائی سے لگا خون پونچھے، اسے دیکھ کر جوش میں آئے، دشمنوں کی پھینٹیاں لگائے اور اسے ’کامیابی‘ نصیب ہو۔

جندے نی کی لچھن تیرے

پھنیر نال یرانے وی نیں

جوگی ول وی پھیرے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ