آپ کو کیا سمجھ آئی؟

ایک لڑکی وہ ہے جو یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور جس نے عملی زندگی میں قدم رکھنا ہے اور دوسری وہ ہے جو عملی زندگی میں قدم رکھ چکی ہے لیکن اس کو بھی یہ خیال آیا ہے کہ مارکیٹ میں، پارکوں میں، دفاتر میں، غرض ہر جگہ ہراسانی کا سامنا تو کرنا ہی ہے۔

12 ستمبر 2020 کی اس تصویر میں لاہور میں خواتین موٹروے  پر ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے خلاف احتجاج میں شریک ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایک 19 سالہ لڑکی گاڑی چلاتی ہوئی پیٹرول ڈلوانے کے لیے مڑتی ہے۔ غلطی اس کی یہ تھی کہ مڑنے سے قبل اس نے مڑنے کا اشارہ نہیں دیا۔ پیچھے آنے والے موٹر سائیکل سوار کو بہت غصہ آیا۔ لڑکی جیسے ہی پیٹرول پمپ پر رکی تو موٹر سائیکل سوار بھی اس کے قریب آ کر رکا۔

اس کے بعد اس لڑکی کے ہوش اڑ جاتے ہیں جب یہ شخص، جس کی لمبی داڑھی ہے اور عمر کم از کم 45 سے 50 سال ہوگی، اسے گالیوں سے نوازنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ لڑکی پہلے تو ہکا بکا رہ جاتی ہے، لیکن پھر موٹرسائیکل سوار سے معذرت کرتی ہے کہ وہ اشارہ دیے بغیر مڑ گئی۔

بات ختم ہو جانی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئی۔ وہ شخص گالیاں اور برا بھلا کہتا رہا اور یہ لڑکی آنسوؤں کے ساتھ پریشان صورت لیے اسے دیکھتی رہی۔ جب دل کی بھڑاس اچھی طرح سے نکل گئی تو وہ موٹر سائیکل سوار وہاں سے روانہ ہو گیا۔

یہ واقعہ اسلام آباد کے سی ڈی اے سیکٹر ڈی 12 میں شام ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ اس وقت پیٹرول پمپ کا عملہ بھی موجود تھا، پمپ پر چار گاڑیاں بھی موجود تھیں، لیکن مجال ہے جو کسی ایک شخص نے بھی آگے بڑھ کر اس شخص کو روکنے کی کوشش کی ہو۔

موٹر سائیکل پر کوئی کم پڑھا لکھا شخص ہوتا تو چلو یہ سوچا جاسکتا ہے کہ کم علمی کے باعث ایسا کر دیا، لیکن یہ شخص پڑھا لکھا تھا اور اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی گالیاں دے رہا تھا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی گئی تو موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ نظر نہیں آئی۔

اب یہ لڑکی اپنی دوستوں کے ہمراہ اس امید کے ساتھ روز اس علاقے جاتی ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ شخص ضرور ملے گا۔ میں نے پوچھا: ’مل گیا تو کیا کرو گی۔ مارو گی؟ پولیس کے حوالے کرو گی یا گاڑی چڑھا دو گی؟‘

اس نے کہا کہ ’آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ مجھ پر کیا گزر رہی تھی جب دس سے 12 لوگوں کے سامنے وہ 50 سالہ شخص اونچی آواز میں گالیاں دے رہا تھا اور میں سکتے میں بیٹھی تھی۔ اگر میری جگہ کوئی لڑکا یا مرد گاڑی چلا رہا ہوتا تو وہ اسی طرح گالیاں دیتا؟‘

میں لاجواب تھا۔ اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ’میں اس شخص کو ڈھونڈ نکالوں گی۔ آج نہیں ایک ہفتے بعد، ایک مہینے بعد لیکن جس دن وہ مل گیا تو میں بھی اسے اونچی آواز میں سب کے سامنے گالیاں دوں گی۔ اس کو بھی معلوم ہو کہ ایک نوجوان لڑکی سے گالیاں سن کر کیسا لگتا ہے۔ وہ بھی میری طرح ساری رات اس سوچ میں جاگتا رہے کہ یہ کیوں ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب لاہور میں ایک اور خاتون اپنے گھر پیدل جا رہی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے ان کے قریب سے گزرتے ہوئے بوسہ لینے کی آواز نکالی اور پھر پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہوا آگے نکل گیا۔ کچھ آگے جا کر اس نے مڑ کر دیکھا اور ہاتھ ہلایا۔ یہ واقعہ ان کے گھر سے ایک سو گز کے فاصلے پر پیش آیا۔

اس واقعے کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے خاتون نے لکھا کہ ’میں ہمیشہ پیدل سفر کرتی ہوں، یہ میرا محلہ ہے اور میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ شخص نہیں پکڑا جائے گا لیکن اس نے مجھ سے میرے اپنے محلے میں محفوظ رہنے کا احساس چھین لیا ہے۔‘

یہ دونوں کتنی ہی بہادر کیوں نہ ہوں لیکن ان ہراساں کرنے والوں نے ان کے دلوں میں ڈر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ کیا میں سورج ڈھلنے کے بعد ڈرائیونگ کروں؟ کیا میں اکیلے ڈرائیو کروں؟ کیا میں پیدل گھر جاؤں جو محض ایک سو گز دور ہے؟

ایک لڑکی وہ ہے جو یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور جس نے عملی زندگی میں قدم رکھنا ہے اور دوسری وہ ہے جو عملی زندگی میں قدم رکھ چکی ہے لیکن اس کو بھی یہ خیال آیا ہے کہ مارکیٹ میں، پارکوں میں، دفاتر میں، غرض ہر جگہ ہراسانی کا سامنا تو کرنا ہی ہے۔

ان دونوں واقعات سے آپ کو کیا سمجھ آئی؟ ان دونوں کے ایکشن سے واضح ہے کہ ان دونوں کو ہی قانون پر اعتماد نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے کو اپنے طور پر حل کرنا چاہتی ہیں یا پھر وہ قانونی کارروائی کے طویل فرسودہ نظام سے گزرنا نہیں چاہتیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ