’اللہ ہمیں حقیقی رہنما عطا کرے‘

15 روز قبل بھی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے چھ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا اس طرح 15 دنوں کے دوران حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کل نو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 127.30 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے  (تصویر:اے ایف پی فائل)

پاکستان کی وفاقی حکومت نے گذشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں چار روپے جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے جس کے بعد جمعے کی صبح ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج اور واک آؤٹ کیا۔

15 روز قبل بھی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے چھ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا اس طرح 15 دنوں کے دوران حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کل نو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سینیٹ کے آج ہونے والے اجلاس سے اپوزیشن کے احتجاج اور واک آؤٹ کے موقع پر سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے بجائے غریبوں کی طرف دیکھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اُدھر عوام بھی پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کی وجہ سے پریشان نظر آتے ہیں۔

صارفین سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور ٹویٹر پر پیٹرول پرائس ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ٹویٹر صارف شہزاد نے عمران خان کی تصویر کے ساتھ تحریر کیا: ’ایک بار انہوں نے کہا تھا میں ان کو رلاؤں گا اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘

حسان بن احسن نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد عمران خان کو مزید سپورٹ نہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ  ’پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح 127.30 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے۔ اب میں عمران خان کو مزید سپورٹ نہیں کروں گا۔‘

بہت سے سہانے خواب اگر میں منتخب ہو گیا تو۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔ کہہ کر ہمیں دکھائے گئے۔

اللہ ہمیں حقیقی رہنما عطا کرے۔‘

ایک اور ٹویٹر صارف فاطمہ خان کو پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر نواز شریف کی یاد ستانے لگی۔ انہوں نے تحریر کیا: ’عمران خان نے پاکستانی معیشت تباہ کر دی ہے۔ افراطِ زر تین فیصد سے 10 فیصد پر پہنچ گیا۔ اب پاکستانیوں کو نواز شریف دور کے سنہرے دن واپس چاہییں۔‘

نادیہ طاہر نے حکومت کو سپورٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پوری دنیا انرجی کرائسس کا سامنا کر رہی ہے مگر کسی نے بھی پاکستانیوں کی طرح وزیر اعظم کو اس کے لیے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ