خط والی باتیں فونوں پہ نہیں ہوتیں، کیا خیال ہے؟

خط شاید ایک پرسنلائزڈ نوٹ ہوتا تھا یا اسے سنبھال کر رکھا جا سکتا تھا، یا اس میں لکھنے والا سامنے بیٹھا محسوس ہوتا تھا۔۔۔ جو کچھ بھی کہیں، خط ایک رومانس تھا زندگی کا جو اب نہیں ہے۔

چھو لینا اور چھونے کو ترسنا ۔۔۔ آپ ان دونوں کیفیات میں فرق کر سکتے ہیں؟ 

انتہائی قریب لوگوں کی دوری سے ہم آدھا مر چکے ہوتے ہیں۔ کسی کو نہیں کہتے، کبھی اس موضوع کو باتوں میں نہیں آنے دیتے کہ چہرہ خواہ مخواہ پریشان نہ کرے لیکن بہرحال، وجود مکمل نہیں رہ جاتا۔  

اس معاملے میں خط بڑی عجیب چیز ہوتا تھا، وہ کم از کم چہرہ نہیں دکھاتا تھا۔

بہت زیادہ ہوا تو آپ کوئی خاص کاغذ سلیکٹ کرتے تھے، پینسل سے لکھنا ہے، روشنائی والے پین سے لکھنا ہے، کتنا لمبا یا کتنا مختصر لکھنا ہے بس یہ سب چیزیں طے کرکے بندہ بات چیت شروع کر دیتا تھا۔ لہجہ بنا کر، آواز زبردستی فریش کرکے، یا چہرے پہ مصنوعی تازگی لا کر آمنے سامنے بات کرنے کا دور دور تک کوئی تصور نہیں ہوتا تھا۔ خاص ’کیئر‘ یا خاطر داری کا دھیان ہوتا تو الگ سے کوئی خوبصورت لفافہ خرید کے ارجنٹ میل سے خط پوسٹ کر دیا جاتا۔

ہاں، کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ لکھتے لکھتے سب کچھ کاٹ کر دوبارہ نیا کاغذ اٹھا لیا جاتا۔ کئی خط پورے کے پورے بھی ایسے ہوتے تھے جو لکھنے کے بعد پوسٹ نہیں کیے جاتے تھے۔ معمولی سی خیر خیریت لکھ کر ایک الگ پرچہ بھیج دیا جاتا، نہ بھیجے گئے خطوں سے بھی فائلیں بھر جایا کرتی تھیں۔

اس کے بعد اصل مرحلہ شروع ہوا کرتا تھا، خط کا انتظار۔ ایک مستقل بے یقینی کی کیفیت۔ خدا جانے جواب آئے گا، نہیں آئے گا، کب آئے گا، کیا وہی لکھا ہو گا جو ہم پڑھنا چاہتے ہیں؟ اور اس سب کے ساتھ وہی روح تک کو سُکھا دینے والی بے یقینی۔ کان ہر آہٹ پر، دروازے کی آواز پر، ڈاکیے کی سائیکل والی گھنٹی پر، آنکھیں دور افق پر، دماغ ہونے اَن ہونے اندیشوں پر اور جب دس پندرہ دن بعد جواب آ بھی جاتا تو ایک اور خیال یہ آتا تھا کہ اسے تو لکھے ہوئے بھی دس دن گزر گئے، اب وہاں کیا حال ہوگا؟ 

ایسے میں اتنے انتظاروں اور دعاؤں کے بعد ہاتھ آیا کاغذ کا وہ ٹکڑا دل و جان سے پیارا ہو جایا کرتا تھا۔ انتہائی قریب لوگوں کی دوری سے آدھے مر چکے لوگوں کو تھوڑی بہت زندگی اس کاغذ کو چھونے سے مل جاتی تھی، جسے خط کہتے ہیں۔

خط چومے جاتے، ان کی خوشبو محسوس کی جاتی، انہیں آنکھوں سے لگایا جاتا، سینے کے ساتھ باندھ لیا جاتا اور وہ ایک بے جان پرزہ کئی مرتبہ راتوں کو جیتا جاگتا وجود بھی بن جایا کرتا۔

میں نے ساری زندگی کاروباری پیغاموں کے علاوہ خط یا کارڈ کسی کو پھینکتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ نے دیکھا ہے کیا؟ 

موبائل فون پر ویڈیو کال کرتے ہوئے ماں بیٹے سے بات کرسکتی ہے، اس کی شکل دیکھ سکتی ہے لیکن اسے محسوس نہیں کر سکتی، الٹا تڑپ مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہ جو اولاد کو یا میاں بیوی کو، بہن بھائی کو، محبوب کو چھو لینا ممکن ہوتا تھا وہ لمس کی حس یا کہہ لیجیے تعلق کی تیسری ڈائمینشن صرف خط میں ہی پوری ہوتی تھی۔ آپ کبھی فون کال ریکارڈ کر کے دیکھ لیں۔ زیادہ تر باتیں روزمرہ کی ہوں گی، سب کے حال چال پوچھے جائیں گے، موسم ہو گا، خاندان کا حال حوال ہو گا، تازہ واقعات ہوں گے اور تقریباً ایک جیسی باتیں ہر دو چار دن کے وقفے سے دہرائی جا رہی ہوں گی۔ خطوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔  

خط لکھنے والا پوری طرح کمپوزڈ ہو کے بیٹھتا تھا، دماغ پہ زور دے کر عبارت لکھی جاتی تھی، پھر اس میں کئی باتیں ایسی بھی ہوتی تھیں جو فون پر ممکن ہی نہیں ہیں۔ زندگی کے فلسفے ہوتے تھے، شاعری ہوتی تھی، پچھلے کئی ہفتوں کی خاص خاص باتیں ہوتی تھیں، نئے سنے جانے والے گانوں کا تذکرہ ہوتا تھا، مکمل فلم کا خلاصہ لکھ دیا جاتا تھا، اب یہ سب کچھ فیس بک پر ہوتا ہے اور وال پوسٹس کے ملبے تلے کہیں دفن ہو جاتا ہے۔ حالات حاضرہ پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں، دوست لائک کمنٹ دیتے ہیں، روح کی خوراک پوری ہوتی ہے اور اگلے دن پھر وہی سب کچھ دہرایا جاتا ہے۔ خطوں کی دنیا اور ڈاک کے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ فونوں پر مسلسل اور روزانہ بولتے رہنے سے ہمارے پاس کچھ بچتا ہی نہیں بات کرنے کو، اور سنائیں کیا حال ہے، بس؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بات اصل میں یہ ہے کہ اس دور میں اگر ہمیں بھیج بھی دیا جائے تو ہم ننگے پاؤں چیخیں مارتے ہوئے واپس بھاگ آئیں گے، یعنی موبائل فون تک نہیں ہو گا؟ وہ چیز جسے جیب میں رکھے بغیر ہم سے ’مکمل پن‘ اور ’پہنچ میں ہونے‘ کا احساس تک چھن جاتا ہے، کیسے رہ سکتا ہے کوئی بھلا اس کے بغیر؟ لیکن یار کوئی ایک جھلک دیکھے تو میں اسے دکھاؤں کہ ماں باپ کیسے اللہ توکل پہ اولادوں کو باہر بھیج کر ان کے خطوں کا انتظار کیا کرتے تھے، محبوبائیں کیسے ایک وعدے کے آسرے پہ چٹے بال لے کر پردیسی کے انتظار میں بیٹھی رہا کرتی تھیں اور ابا کے ولایت لوٹنے کے چھ ماہ بعد پیدا ہونے والا بچہ کیسے لفظ ’بابا‘ کو ایک کاغذ میں تلاش کرتا تھا۔ فون کے سارے فائدے اپنی جگہ سو فیصد ٹھیک ہیں لیکن بندہ بات کیا کرے؟

کوشش ہوتی ہے امی کو روزانہ فون کروں۔ ’ہیلو، کیا حال ہے، طبیعت کیسی ہے، کیا کر رہی ہیں، ابا کیسے ہیں، گھر میں سب خیریت ہے؟‘ کے بعد میں ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتا ہوں لیکن چار پانچ منٹ میں کال ختم ہو جاتی ہے۔ ابو کو روزانہ فون شروع کر دوں تو وہ چڑ جائیں گے، تیسرے چوتھے دن ڈانٹ پڑ جائے گی، انہیں ہفتے دس دن بعد کرتا ہوں۔ بیگم سے روزانہ بات ہوتی ہے لیکن اسے خود کو وہی شکایت ہے کہ آپ کے پاس یہی روٹین کی باتیں ہوتی ہیں، بیٹی سے واٹس ایپ پر بات ہو جاتی ہے ۔۔۔ تو بس سوچتا ہوں کہ خطوں کا دور ہوتا تو شاید زیادہ باتیں ہو جایا کرتیں۔

لیکن خیر، ایک کمال مختصر نویس کاریگری خطوں میں بھی ہوتی دیکھی ہے ان گناہ گار آنکھوں نے، ابا گئے باہر ملک، کچھ مہینے رہنا تھا، ہفتے دس دن بعد وہاں سے امی اور دادی کو ایک ایک خط آ جایا کرتا تھا۔ ایک دن ساس بہو مل کر بیٹھ گئے، ایک دوسرے کو خط سنایا، دوسرے سنانے والے کو لگا کہ یہی سب کچھ تو میرے خط میں لکھا تھا۔ دونوں خط ساتھ دھرے تو پتہ لگا کاربن پیپر رکھ کے ابا نے ایک خط لکھا اور اس کے بعد دونوں کے اوپر الگ الگ نام لکھ کر وہی ایک خط دادی اور امی، دونوں کو بھیج دیا۔

جو بچے کاربن پیپر نہیں جانتے وہ سمجھ لیں کہ ایک قسم کی فوٹوکاپی ہوتی تھی، بندہ جو کچھ اوپر والے کاغذ پہ لکھتا، درمیان والے کاربن پیپر کی وجہ سے وہی سب نیچے والے کاغذ پر بھی منتقل ہو جاتا۔  

خط شاید ایک پرسنلائزڈ نوٹ ہوتا تھا یا اسے سنبھال کر رکھا جا سکتا تھا، یا اس میں لکھنے والا سامنے بیٹھا محسوس ہوتا تھا۔۔۔ جو کچھ بھی کہیں، خط ایک رومانس تھا زندگی کا جو اب نہیں ہے۔ فون ہیں، بہت سارے فون ہیں اور چوبیس گھنٹے کے فون ہیں لیکن کرنے کی باتیں کچھ نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ