چالیس دم چھلے محبت کے

ایک بات بتائیں، سوہنی کچے گھڑے پہ دریا پار نہ کرتی، صاحباں مرزے کے ساتھ نہ بھاگتی یا ہیر باوجود تمام مخالفت رانجھے کو لفٹ نہ کراتی تو کیا وہ سب خود اپنے آپ میں مطمئن رہ پاتیں؟

(پکسابے)

محبت کے ساتھ ہم نے اتنے دم چھلے لگا دیے ہیں کہ سب کو سمیٹ کر اپنے سامان میں رکھنے اور چوی گھینٹے انہیں چومنے چاٹنے کا نام محبت رہ گیا ہے۔

محبت کیا ہے۔ یہ سوال جب بھی کہیں پوچھا جائے گا تو جواب دینے والا بڑی آسانی سے پوچھنے والے کو حقیقی اور مجازی عشق کی گلیوں میں گھماتا پھراتا واپس لا کے وہیں کھڑا کر دے گا جہاں الحمدللہ وہ پہلے سے موجود تھا۔ عین ممکن ہے دو فٹ گڑھا کھود کر اس میں دبا بھی دیا جائے۔ 

چار دن کے سوتے ہوئے بچے کو اگر چیونٹی کاٹ جائے تو وہ اٹھ جائے گا، روئے گا، دونوں ہاتھ ہلائے گا، یہ اس کی جبلت ہے۔ یہی محبت ہے۔

انسان کی پہلی محبت خود اپنے آپ سے ہوتی ہے۔ وہ خود کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، اسے مطمئن رہنا ہوتا ہے اور اطمینان کے لیے جتنے بھی لوازمات چاہئیں ان میں سے لازم ترین محبت ہے۔ 

ایک بات بتائیں، سوہنی کچے گھڑے پہ دریا پار نہ کرتی، صاحباں مرزے کے ساتھ نہ بھاگتی یا ہیر باوجود تمام مخالفت رانجھے کو لفٹ نہ کراتی تو کیا وہ سب خود اپنے آپ میں مطمئن رہ پاتیں؟ ناممکن تھا۔ جسے ہم قربانی سمجھتے ہیں وہ اصل میں خود اپنی تسلی کے لیے کچھ بھی کر جانے کا نام ہے۔ اور یہ سب قسمے بالکل نارمل حالات کی باتیں ہیں، کبھی دانت کے درد میں آپ کو محبت ہوئی ہے کسی سے؟ 

مزید کھول کے دیکھتے ہیں معاملہ۔ رانجھا کیوں دیوانہ ہو گیا، دنیا جہان چھوڑ کے ایک لڑکی کے پیچھے نکل لیا؟ مجنوں کو آخر لیلی میں ایسی کیا چیز مل گئی جو باقی کائنات میں کسی کے ساتھ نہیں تھی؟ پنوں کے لیے کوئی کمی تھی حسینوں کی؟ یہ پسندیدگی تھی، چاہت تھی، محبت تھی جس نے انہیں فنا ہو جانے پہ مجبور کر دیا۔ لیکن کیا یہ سارے مرحومین اپنی عاشق خواتین کے لیے قربان ہو رہے تھے، نہیں! وہ اس محبت کے لیے کچھ بھی کر گزرنا چاہ رہے تھے جو ان کے اندر کسی بھی لڑکی کے نام پہ رچ بس چکی تھی۔ وہ 'اپنی محبت' کا حصول چاہتے تھے۔ سادہ اردو میں بات کریں تو جسمانی ملاپ چاہتے تھے، اس سے زیادہ کچھ اور نہ اس سے کچھ کم۔ 

سوہنی کچے گھڑے پہ نہیں تھی خود اپنی محبت حاصل کرنے کے گھوڑے پہ سوار تھی، مجنوں نہر نہیں کھودتا تھا، وصال کی سڑک پہ آگے بڑھتا تھا، رانجھا مجھیں نئیں چراتا تھا، اپنے منہ زور جذبے کی تکمیل میں خوار ہوتا تھا، کل ملا کے اس راستے پہ جتنے بھی مسافر چلتے ہیں ان کے دماغوں میں ایک ہی مقصد ہوتا ہے، اپنی پسندیدہ بندی یا بندے کو دوسرے کسی لوچے میں اٹکنے سے پہلے چھاپ لینا، دیٹس اٹ! 

عورت اور مرد کی محبت کو جسم سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہمارے یہاں جسم چونکہ گناہ کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس حد تک سمجھا جاتا ہے کہ نفس کا ایک مطلب وہ بھی ہوتا ہے جو اصولی طور پہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اردو اتنی غریب بھی نہیں ہے یار، پنجابی سے کام چلا لے بندہ، خیر۔۔ تو محبت کو جسم سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔

اپنی طرف اسی لیے پاکیزہ محبت ایجاد کی گئی، روح سے محبت کرنے کے دعوے ہوئے، اچھے خاصے دنیاوی عشق کی لگامیں کھینچ کے آسمانوں کا راستہ دکھایا گیا، محبت کے گہرے فلسفے بیان ہوئے، عشق اور محبت میں فرق بتانے کے نمبر دیے گئے، محبت اور ہوس میں تفریق کرنے پہ اکسایا گیا، ہارمونز بے چاروں کو بدنام کیا، میڈیا پر الزام لگے مگر جو کام نہیں کیا جا سکا وہ آج تک ویسے ہی پڑا ہے۔ محبت کو واضح طور پہ ڈیفائن کرنا کہ یہ ہے کیا۔ 

آپ سیانے بیانے ہیں، اگر میں آپ سے پوچھوں کہ محبت کی انتہا کیا ہے تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ جسمانی طور پہ مل جانا۔ یہ بس دی اینڈ ہے۔ لیکن اگر یہی سوال میں آپ سے دس بندوں کے سامنے پوچھوں تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ یا تو آپ لال سرخ ہو جائیں گے یا آپ مجھے بھی ٹریک ٹو سمجھانے لگیں گے اوربات وہیں آسمانوں پہ لمک جائے گی۔

یہی محرومی ہمیں ان تمام چیزوں کی طرف لے کر جاتی ہے جنہیں محبت کے چالیس دم چھلے کہا تھا۔ چونکہ محبت سو فیصد اپنی ذات کے لیے کی جانے والی چیز ہے اس لیے جب اس پہ باہری دباؤ کی وجہ سے کوئی آفت آتی ہے تو ہم کچھ بھی وجہ گھڑ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ فلانی بے وفا تھی، فلانی پیسے کے پیچھے بھاگتی تھی، وہ تو تھا ہی فلرٹ، فلانا صرف ہوس کا پجاری ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے یار۔ وہ بے وفا اس لیے تھی کہ اس نے صرف آپ سے وفا نہیں کی؟ یا اسے یہ خطاب کسی عالمی حادثے پر دیا گیا ہے؟ کہیں وفا قانونی طور پہ کسی ڈوری میں بندھ جانے کا نام تو نہیں ہے؟ اسی طرح جس پہ آپ نے الزام لگایا کہ وہ پیسے کے پیچھے بھاگتی تھی، کیا آپ کے پاس اتنا بھی پیسہ تھا کہ آپ اسے مطمئن رکھ سکیں، کیا محبت کے ساتھ ساتھ ناشتے کی اہمیت تاریخی طور پہ ثابت نہیں جو بہرحال پیسوں سے آتا ہے؟ اور جو فلرٹ تھا جب آپ اس سے ملیں تو کیا آپ کو لگا نہیں کہ ایسی باتیں کوئی عادی مجرم ہی کر سکتا ہے اور پھر بھی آپ لٹو ہو گئیں؟ اور جو ہوس کا پجاری تھا اسے یہ خطاب کہیں اس لیے تو نہیں ملا کہ خود آپ کو روحوں کے ملاپ پہ یقین تھا؟ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیکھیں، بات تھوڑی سمجھنے والی ہے، اگر آپ عشق حقیقی کا دعوی بھی کرتے ہیں تو آخر کیوں؟ آپ خود اس صورت حال میں اپنے آپ کو مطمئن سمجھتے ہیں اس لیے۔ آپ کو لگتا ہے کہ اس دنیا میں آپ کے آنے کا ارفع ترین مقصد یہی ہے، اس لیے۔ آپ اسے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اسی لیے نا؟ تو جب پالنے والے سے عشق آپ خود اپنے فائدے اور نقصان کو تول کر کیے جا رہے ہیں تو دنیاوی محبت میں آپ کے مقاصد کیسے شامل نہیں ہوں گے؟ اب بس نتیجے کی طرف بڑھتے ہیں۔ 

آپ کسی کی آنکھوں پہ عاشق ہوتے ہیں، کسی کے بالوں پر، کسی کے مسلز آپ کو اٹریکٹ کرتے ہیں، کسی کی باتیں، لیکن آپ سالم بندے کو اس کی 'روح سمیت' پسند کرنے کا دعوی کر بیٹھتے ہیں اور اس کو پا لینے کی خواہش میں گھر جاتے ہیں، کیوں؟ جو صبر جو شئیرنگ آپ عشق حقیقی میں کرتے ہیں وہ سب دنیاوی انسان کی محبت میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ 

وہ اس لیے کہ آپ خود اپنے آپ پر عاشق ہوتے ہیں۔ آپ اپنی خواہش پوری کرنے کی طلب میں کسی انسان کو چاہتے ہیں اور جوابا چاہے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ دنیاوی محبت میں وصال ممکن ہے، ایسا ہوتا ہے، تو آپ بھی دیوانہ وار اس لائن پہ لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ بھئی ملنا یہاں بھی موت کے بعد ہی ہو گا، پہلے سے بتا دیا جائے، تو کیا محبت کی بتی جلے گی؟ 

کُل ملا کے میرے خیال میں دنیا کا رہنے والا کوئی بھی انسان کسی کی محبت میں فنا ہو جانے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ یہ محبت خود سے ہوتی ہے، اپنی خواہشوں سے ہوتی ہے، اپنے جذبوں سے ہوتی ہیں، ملاپ کی امید سے ہوتی ہے، اپنے نظریوں سے ہوتی ہے اور ان کی تسکین پر دماغ میں بجتی پولی پولی ڈھولکی سے ہوتی ہے۔ باقی اس معاملے میں ہر ایک پیر کامل ہے، ہونہہ کریں، بلاگ پہ کاٹا لگائیں اور صبح واش روم میں یاد آئے تو سوچیں کہ یار بندہ بہرحال اتنا بھی غلط نہیں کہتا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ