’فیس جمع کرائی لیکن پتا چلا بینک کی رسیدیں جعلی تھیں‘

یہ طلبہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے اربن انفراسٹرکچر شعبے میں ماسٹر کی تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن ان کو فیس کے حوالے سے مبینہ ڈیڑھ کروڑ روپے کے فراڈ کا تب پتا چلا جب انہوں نے تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹی کی ڈگری کے لیے فارم جمع کرایا۔

29 نومبر 2019 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں فیسوں میں کمی، تعلیمی سہولیات اور سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے لیے ہونے والے مظاہرے میں شریک طالبات(اے ایف پی فائل)

پشاور کی سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کی ٹیوشن فیس بینک میں جمع کرائی لیکن ان کے ساتھ فراڈ ہوا اور اب یونیورسٹی والے عدم ادائیگی کی بنیاد پر ان کو ڈگری جاری نہیں کر رہے اور نہ ہی یونیورسٹی مبینہ فراڈ کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

اربن پلاننگ کے یہ طلبہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے اربن انفراسٹرکچر شعبے میں ماسٹر کی تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن ان کو فیس کے حوالے سے مبینہ ڈیڑھ کروڑ روپے کے فراڈ کا تب پتا چلا جب انہوں نے تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹی کی ڈگری کے لیے فارم جمع کرایا۔

 مبینہ جعل سازی کے شکار تقریبا 39 طلبہ میں شامل داود سنگین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’متاثرہ طلبہ نے میبنہ فراڈ کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک خط کے ذریعے رواں سال اگست کے مہینے میں ہی آگاہ کر دیا تھا۔‘

داود نے بتایا کہ ’ہم نے یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلے خط کے بعد دو مزید خطوط بھی لکھے لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انتطامیہ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

یہ فراڈ کیسے ہوا؟

متاثرہ طلبہ میں سے ایک نے یونیورسٹی انتظامیہ کو لکھے ہوئے بیان (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) میں کہا ہے کہ ’میں یونیورسٹی کے تمام سمسٹرز کی فیس یونیورسٹی کے ایک ملازم کو دیتا تھا اور وہ اسے بینک میں جمع کرا دیتا تھا۔ تاہم جب میرا نام وزیر اعظم فیس ری اینبرسمنٹ سکیم میں آیا اور جب میں نے یونیورسٹی سے معلوم کیا تو وہاں پر فیس جمع کرانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔‘

اس سکیم کے مطابق پہلے طلبہ فیس جمع کراتے ہیں اور بعد میں وہی فیس طالب علم کو یونیورسٹی کی جانب سے واپس کر دی جاتی ہے۔

متاثرہ طالب علم نے بیان میں لکھا ہے کہ ’ہم نے یونیورسٹی کے ملازم سے پوچھا کہ ان کی فیس کیوں جمع نہیں ہوئی ہے، تو انہوں نے وہی فیس کے پیسے میرے ذاتی اکاونٹ میں واپس جمع کرا دیے یعنی انہوں نے بینک میں پیسے جمع ہی نہیں کرائے تھے۔‘

داود نے بتایا کہ ’متاثرہ طلبہ میں یہ ایک کیس ایسا ہے جس کو یونیورسٹی کے اہلکار نے فیس ان کے ذاتی اکاونٹ میں واپس جمع کرائی ہے یعنی اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جس شخص کو ہم فیس جمع کراتے تھے، وہ بینک کی جعلی سلپ بنا کر ہمارے ساتھ مبینہ فراڈ کرتے رہے۔‘

داو د کے مطابق اس بات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اس اہلکار نے بینک میں کسی فراڈ کے ذریعے جعلی سلپ بنائی۔ تاہم صرف ایک طالب علم کو پیسے اپنے ذاتی اکاونٹ میں واپس کیے گئے ہیں لیکن باقی طلبہ کی فیس اہلکار نے واپس نہیں کی۔‘

داود کے مطابق ’یونیورسٹی انتظامیہ ہمیں کہہ رہی ہے کہ یہ غلطی آپ لوگوں کی ہے آپ نے خود فیس جمع نہیں کرائی ہے۔‘

 داود کا کہنا ہے کہ ’یہ اہلکار یونیورسٹی کا ملازم ہے اور یونیورسٹی ہی میں کام کرتا ہے۔ اگر انہوں نے مبینہ فراڈ کیا ہے تو یونیورسٹی انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔‘

داود نے بتایا کہ یہ چار سمسٹر پر مشتمل کورس تھا اور ہر ایک سمسٹر میں انتظامیہ طلبہ کا ریکارڈ چیک کرتی ہے کہ ان کے اوپر کوئی فیس کےبقایہ جات تو نہیں، اگر ہماری فیس جمع نہیں ہوئی تھی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمیں سمسٹرز میں کیسے پروموٹ کیا اور ہمیں امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت کیسے مل گئی؟‘

داود نے بتایا کہ ’یونیورسٹی ضوابط کے مطابق کسی بھی طالب علم کو بغیر فیس جمع کرائے آگے سمسٹر میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا لیکن ہمیں پروموٹ بھی کیا گیا اور ہمیں اس فراڈ کے حوالے سے یونیورسٹی کے کسی قسم کی بات اس وقت نہیں کی تھی لیکن اب جب ڈگری تک بات پہنچ گئی تو ہمیں کہا رہا ہے کہ آپ لوگوں کے بقایہ جات باقی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’یونیورسٹی ہمارے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے کیونکہ ہم ڈگری کے بغیر نہ کسی نوکری کے لیے ایپلائی کر سکتے ہے اور نہ کسی قسم کا ٹیسٹ دے سکتے ہیں۔‘

داود نے بتایا کہ جب ہم بینک جاتے ہیں تو بینک والے کہتے ہیں کہ فیس کی جو سلپ ہمارے پاس موجود ہے، وہ جعلی ہے اور کسی نے جعلی سلپ بنائی ہے کیونکہ بینک ریکارڈ میں آپ لوگوں کی فیس جمع کرانے کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی انتظامیہ سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالیں اور ہمیں ہماری ڈگریاں جاری کرے۔‘

متاثرہ طلبہ نے خیبر پختونخوا محتسب کے نام ایک خط میں انہیں بھی اس مبینہ فراڈ سے آگاہ کیا ہے۔

محتسب کی جانب سے طلبہ کی شکایت پر یونیورسٹی انتطامیہ کے نام پر ایک خط بھی لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتطامیہ متعلقہ قوانین کی رو سے طلبہ کے شکایات کو دیکھے اور اس کی رپورٹ ارسال کرے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف

یونیورسٹی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس مبینہ فراڈ کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنائی ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

 یونیورسٹی کی ترجمان شمائلہ فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جس طرح کہا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی ڈگریاں روک رکھی ہیں تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’یونیورسٹی سے ڈگری جاری کرنے کا ایک طریقہ کار ہے جس میں طلبہ سے تمام تر بقایہ جات کی کلیرنس ضروری ہوتی ہے۔ ان 36 طلبہ کا ہمارے پاس فیس کا ریکارڈ موجود نہیں تھا تو اس کے بعد پتا چلا کہ کچھ طلبہ اس قسم کے فراڈ کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔‘

شمائلہ نے بتایا کہ ’ہم نے طلبہ کی شکایت پر انکوائری کمیٹی بنائی ہے اور کوشش کر رہے ہیں کہ ایک ہفتے میں اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اس سلسلے میں ہم طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہماری جانب سے پر قسم کی مدد ان کو فراہم کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس مبینہ فراڈ کے حوالے سے ہم نے بینک کے سینئیر منیجمنٹ کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے اور وہ بھی اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ بینک کی جعلی سلپ کیسے بنائی گئی۔ ظاہری بات ہے اگر فیس جمع ہی نہیں ہوئی تو جو سلپ طلبہ کے پاس موجود ہے تو وہ جعلی ہی ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ طلبہ کے مطابق اس مبینہ فراڈ میں یونیورسٹی کا ایک ملازم ملوث ہے لیکن وہ اب بھی ڈیوٹی پر آ رہا ہے، تو اس کے جواب میں شمائلہ نے بتایا کہ ’انکوائری ابھی جاری ہے تو ابھی تک ملازم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے فراڈ کیا ہے۔ جب انکوائری مکمل ہوجائے اور اگر فراڈ ثابت ہوگیا تو یونیورسٹی ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس