’جو لوگ استعمال شدہ کپڑے نہیں لیتے تھے، وہ بھی لنڈا بازار جانے لگے‘

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے باعث لنڈے کے کپڑوں کی درآمد دگنی ہوگئی ہے۔

16 جون 2020 کی اس تصویر میں لاہور کی ایک مارکیٹ میں مزدور ہتھ گاڑی پر کپڑے لے کر جارہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے باعث استعمال شدہ (لنڈے کے) کپڑوں کی درآمد گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہو گئی ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 21-2020 کے دوران سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی درآمدات مقدار کے لحاظ سے 90 فیصد تک بڑھ کر 732،623 میٹرک ٹن جا پہنچی، جن کی مالیت 309.56 ملین ڈالر ہے جو کہ اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں قیمت کے لحاظ سے 83.43 فیصد اضافہ ہے۔

پاکستان نے مالی سال 22-2021 کے پہلے دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران پرانے کپڑوں کی 186،299 میٹرک ٹن درآمد کی جو کہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 283 فیصد زیادہ ہے۔

اسی عرصے کے دوران ملک نے استعمال شدہ کپڑوں کی اشیا کی درآمد پر 79 ملین ڈالر خرچ کیے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 273.4 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان میں رواں سال ستمبر تک افراط زر نو فیصد رہا۔

پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس ایچ سی ایم اے) کے جنرل سیکرٹری محمد عثمان فاروقی نے عرب نیوز کو بتایا: ’ملک میں افراط زر کے رجحان میں اضافے کی وجہ سے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا استعمال اور درآمد بڑھ رہی ہے۔‘

ان کے بقول: ’وہ لوگ جو پہلے سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا استعمال نہیں کر رہے تھے، وہ اب مہنگائی کے باعث پرانے کپڑوں کی مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ملک کے شمالی حصوں میں ان کی مانگ زیادہ ہے جہاں غربت کے ساتھ سخت موسمی حالات اس کی وجہ ہے۔‘

پاکستانی درآمد کنندگان زیادہ تر سیکنڈ ہینڈ کپڑے امریکہ، یورپ، جاپان، آسٹریلیا، چین اور کوریا سے درآمد کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی درآمد کی ایک اہم وجہ غربت میں اضافہ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق تقریباً 39 فیصد پاکستانی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سینیئر ماہر معاشیات ڈاکٹر عبدالجبار خان نے کہا: ’غربت کی وجہ سے لوگ کپڑوں اور کھانے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کی پہلی ترجیح ظاہر ہے کہ جسم اور روح کے درمیان رابطہ قائم رکھنا ہے۔‘

پاکستانی درآمد کنندگان نے کہا کہ درآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ اشیا بشمول کمبل، جیکٹس اور دیگر لباس اس وقت ملک کے غریب عوام کی کپڑوں کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کر رہے ہیں۔

عثمان فاروقی نے نئی اور پرانی اشیا کی قیمتوں میں بڑے فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا: ’درآمد شدہ پرانے کپڑے غریب طبقے کی ضرورت کا تقریباً 25 سے 30 فیصد پورا کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لنڈے بازار میں جینز 100 روپے میں دستیاب ہیں جبکہ عام مارکیٹ میں اس کی اوسط قیمت 900 روپے ہے۔ درآمد شدہ اشیا کے معیار کے ساتھ قیمتوں میں فرق خریداروں کے لیے ایک بڑی کشش ہے۔‘

پرانے کپڑوں کا کاروبار پہلے کراچی کے ایم اے جناح روڈ کے آس پاس کے کچھ علاقوں تک محدود تھا، لیکن اب یہ شہر کے دوسرے حصوں اور ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔

لیکن تاجر زیادہ درآمدی اخراجات جیسے ڈیوٹی، ٹیکس اور مال برداری کے کرائے میں اضافے کی شکایت کرتے ہیں۔ درآمد کنندگان پرانے کپڑوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 10 فیصد چھوٹ اور پانچ فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

عثمان فاروقی نے کہا کہ ’پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمد شدہ کپڑوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ سے فریٹ چارجز دو ہزار ڈالر سے بڑھ کر چار ہزار ڈالر، یورپ سے 1،800 یورو سے بڑھ کر 2،500 یورو ہوگیا ہے جبکہ چین سے فریٹ 3،000 فی کنٹینر سے بڑھ کر 9،000 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ تجارتی درآمد کنندگان بحران کا شکار ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت