ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کر دی گئی

آج انتقال کر جانے والے پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین اسلام آباد ایچ ایٹ کے قبرستان میں کر دی گئی جب کہ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کئی سال سے اسلام آباد میں مقیم تھے (اے ایف پی فائل)

آج انتقال کر جانے والے پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین اسلام آباد ایچ ایٹ کے قبرستان میں کر دی گئی جب کہ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں اعلی عسکری قیادت وفاقی وزرا اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی میت جنازہ گاہ پہنچنے پر ایمبولینس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اسلام آباد میں طوفانی بارش کے باوجود لوگوں کی کثیر تعداد چھتریوں سمیت فیصل مسجد پہنچی جب کہ بارش کے باعث بہت سے لوگ نماز جنازہ پر نہیں بھی پہنچ پائے۔ اسلام آباد مارگلہ روڈ پر گاڑیوں اور عوام کا رش تھا جو فیصل مسجد پہنچنا چاہتے تھے تاکہ محسن پاکستان کو الوداع کر سکیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر احمد الغزالی نے پڑھائی۔

نماز جنازہ کے بعد جسد خاکی سکیورٹی کے حصار میں ایچ ایٹ قبرستان پہنچایا گیا لیکن طوفانی بارش کے باعث تدفین قدرے تاخیر سے ہوئی۔ بارش تھمنے کے انتظار کے دوران پاکستان فوج اور اسلام آباد پولیس کے دستوں نے میت کے گرد حصار بنا لیا۔ سکس آزاد کشمیرغازی رجمنٹ نے جوہری سائنسدان کو گارڈ آف آنر دیا۔

صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان،  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے اور  افسوس کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین کو نماز جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی لیکن خود جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اتوار کی صبح انتقال ہوا تھا۔ اگست میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ ڈاکٹر قدیر پہلے الشفا ہسپتال اور بعد میں ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ڈاکٹر قدیر کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ ڈاکٹر قدیر ملٹری ہسپتال میں کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد گھر منتقل ہو گئے تھے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات ڈاکٹر قدیر کی طبیعت اچانک خراب ہوئی انہیں پھیپھڑوں میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور  خالق حقیقی سے جا ملے۔

اُن کے وکیل توصیف آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان قوم کا اثاثہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ کے مطابق آج صبح چھ بجے انہیں خون کی الٹی ہوئی جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں اُن کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دو بیٹیاں ہیں دونوں اپنے والد کی طبیعیت ناساز ہونے پر اُن کے پاس آ گئیں تھیں۔

توفیق آصف نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی موجودگی میں چند ہفتے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اُن کے سپریم میں نظر بندی کے خلاف چلنے والے کیس کے سلسلے میں ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب دُکھ لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی نظر بندی کے خلاف درخواست بھی دائر کر رکھی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ اب تو کیس ہی غیر موثر ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب سپریم کورٹ سے انصاف کی آس لیے اس دنیا سے چلے گئے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیح رشید احمد نے پریس کانفرنس میں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پورے اعزازات کے ساتھ تدفین کی جائے گی، تدفین سے متعلق جو فیصلہ ان کی فیملی کرے گی اس پر وزیراعظم کی مشاورت کے بعد عمل کریں گے۔‘

ڈاکٹر عبدالقدیر خان لمبے عرصے سے بیمار تھے اور دیگر ہسپتالوں میں زیر علاج رہے۔ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ اگست میں مثبت آیا تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر 2003 میں دیگر ممالک کو جوہری راز فروخت کرنے کا الزا، لگا تھا۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی پر اس کا اعتراف بھی کیا تھا جس کے بعد انہیں اسلام آباد میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ فروری2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے اور تاہم وہ اپنی نقل وحرکت کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے کے پابند رہے۔  گذشتہ سال انہوں نے اسی پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ 

تعزیتی پیغامات کا سلسلہ

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کے بعد پاکستانی بھر سے تعزیت کے پیغام آنا شروع ہوگئے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ڈاکٹر قدیر قوم کے ہیرو تھے اور ان کی دعائیں اہل خانہ کے ساتھ۔ ہیں۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

 سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر تعینات رہنے والے جلیل عباس جلانی نے ایک ٹویٹ میں دکھ کا اظہار کیا۔ 

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد شہباز شریف نے کہا کہ ملک نے اہم اثاثہ کھو دیا۔

سینیئر صحافی حامد میر نے بھی دکھ کا اظہار کیا۔

 

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے بھی ڈاکٹر قدیر کی وفات پر  پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان