خواجہ سراؤں کی بہبود کے لیے شہد کی مکھیوں کی کاشت کا پروگرام

لودھراں پائلٹ پروجیکٹ نے اپنے جینڈر امپاورمنٹ کے شعبے میں چار گھرانوں اور لودھراں کے پانچ افراد پر مشتمل خواجہ سراؤں کے گروپ کو عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے ہنی بی فارمنگ یعنی شہد کی مکھیوں کی کاشت کی تربیت فراہم کی ہے۔

گوشی کہتی ہیں کہ شاید اب لوگ ہمیں بھی عزت دے سکیں کہ یہ خواجہ سرا ہیں مگر کاروبار کر رہے ہیں (فوٹو: لودھراں پائلٹ پراجیکٹ)

گوشی نے میٹرک پاس کر رکھا ہے اور میٹرک کے بعد کمپیوٹر اور ٹائپنگ کے کورسز کیے، جس کے بعد انہیں ایک نوکری ملی لیکن جلد ہی وہ نوکری چھوڑ کر دوبارہ خواجہ سرا گروپ کے پاس چلی گئیں۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں معاشرے سے اتنی تضحیک و تمسخر اور مردوں کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں اپنے جیسے دوسرے خواجہ سراؤں کی طرح بھیک مانگ کر یا بچوں کی پیدائش اور شادیوں کے موقعے پر ناچ گانے سے گزربسر کرنے میں زیادہ عافیت نظر آئی۔

مگر پھر گوشی اور ان کی ساتھیوں سنینا، گڑیا، بابرا اور سمن کو لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے ایک تربیتی پروگرام کا حصہ بنایا، جس کے تحت انہیں اور پانچ دوسری خواتین کو ہنی بی فارمنگ یعنی شہد کی مکھیوں کی کاشت اور اس سے حاصل ہونے والے شہد کو مارکیٹ میں کمرشل بنیادوں پر فروخت کرنے سے متعلق ٹریننگ پروگرام کا حصہ بننے کا موقع ملا۔

 گوشی کا کہنا تھا کہ ’کرونا وائرس کی وجہ سے ہمارا کام تقریباً ختم ہوچکا ہے اور ہم بھیک مانگ کر ہی گزارہ کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں کسی کام پر بھی نہیں رکھتے ورنہ کام تو ہم بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کا یہ احسان ہے کہ ہمیں حلال کمانے کا ایک موقع دیا ہے، شاید اب لوگ ہمیں بھی عزت دے سکیں کہ یہ خواجہ سرا ہیں مگر کاروبار کر رہے ہیں۔‘

چونکہ پہلے مرحلے میں اس خواجہ سرا گروپ کے افراد کے پاس شہد کی مکھیوں کی کاشت کے لیے مناسب جگہ کا انتظام نہیں تھا، اس لیے لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے شہر کے 100 چک میں اپنے ہی لگائے گئے 13 ایکڑ پر پھیلے اربن فاریسٹ میں جگہ بھی مہیا کی تاکہ یہ افراد نہ صرف وہاں مکھیوں کی کاشت کرسکیں بلکہ اسے فروخت کرکے اپنے لیے باعزت روزگار کا بندوبست بھی کرسکیں۔

لودھراں پائلٹ پروجیکٹ نے خواتین اور محروم طبقات کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنے جینڈر امپاورمنٹ کے شعبے میں ہنی بی فارمنگ یعنی شہد کی مکھیوں کی کاشت پر تربیت دینے کے پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں چار گھرانوں اور لودھراں کے پانچ افراد پر مشتمل خواجہ سراؤں کے گروپ کو عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے تربیت فراہم کی۔

تربیتی پروگرام کے بعد ان افراد کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کے بنائے گئے ایک شہد کے فارم کا دورہ بھی کروایا گیا، تاکہ یہ افراد باقاعدہ دیکھ اور سیکھ سکیں کہ کیسے شہد کی مکھیوں کی کمرشل بنیادوں پر کاشت کاری کے ذریعے یہ افراد اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتے ہیں۔

لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر محمد عبدالصبور نے کہا کہ ’ہمارا مقصد صرف ان افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ ہمارا عزم ہے کہ ہم ان خواتین اور خواجہ سراؤں کو مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعے اس قابل بنا سکیں کہ وہ نہ صرف باعزت طریقے سے روزگار کما سکیں بلکہ معاشرے میں اعتماد کے ساتھ اپنا کردار بھی ادا سکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جلد ہی ہم یہ منصوبہ وسیع پیمانے پر شروع کریں گے تاکہ مزید افراد خاص طور پر خواجہ سراؤں کو اس سے پہنچنے والے فوائد میں شریک کیا جا سکے۔‘

لودھراں پائلٹ پروجیکٹ نے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ کمیونٹی ارکان اور خواجہ سرا گروپ کو پانچ ہنی بی فارمز کا سامان بھی فراہم کیا۔ ابتدائی طور پر شہد کی مکھیوں کے یہ فارمز لودھراں اربن فاریسٹ 15 میں بنائے گئے ہیں جو 15 ہزار سے زائد درختوں کے ساتھ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کا لگایا گیا جنوبی پنجاب کا پہلا اربن جنگل ہے۔

اس منصوبے کے لیے ضروری ہے کہ کاشت کاری کے لیے ایسے درخت موجود ہوں جو شہد کی مکھیوں کے لیے موزوں ہوں۔ چونکہ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے اس اربن جنگل میں ایسے درخت خاص طور پر کیکر، بیری وغیرہ بھی موجود ہیں تو یہ اس منصوبے کے لیے موزوں ترین جگہ تھی۔

ایک ہنی بی فارم میں 30 ہزار سے 50 ہزار مکھیوں کی گنجائش ہوتی ہے جو کہ سیزن میں سات سے آٹھ کلو شہد نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی فروخت سے ایک خاندان کے بنیادی ماہانہ اخراجات پورے ہوسکتے ہیں۔

اس وقت مارکیٹ میں ایک کلو شہد کی قیمت 1200 سے دو ہزار تک ہے جو کہ شہد کی کوالٹی پر منحصر ہے۔ ہنی بی فارمنگ ایک ایسا منصوبہ ہے جو کم سرمائے سے بھی شروع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کاروبار میں زیادہ مواقع موجود ہیں اور کم عرصے میں خاصا منافع بھی کمایا جا سکتا ہے۔

اس وقت لودھراں میں پانچ ہنی بی فارم شروع ہو چکے ہیں جن کے ذریعے فی خاندان ماہانہ آٹھ سے دس ہزار روپے کما سکتا ہے۔

گوشی نے بتایا کہ ’لودھراں پائلٹ پروجیکٹ شروع میں روزانہ کی بنیاد پر مجھے اور میری ساتھیوں کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ارکان اور خواجہ سرا گروپ کو شہد کی فروخت کے لیے مارکیٹنگ کی حکمت عملی کے بارے میں بھی معاونت دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نہ صرف مکھیوں کی کاشت اور بیماریوں سے متعلق آگاہی بلکہ ادویات کے لیے پیسے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے چھ مہینے میں لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کی تربیت کے بعد اپنے کمائے گئے پیسوں سے ہم اپنے شہد کی مکھیوں کے بکسوں کی تعداد بڑھائیں گے تاکہ اپنے کاروبار اور منافعے میں بھی اضافہ کر سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’مجھے مکھیوں سے ڈر لگتا تھا مگر اب میں نے محسوس کیا ہے کہ جب مکھیوں سے آپ کی دوستی ہو جائے تو وہ آپ کو کچھ نہیں کہتیں۔ میری بھی اب مکھیوں سے دوستی ہو گئی ہے۔ ویسے بھی لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے ہمیں حفاظتی کٹس فراہم کی ہیں جس میں جالی والی ٹوپی، ایپرن اور دستانے وغیرہ شامل ہیں تو اس لیے بھی کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔‘

دنیا بھر میں اس وقت شہد کی مکھیوں کی کاشت کو کاروباری نقطہ نگاہ سے اہمیت کا حامل اور منافع بخش سمجھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک میں خاص طور پر خواتین کو اس ضمن میں تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر اس قابل ہوسکیں کہ اپنے اور اپنے خاندان کی خوشحالی میں کردار ادا کر سکیں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور کے مطابق ہمارا یہ پروگرام اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے کم از کم تین اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا چھوٹا سا حصہ ڈال رہا ہے۔ یہ تین اہداف غربت اور بھوک کا خاتمہ اور معاشرے میں عدم مساوات کو کم کرنا ہیں۔

لودھراں پائلٹ پراجیکٹ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو 1999 میں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی طرز پر قیام عمل میں آیا، جسے جہانگیر خان ترین نے قائم کیا تھا۔ اس ادارے نے لودھراں میں 13 ایکڑ پر اور ملتان میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں 11 ایکڑ زمین پر اربن جنگل بھی اگائے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کے تحت لودھراں شہر میں جینڈر وائلنس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان