اسرائیل کے ساتھ سائبر جنگ میں ایران پیچھے کیوں؟

ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر سائبر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے پانی کو آلودہ کرنے کی کوشش کی اور اسرائیل نے ایران میں پیٹرول کی تقسیم کو نقصان پہنچایا۔

یہ تصویر 26 اکتوبر 2021 کو لی گئی ہے اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں پیٹرول پمپ قومی سطح پر پیٹرول سٹیشنز پر کیے جانے والے ایک سائبر حملے کے باعث بند پڑا ہے (تصویر: اے ایف پی)

ایران اور اسرائیل برسوں سے ایک خفیہ جنگ میں مصروف ہیں۔ اس میں آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کی بجائے سائبر آلات استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات اور شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

اسرائیل اور خاص طور پر اس کی دفاعی افواج کا 8200 یونٹ، دنیا میں سائبر جنگ کے علم برداروں میں سے ایک ہیں۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اس کے بعد ایران کی کچھ حکومتی تنظیمیں اس میدان میں ہیں۔

15 سال سے زیادہ کا وقت اور اربوں تومان خرچ کرنے کے باوجود، ایران میں سائبر حملے اور دفاع کے ذمہ دار اپنے اسرائیلی حریفوں کے مقابلے میں ممکنہ کمزوریوں کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گذشتہ دو سالوں میں سائبر جنگوں میں زیادہ تر ہارے ہی ہیں۔

26 اکتوبر 2021 کو صبح 11 بجے سے قبل ایران کے ہزاروں پیٹرول سٹیشنز میں نصب کارڈ ریڈرز کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد ایران کے صدارتی ادارے سے تعلق رکھنے والے افتا سٹریٹجک مینجمنٹ سینٹر کی صوابدید پر ایندھن فراہم کرنے والے سٹیشنز کی سرگرمیاں روک دی گئیں اور ایندھن کی تقسیم کے قومی نیٹ ورک سے ان کا رابطہ منقطع کر دیا گیا تھا۔

فیول پمپ کے ڈسپلے پر ’سائبر اٹیک 64411‘ کا پیغام لگایا گیا تھا۔ ڈسپلے پر یہ نمبر فیول ڈسٹری بیوشن سسٹم سروس کمپنی سے تعلق رکھنے کے بجائے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے دفتر کا تھا۔

اسی دوران اصفہان سمیت ایران کے بعض اہم شہروں میں ڈیجیٹل ٹریفک سائنز کو ہیک کرکے یہ پیغام دیا گیا تھا: ’خمینی! میرا پٹرول کہاں ہے؟‘

واقعے کے چند گھنٹے بعد یونین آف فیول سٹیشن اونرز کے صدر نے ملک کے ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک میں خلل کی وجوہات کے بارے میں ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ سائبر حملہ تھا۔ تاہم وزیر داخلہ احمد واحدی سمیت ایران کے بعض حکام نے اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی اور ابتدا میں اس بڑے پیمانے پر خلل کی وجہ کو ایک سادہ تکنیکی خرابی بتانے کی کوشش کی۔ لیکن آخر کار، جیسے جیسے اس سائبر حملے کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا، وہ خاموش رہنے اور حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔

حملے کی نوعیت

حملے کی نوعیت، اس کی وسعت اور اس میں ملوث ہیکرز کی وسیع صلاحیتوں کے پیش نظر سائبر سکیورٹی کے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کی سڑکوں اور نقل و حمل کی وزارت اور ریلوے کمپنی کے معلوماتی نیٹ ورک میں 9 جولائی کو پڑنے والے خلل کی طرح تازہ ترین حملہ اسرائیلی ڈیفنس آرمی کے 8200 یونٹ سے وابستہ ہیکرز یا کم از کم اس کے ریٹائرڈ اہلکاروں نے کیا تھا جو وزارت دفاع سے معاہدہ کرنے والی درجنوں نجی سائبر سکیورٹی کمپنیز کے لیے کام کرتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار یدیؤتھ اخاؤنوتھ کے مطابق حملے کے ایک دن بعد انقلابی گارڈز کے ہیکرز کے ایک گروپ نے خود کو ’موسیٰ کا عملہ‘ قرار دیا اور سائبر سپیس میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے سینکڑوں فعال ارکان کی شناخت کے بارے میں خفیہ معلومات پوسٹ کیں۔ یہ کارروائی ایران میں ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک پر سائبر حملے کا ردعمل معلوم ہوتی ہے۔

 ماضی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ہیکرز کے لیے اسرائیلی شہری انفراسٹرکچر پر حملہ کرنا ایک آسان ہدف تھا۔

برسوں سے سائبر سکیورٹی کے ماہرین جو نجی اداروں کے لیے کام کر رہے ہیں، پاسداران انقلاب کی سائبر کمانڈ سے معاہدہ کے تحت، اسرائیل کے فوجی اور سویلین انفراسٹرکچر پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔

ناکامی اس حد تک ہوئی کہ پاسداران انقلاب کے کنٹریکٹ کے ہیکرز اسرائیل کی فوجی تنصیبات اور سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو سبوتاژ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور حالیہ مہینوں میں ان کی کامیابی کی انتہا اسرائیلی دفاعی فوج میں سابق افسران یا ارکان کی بھرتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے 8200 یونٹ یا کم از کم اسرائیلی وزارت دفاع کی طرف سے کنٹریکٹ حاصل کرنے والے نجی اداروں نے حالیہ برسوں میں کامیابی کے ساتھ ایران کی فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس یونٹ کی کامیابیوں میں ایون نامی ایرانی جیل کے کیمروں کو ہیک کرنا، 27 جولائی  کو خوجیر میں وزارت دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کے بیلسٹک میزائلز کے مائع ایندھن کی ترقی کی سہولیات کو سبوتاژ کرنا اور شہر نتنز میں شاہد احمدی روشن یورینیم افزودگی کی تنصیبات سے بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورک میں خلل ڈالنا شامل ہے۔

اسرائیل کی فوجی اور سکیورٹی تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام آئی آر جی سی سے وابستہ ہیکرز نے حالیہ برسوں میں ملک کے شہری اور بنیادی ڈھانچے پر بار بار حملے کیے ہیں۔

اگرچہ ان کے زیادہ تر حملے ناکام رہے اور نقصان نہیں پہنچا لیکن آخر کار ایران نے لاکھوں اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنایا۔

مثال کے طور پر گذشتہ سال اپریل، جولائی اور اگست میں، پاسداران انقلاب سے منسلک ایرانی ہیکرز نے تین بار اسرائیل کے پینے کے پانی کی صفائی اور تقسیم کی سہولیات کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پانی میں کلورین کی سطح کو اس حد تک بڑھانے کی کوشش کی کہ وہ زہریلا ہو گیا۔

یہ فطری بات ہے کہ اسرائیل کی شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے میں سائبر سکیورٹی کا معیار بہت کم ہے اور ان پر حملہ کرنا آئی آر جی سی کے کرائے کے ہیکرز کے لیے ایک آسان کام ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز جس نے حالیہ برسوں میں یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران میں سب سے زیادہ محفوظ نیٹ ورکس میں خلل ڈالنے اور دراندازی کرنے اور انتہائی جدید ترین سائبر حملوں کو کامیابی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، بعض مواقع پر جوابی کارروائی کی ہے۔

مثال کے طور پر، 10 مئی کے ساتھ ساتھ 13 اور 14 اکتوبر 2016 کو سائبر حملوں نے بندر عباس میں شاہد رجائی کی بندرگاہ کی کچھ تنصیبات کو متاثر کیا۔ یہ ایسے حملے تھے جنہیں ایرانی حکام نے مسترد کرنے کی کوشش کی لیکن سیٹلائٹ تصاویر بندرگاہ کے سامنے تجارتی بحری جہازوں کی ایک لمبی قطار کچھ اور بتاتی تھی۔ وہ اس بات کی نشاندہی کرتی تھیں کہ حملے کامیاب تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے میں ایران کی معذوری

ایران کی صدارت اور 2003 سے غیر فعال دفاعی تنظیم سے منسلک افتا سٹریٹجک مینجمنٹ سینٹر، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی سائبر ڈیفنس کمانڈ اور کچھ دیگر ایرانی سکیورٹی اور فوجی اداروں کو دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ایران کے فوجی اور سویلین انفراسٹرکچر کے دفاع کے ساتھ ان پر سائبر حملے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے حکومت کے سالانہ بجٹ کا دو فیصد ملک کی غیر فعال دفاعی تنظیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں تنظیم نے سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

فوجی ادارے جیسے کہ آئی آر جی سی اور سائبر ڈیفنس کمانڈ تریبتی کورسز منعقد کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے انعقاد اور اربوں تومان خرچ کرنے کے باوجود، ایران میں سائبر ڈیفنس حکام ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک پر ہونے والے حملوں سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔

وہ صرف اپنی چھوٹی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر بڑے اخراجات اور بجٹ خرچ کرنے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر تازہ سائبر حملے سے چند گھنٹے قبل پاسیو ڈیفنس آرگنائزیشن کے سربراہ، پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل غلام رضا جلالی نے ذرائع ابلاغ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیاں بے بنیاد ہیں۔

یا حسین سلامی نے جو پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف ہیں ملک کے ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک پر وسیع پیمانے پر سائبر حملے سے صرف دو گھنٹے قبل دعویٰ کیا کہ آئی آی جی سی نے سائبر سپیس میں اہم پیش رفت کی ہے۔ لیکن ان کے بیان کے چند ہی گھنٹے بعد ملک کے ایندھن کی تقسیم کے نیٹ ورک پر سائبر حملے نے ہزاروں فیول سٹیشنز بند کرا دیے تھے۔

اسرائیل کے ساتھ سائبر جنگ میں ایران کی شکست کا سب سے اہم عنصر سائبر سکیورٹی ماہرین کو تربیت دینے اور ایران میں اس کے ماہرین کو ملازمت دینے میں سکیورٹی اور عسکری اداروں کی نااہلی ہے۔ دوسری جانب ایران میں سائبر سکیورٹی کے انچارج اداروں کے اہلکاروں نے ملک کے بہت سے عہدیداروں کی طرح دکھاوے اور نمود و نمائش کا سہارا لیا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے ماتحت قوتیں وسیع پیمانے پر سائبر حملوں کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔


نوٹ: اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آرا ضروری نہیں کہ انڈپینڈنٹ اردو کی پالیسی یا پوزیشن کی عکاسی کرتی ہو۔ یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا