پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے ماڈلنگ

برینڈ ورس کی کریٹو ڈائریکٹر قرت العین خالد نے انڈُپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم لوگ جب اپنی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ان ماڈل کا کوئی وجود نہیں۔

شہر قائد کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع کمپنی برینڈ ورس، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیشن ماڈلنگ کا ایک نیا ٹرینڈ متعارف کروا رہی ہے، جو کہ دنیا کہ کئی ممالک میں کافی عام ہے۔

برینڈ ورس کی کری ایٹو ڈائریکٹر قرۃ العین خالد نے انڈُپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم لوگ جب اپنی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ان ماڈل کا کوئی وجود نہیں۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ مختلف جسم اور چہروں کی خصوصیات اٹھا کر اپنا خود کا ماڈل بنا لینا۔‘

قرۃ العین خالد نے بتایا کہ ان کی کمپنی ناصرف مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانوں جیسے ماڈلز بناتی ہے بلکہ اصل ماڈلز سے کنٹریکٹ بھی کرتی ہے جو کہ صرف ایک بار ان کے ساتھ اپنا فوٹو شوٹ کرواتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ان ماڈلز کی ہر اینگل سے، کئی اقسام کے میک اپ میں تصاویر اور ان کا ناپ برینڈ ورس کے سافٹ وئیر میں محفوظ ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پھر یہ سافٹ وئیرز مختلف کلائنٹس کے کپڑوں کی پیمائش کے ڈیٹا کے مطابق کوئی ماڈل ڈھونٹتے ہیں اور اسے وہ کپڑے پینا دیتے ہیں۔ اس کے ذریعے سٹوڈیو میں ماڈل کے آئے بغیر یہ مختلف برینڈز کے شوٹ ہوجاتے ہیں۔

برینڈ ورس کی سیلز اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی مینیجر نادیہ اقبال نے ہمیں بتایا کہ ’مصنوعی ذہانت کی وجہ سے اب فیشن شوٹس کا تین ہفتوں میں ہونے والا کام سات دنوں میں ہوجاتا ہے اور برینڈز اس ٹیکنالوجی کی مدد سے 60 سے 70 فیصد رقم بھی بچا پاتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے کئی ایسے کلائنٹس جو پاکستان سے باہر اپنے شوٹس کرواتے تھے وہ اپنے شوٹس پاکستان میں برینڈ ورس سے کروانے لگے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی