پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز ملیں گے: شوکت ترین

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسیوں اور اصلاحات پر مبنی سٹاف لیول کا معاہدہ طے پایا گیا۔

پاکستانی مشیر خزانہ شوکت ترین پیر کو  ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے  ہیں (تصویر: سکرین گریب)

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے انٹر نیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز ملیں گے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ایک اسٹاف معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اب اس معاہدے کو آئی ایم ایف کا بورڈ منظور کرے گا۔ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ کووڈ کے باوجود حکومت پاکستان کی معاشی ترقی جاری ہے اور اصلاحات کے ایجنڈے پر کامیابی سے عمل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ میں ایڈجسٹمنٹ، ٹیکس کے نظام میں بہتری، اخراجات میں احتیاط اور مالیاتی نظم و ضبط وہ چند اہم اقدامات ہیں جن سے ملک کو ٹھوس معاشی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

شوکت ترین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے فرائض واضح کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں جس کے تحت اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد یہ بھی ہوگا وہ قیمتوں کے توازن میں مدد کرے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو بتایا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس سے بڑھتے ہوئے اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کرنے والے جنوبی ایشیائی ملک کے لیے چھ ارب ڈالرز کے قرض ​​پروگرام کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا، ’پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے عملے نے چھٹے جائزے کو مکمل کرنے کے لیے درکار پالیسیوں اور اصلاحات پر مبنی عملے کی سطح کا معاہدہ کیا ہے۔‘

’یہ معاہدہ پیشگی اقدامات خاص طور پر مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ کے بعد ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق جائزے کی تکمیل سے IMF کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس میں 750 ملین یا تقریباً 1.059 ارب ڈالرز دستیاب ہوں گے، جس سے اب تک کی کل ادائیگی تقریباً 3.027 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

پاکستان نے 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کا فنڈنگ ​​پروگرام طے کیا تھا۔ تاہم اصلاحات کے مسائل کی وجہ سے اس سال کے شروع میں یہ فنڈنگ ​​روک دی گئی۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی شرائط و ضوابط پر بات چیت کر رہا ہے، جو کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکل میں گھر گئی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے فنڈنگ ​​بحال ہونے سے پہلے پاکستان کو پانچ اصلاحات مکمل کرنی ہوں گی جن میں مرکزی بینک کی خود مختاری پر قانون سازی، ٹیکس میں چھوٹ کی واپسی اور توانائی کے نرخوں میں اضافہ شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ معاہدہ فنانس ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان 45 دن تک ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بہت سی غیر یقینی صورتحال دور ہو جائے گی۔آئی ایم ایف کے مطابق حکومت کو سرکاری اداروں میں کرپشن کا خاتمہ اور استعداد میں اضافہ، گورننس میں بہتری اور شفافیت، ٹیکس کا دائرہ کار مزید بڑھانے اور ٹیکس چھوٹ ختم کرنا ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی فنانسنگ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرنا ہو گا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان پر عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کا اثر پڑا۔ تاہم ملک نے جون تک کے کارکردگی اہداف بڑے مارجن سے پورے کیے، فیٹف پلان پر عمل درآمد ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کی تعریف بھی کی گئی ہے۔

اعلامیے میں سٹیٹ بینک کو خود مختار کرنے کے بل کو بھی سراہا گیا۔

پاکستان کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے دوچار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت