آپ کو نئے گانے پسند کیوں نہیں آتے؟

اگر آپ کی عمر تیس سال سے زیادہ ہے تو سوچیں کہ آپ نے آخری نیا گانا کب سنا؟

اب بھی گانے والے ہر سال ایوارڈ کیسے لے جاتے ہیں؟ کنسرٹ اب بھی کیوں ہوتے ہیں؟(فائل تصویر: پکسابے)

نظریں ملیں، دل دھڑکا، میری نظروں نے کہا، لو یو راجہ ۔۔۔

بات تو سن لیں، آ جاتے ہیں گانے پر بھی۔ اگر آپ کی عمر تیس سال سے زیادہ ہے تو سوچیں کہ آپ نے آخری نیا گانا کب سنا؟ کیوں آپ پرانے گانوں میں گھسنا پسند کرتے ہیں؟ نیا گانا کانوں میں پڑے بھی تو بھاگ پڑتے ہیں اور مہینوں بعد کوئی ایک آدھا اچھا گانا نصیب ہوتا ہے، کیوں؟

وہ جو ایک سے ایک کیسٹ کی تلاش ہوا کرتی تھی، ہر نیا آنے والا گانا سننے کی شدید خواہش ہوتی تھی، پسندیدہ گیتوں کی الگ سے کیسیٹیں بھروائی جاتی تھیں، ایک ہی گانا پوری کیسٹ کی دونوں سائیڈوں پہ ہوتا تھا، ٹی ڈی کے والی مہنگی کیسٹیں بھروا کے نذرانہ ویلنٹائن کی جاتی تھیں، وہ سب کھاتے کدھر چلے گئے؟ گانے کسی کام کے نہیں آتے اب، ہے نا؟

 

تو ’کے پاپ‘ آخر کون سنتا ہے؟ نئے گانے یوٹیوب پہ لاکھوں کی تعداد میں کون دیکھتا ہے؟ یہ ’بی پراک‘ کیسے بغیر بریک اپ کے بھی کروڑوں سال کی جدائیوں کے احساس دلا دیتا ہے؟ ڈراموں کے ساؤنڈ ٹریک (او ایس ٹی) کیوں ہٹ ہوتے ہیں؟ اب بھی گانے والے ہر سال ایوارڈ کیسے لے جاتے ہیں؟ کنسرٹ اب بھی کیوں ہوتے ہیں؟ بک گئی ہے کیا گورمنٹ؟ یا سارے مل کے ہمیں بنا رہے ہیں؟

دو روز پہلے مرشدوں نے ایک گانا بھیجا اور کہا ’کالج کے فرسٹ ائیر میں یہ دھن پہلی بار میں نے سنی تھی، اب بھی سنتا ہوں تو خود ہی کندھے اچکنے لگ جاتے ہیں۔ تسی وی انجوائے کرو۔‘

مجھے موت پڑ رہی تھی اسے پلے کرتے ہوئے، صبح سے شام ہو گئی، رات ہوئی، ویہلا ہوا تو خیال آیا، چلانے لگا تو بڑا سوچا کہ ایسا ہو کیوں رہا ہے آخر؟ ’کیا تمہارے پاس پانچ منٹ نہیں ہیں یا تم کچھ نیا سننا اور دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟‘

گانا چلایا ۔۔۔ وہ ایک انگریزی دھن تھی، ’کم سپٹمبر۔‘ جیسے ہی گانا چلا اعصاب ریلیکس ہو گئے۔ ایک دم وہی میوزک تھا ’لو یو راجہ۔‘ وہ انڈین گانا اس انگریزی گانے کی ڈٹو کاپی تھا۔ جھماکا ہوا اور کافی سارے پردے ہٹ گئے۔ جواب مل گیا کہ باؤ تم وہی سنتے ہو جو تم پہلے سے جانتے ہو۔ کچھ بھی نیا سننے یا دیکھنے کا مطلب ہے پانچ منٹ کی بَلّی!

اسی وقت پھر ایک ندائے غیب سنائی دی کہ بیٹے جو کچھ آپ نے سننا تھا پچیس تیس برس کی عمر تک سن لیا۔ اب آپ کا دماغ ادھری آرام دے ہوتا ہے جدھر کوئی جانی پہچانی چیز کانوں میں پڑتی ہے۔ ایسی چیز جو اب آپ کا دماغ قبول نہیں کرتا اور آپ کو پیغام بھیجتا ہے کہ اس ’شور‘ کو بند کروائیں، وہ اصل میں یادداشت کے لیے ایک خلائی مخلوق ہوتی ہے(اصلی والی)۔

جیسے دوستیوں کا مجھے بتائیں، تیس پینتیس کے بعد کتنے جگری دوست نئے بنے آپ کے؟ جن کے ساتھ آپ کوئی بات بھی کہیں سے چھیڑ دیں اور انہیں سارررے بیک گراؤنڈ کا پتہ ہو؟ وہ صرف چڈی بڈی ہوتے تھے، بچپن والے، جن کے ساتھ صرف ایک نیکر پہنے آپ ننگے پاؤں ریسیں لگاتے تھے، بنٹے کھیلتے تھے، ڈنکیاں دوڑاتے تھے یا گڑیوں کا شادی بیاہ ہوتا تھا۔

تو چوبیس پچیس سال سے کم نوجوانو، غور سے یہ بات سن لو کہ جو کرنا ہے استاد ٹائم تھوڑا ہے۔ جتنے زیادہ تجربے ہو سکیں کر ڈالو، جتنی دنیا گھوم لو، جتنے لوگوں سے مل لو، جتنے گانے سن لو، جتنے کھانے کھا لو، جتنی کتابیں پڑھ لو ۔۔۔ بعد میں دماغ چیزوں کو پسند کرنا چھوڑ دے گا۔ وہ اپنی سائنس لڑائے گا اور تم سمجھو گے ’ہن گلاں او نئیں رے گئیاں۔‘

ہاں بھائی، تیس پلس، اپنے دوست یار، بات چل رہی تھی گانوں کی، تو جان عزیز یہ واردات ہوئی ہے۔ اس وقت جو عمریں ہماری تھیں اتنے برس کے بچے آج بھی دیوانوں کی طرح ہر نیا گانا سنتے ہیں، پسند کرتے ہیں، سر دھنتے ہیں بلکہ پیر اور کمر بھی لچکاتے ہیں، اور یہ سب کرتے کرتے ٹک ٹاک سٹار بھی بن جاتے ہیں لیکن ہمارے لیے وہ سب کچھ ایک پیرلل یونیورس ہے، ایک بالکل الگ کائنات۔ جس تک ہماری خبر جاتی ہے اور نہ ہمیں کچھ پتہ چلتا ہے کہ وہاں چل کیا رہا ہے۔

یہ سب کچھ موت کے جیسا نہیں؟ کیا پچیس سال والا میں مر چکا ہوں؟ یا اب چالیس سال کا میں زندہ ہوں؟ سوچیں آپ بھی سوچیں۔

میرا ایک جواب تو یہ ہے کہ جو نہیں پسند اس پہ وقت ضائع کرنے کا اب کیا فائدہ؟ جیسے تب آپ کو پڑھائی نہیں پسند تھی لیکن مارے باندھے کرنا پڑتی تھی، اسی طرح اب زور زبردستی کریں گے تو اس سے بھی جائیں گے جو پسند لگتا ہے۔ یہ مگر جٹاکا جواب ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسرا جواب تھوڑا موٹیویشنل ٹائپ کا ہے۔ ارے ابھی تو آپ کی عمر پڑی ہے صاحب، کیا بات کرتے ہیں، نیا کچھ ٹرائے نہ کیا تو کیا جیا؟ بوڑھا دماغ تھوڑی ہوتا ہے، بوڑھا تو جسم ہوتا ہے اور وہ بھی پچھتر اسی کے بعد، ابھی کیا فالتو باتوں میں پڑ گئے، یہ تو وقت ہے نئے گانے سننے کا، نئی چیزیں ٹرائے کرنے کا، نئی جگہیں دریافت کرنے کا، پہلے تو آپ زندگی میں ’کچھ کر دکھانے‘ کے چکروں میں تھے، ابھی تو ٹک کے بیٹھے ہیں بھئی، اب کیا ایویں ہتھیار ڈال دیں گے؟

جو مرضی جواب پسند آئے رکھ لیں۔

اصل بات یہ ہے کہ آپ عادت کے غلام بن جاتے ہیں۔ میوزک آپ کے لیے پرانے تولیے، آرام دہ بوٹ یا روز کے انڈے ڈبل روٹی جیسے ہو جاتا ہے۔ کمفرٹ زون سے باہر کون آنا چاہتا ہے؟

تو بس اس طرح راجو جنٹلمین بن جاتا ہے، سالا میں تو صاحب بن جاتا ہے، جینز پہننے والوں کی پتلونیں استری ہو کے تلوار مارکہ کریز بنا لیتی ہیں لیکن واستو، بھیکو ماترے، مولا جٹ اور خود پچیس سال کے آپ، کہیں دور جا کے دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔

بقول جون ایلیا، خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی، خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ