چین کی دھمکی کے باوجود امریکہ کا بیجنگ اولمپکس کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان

نومبر میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک ٹیلی فون کال کے فوراً بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اشارہ دیا تھا کہ وہ گیمز کے سفارتی بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں۔

یکم دسمبر 2021 کی اس تصویر میں چین میں  کاریگر اولمپکس لوگو کی حامل عمارت کو پینٹ کر رہے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

اطلاعات ہیں کہ بیجنگ میں 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کی عالمی مہم میں شامل ہوتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا کہ فروری میں چین میں منعقد ہونے والے اس میگا ایونٹ میں امریکی حکومت کا کوئی نمائندہ شرکت نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ کا مقصد امریکی ایتھلیٹس کی شرکت کو محدود کیے بغیر بین الاقوامی سٹیج پر چین کو سخت پیغام دینا ہے۔

ساکی نے کہا: ’بائیڈن انتظامیہ سنکیانگ میں (چین کی جانب سے) جاری نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے پیش نظر 2022 کے سرمائی اولمپکس اور پیرا لمپکس گیمز میں کوئی سفارتی یا سرکاری نمائندہ نہیں بھیجے گی۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہماری مکمل حمایت حاصل ہے۔‘

امریکہ کے اس متوقع فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین نے امریکی رہنماؤں پر اس تنازعے پر نمائشی موقف اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سنگین جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ لیکن چین نے اپنے ان اقدامات کی تفصیل نہیں بیان کی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے اس اقدام کو ’محض سیاسی اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’امریکی سیاست دان بیجنگ سرمائی اولمپکس کے نام نہاد سفارتی بائیکاٹ کا دعویٰ کر رہے ہیں حالانکہ انہیں اس کے لیے انہیں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ امریکہ کا یہ طرز عمل خالصتاً تماشہ لگانے اور خواہش مندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا: ’اگر امریکہ اپنے راستے پر گامزن ہے تو چین سخت جوابی اقدامات کرے گا۔‘

امریکہ کا یہ اقدام چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت متعدد مغربی ممالک کی طرف سے بطور احتجاج سفارتی بائیکاٹ کے مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے۔

نومبر میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک ٹیلی فون کال کے فوراً بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اشارہ دیا تھا کہ وہ گیمز کے سفارتی بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق: ’صدر بائیڈن نے سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ میں (چین کی جانبب سے روا رکھے گئے) طرز عمل کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ماہ ہی صدر بائیڈن کو کھیلوں کے سفارتی بائیکاٹ کی باضابطہ سفارش کی گئی تھی اور توقع کی جا رہی تھی کہ وہ نومبر کے اختتام سے پہلے اسے منظور کر لیں گے۔

41 سالوں میں امریکہ کی طرف سے اولمپکس کا یہ دوسرا بائیکاٹ ہو گا۔ اس سے پہلے 1980 میں صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ بھی ایسا ہی کر چکی تھی۔

بائیڈن انتظامیہ پر سماجی کارکنوں اور کانگریس کے ارکان کی طرف سے اس ایونٹ میں امریکی عہدیداروں کی شرکت روکنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا۔

رواں سال مئی میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی نے بھی ان کھیلوں کے سفارتی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق تاہم اس کی سزا ملکی ایتھلیٹس کو نہیں دینی چاہیے تھی۔

بائیڈن انتظامیہ نے چین کے سنکیانگ صوبے میں صدر شی کی قیادت میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ جاری بدسلوکی کو ’نسل کشی‘ قرار دیا ہے۔

سماجی کارکنوں نے کہا کہ یہ گیمز چین میں اس وقت ہو رہی ہیں جب ’آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف بدترین کریک ڈاؤن جاری ہے۔‘

کم از کم 86 عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے اتحاد نے ’نو بیجنگ 2022‘ مہم میں شمولیت اختیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین تبت، مشرقی ترکستان، جنوبی منگولیا اور ہانگ کانگ میں سنگین کریک ڈاؤن کو مزید ہوا دے رہا ہے۔‘

عالمی تنظیموں کے اتحاد نے کم از کم 20 لاکھ اویغور مسلمانوں کو ’ری ایجوکیشن کیمپس‘ میں حراست میں رکھنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے، تبت پر قبضے، ہانگ کانگ میں ایک متنازع نئے قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ اور لاتعداد چینی وکلا، حقوق نسواں اور سماجی کارکن کی حراست اور گمشدگی کا حوالہ دیا ہے۔

اتحاد نے جنوبی منگولیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تائیوان کو دھمکی اور جغرافیائی سیاسی اشتعال انگیزی، جنوبی بحیرہ چین اور بھارت تبت سرحد پر بیجنگ کی جارحانہ توسیع پسندی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے واضح خطرہ کی نمائندگی کرتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس