سیالکوٹ واقعہ: وزیراعظم کا تشدد کے خلاف جامع حکمت عملی پر زور

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پیر کو سول اور عسکری قیادت کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد کو  انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس کے شرکا نے سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد کو  انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا(ویڈیو سکرین گریب/ وزیراعظم ہاؤس ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں ایک مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے تشدد کے خلاف ’جامع حکمت عملی‘ پر عمل درآمد پر زور دیا۔

عرب نیوز کے مطابق پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سول اور عسکری قیادت کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ 

یاد رہے کہ سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں مینیجر سری لنکن پریانتھا کمارا کو جمعے کو مشتعل ہجوم نے تشدد کے بعد آگ لگا دی تھی۔ ان کی میت پیر کو سری لنکا روانہ کی گئی۔ 

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور دیگر اعلیٰ عسکری و سول قیادت نے شرکت کی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اجلاس کے شرکا نے سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد کو  انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا۔

بیان میں کہا گیا: ’اجلاس کے شرکا کا خیال تھا کہ افراد اور ہجوم کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا اور تمام مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔‘

بیان کے مطابق: ’اجلاس میں سری لنکن شہری پریانتھا کو قتل کیے جانے جیسے ظالمانہ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تشدد سے نمٹنے کے لیے موجودہ پالیسیوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے، جس میں نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے۔

نیشنل ایکشن پلان انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی ہے، جو 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر عسکریت پسندوں کے حملے میں 134 طلبہ کی ہلاکت کے بعد وضع کی گئی تھی۔ 

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیریں مزاری نے ڈان ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو میں کہا: ’یہ تشدد کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست کے طور پر قطعی کارروائی کی جائے۔‘

سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سری لنکن شہری کی میت گذشتہ روز لاہور سے سری لنکن ایئر لائنز کی پرواز UL-186 کے ذریعے کولمبو پہنچائی گئی تھی، جہاں شام پانچ بجے پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر تنویر احمد اور دیگر سری لنکن حکام نے اسے وصول کیا۔

دوسری جانب پیر کو ہی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک وفد نے اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمشنر موہن وجے وکراما سے ملاقات کی اور کمارا کی موت پر ان سے تعزیت کی۔

ملاقات کے بعد وجے وکرما نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا: ’یہ ایک ہولناک قتل تھا اور جس طرح یہ سب ہوا، اس پر ہمیں تشویش ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت پاکستان نے فوری طور پر اعلیٰ سطح پر تمام ممکنہ اقدامات کیے ہیں اور انہوں نے اہل خانہ اور ہمیں یقین دلایا ہے کہ مجرموں کے خلاف بہت سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اور اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر دیا گیا ہے۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں بہت مخلص ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان