والدین تو سات سال سے مایوس ہیں

وزیر اعظم صاحب والدین کو وہ کلوژر نہیں ملا جس کی ان کو تمنا ہے۔ وہ کلوژر جس سے ان کے دل مطمئن ہو جائیں کہ حکومت نے ایسے تمام اقدامات کیے جن سے مستقبل میں کسی بھی والدین کو وہ دن دیکھنا نہ پڑے جو انھوں نے دیکھا۔

آرمی پبلک سکول سانحے میں جان سے جانے والے بچوں کے والدین کی مایوسی کی ذمہ دار اور کوئی نہیں بلکہ حکومت ہے (اے ایف پی)

وہ دن میرے ذہن پر نقش ہے۔ صبح کے وقت نیوز روم میں بیٹھے ایک نجی ٹی وی کے ٹکر پر نظر پڑی۔ پھر دوبارہ وہ ٹکر نظر نہیں آیا۔

ادھر اُدھر فون کیے تو کنفرم ہوا۔ پھر وقت کیسے گزرا کچھ نہیں معلوم۔ نیوز روم میں بیٹھے ہر لمحے نئی انفارمیشن، ہر لمحے نیا ایڈیٹوریل فیصلہ۔

نیوز روم مصروف سے مصروف ہوتا گیا یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا لیکن نیوز روم ویسے کا ویسا بھرا ہوا۔

آخر لگ بھگ ساڑھے نو بجے کرسی سے اٹھا اور بوجھل دل کے ساتھ باہر نکلا۔ دیگر ساتھی باہر اکٹھے بیٹھے تھے۔

وہ محفل جو بحث و مباحثے اور قہقہوں سے گونج رہی ہوتی تھی، اس پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔

کچھ دیر بیٹھنے کے بعد گھر کی جانب روانہ ہوا تو گھر پہنچ کر یہ یاد ہی نہیں آیا کہ میں گھر کے لیے کس راستے سے ہو کر آیا ہوں۔

اندر داخل ہوا تو بچے گہری نیند سو چکے تھے۔ میں ان کے پاس گیا ان کے ماتھوں کا بوسہ لیا اور ان کے قریب ہی بیٹھ زمین پر بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو روانہ تھے اور رکنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔

رکتے بھی کیسے؟ آرمی پبلک سکول پر حملے میں 141 معصوم بچوں نے اپنی جان گنوا دی تھی۔ وہ بچے جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان بھر کے بچوں کی طرح سکول گئے لیکن باقی بچوں کی طرح لوٹے نہیں۔

باقی بچوں کی طرح آدھا دن گزرنے ہی پر گھر نہیں بھیج دیے گئے بلکہ وہ بچے تو اس وقت بھی شدت پسندوں سے بچنے کی کوشش میں تھے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں جان سے جانے والوں کی ساتویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ان طلبہ کے والدین کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔

’پاکستان نے دہشت گردی کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم اپنے شہید بچوں کے والدین اور بچ جانے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔‘

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا: ’تشدد اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

لیکن وزیر اعظم صاحب والدین تو اسی وقت مایوس ہو گئے تھے جب قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کی جانب سے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوا۔

یہ نیشنل ایکشن پلان آرمی پبلک سکول کے حملے کے ایک ہفتے کے اندر مرتب کیا گیا۔ اس پلان میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تفصیلات تھی، ان پر عملدرامد کے کی نگرانی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں تھیں۔

لیکن جیسے جیسے ملک میں دہشت گردی کم ہوتی گئی ایکشن پلان بھی مدھم ہوتا گیا۔ وہ ایکشن پلان جو 141 بچوں کے جان کے نذرانے پیش کرنے کے بعد مرتب کیا گیا تھا۔

سابق چیف جسٹس کھوسہ نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پلان کو اس وقت مرتب کیا جب آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا اور پوری قوم نے یک زبان ہو کر کہا، ’بہت ہو گیا‘ (enough is  enough) لیکن حکومت نے اس حوالے سے تسلی بخش اقدامات نہیں کیے۔

وہ مایوس تو اسی وقت ہو گئے تھے جب انھوں نے 2018 میں تشکیل کی گئی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو، جو 2020 میں پیش کی گئی، مسترد کر دیا۔

والدین کی مایوسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس سانحے کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے نہ کہ سارا ملبہ سکول میں تعینات سکیورٹی عملے پر ڈال دیا جائے۔

انہی مایوس والدین کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے عہدے داران پر ذمہ داری میں کوتاہی برتنے کی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ ذمہ داری جونیئر افسران پر ڈال دی جاتی ہے اور بڑے افسران سے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔

’اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے ایکشن لے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم صاحب یہ والدین تو اسی دن مایوس ہو گئے تھے جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کو حراست میں تو لیا گیا اور پھر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

انھوں نے اپنے اعترافی بیان میں درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں ملالہ یوسف زئی پر حملہ بھی شامل تھا۔ اپنے اعترافی بیان میں ان حملوں پر کسی قسم کا پچھتاوا نہ تھا۔

اور پھر ایک دن وہ سکیورٹی ایجنسیوں کی حراست سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ پراسرار طور پر فرار ہو گئے۔ اور اب بقول ان کے ایک نئی شروعات کر رہے ہیں اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں جس میں وہ اہم انکشافات کریں گے۔

وزیر اعظم صاحب مایوسی تو ان والدین کو اس بات کی ہے کہ سات سال بیت جانے کے باوجود ان کو وہ کلوژر نہیں ملا۔ وہ کلوژر جس کی ان کو تمنا ہے۔

وہ کلوژر جس سے ان کے دل مطمئن ہو جائیں کہ حکومت نے تمام وہ اقدامات کیے ہیں جن سے مستقبل میں کسی بھی والدین کو وہ دن دیکھنا نہ پڑے جو انھوں نے دیکھا۔

جب تک ان کو کلوژر نہیں ملتا تب تک وہ مایوس ہی رہیں گے اور اس مایوسی کی ذمہ دار اور کوئی نہیں بلکہ حکومت ہے۔


نوٹ: یہ مضمون لکھاری کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ