فلسطینی رہنما محمود عباس کی اسرائیلی وزیر دفاع سے ’غیر معمولی‘ ملاقات

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ملاقات وسطی اسرائیل کے شہر روش ہاعين میں وزیردفاع بینی گینٹز کے گھر پر ہوئی، جس کے دوران ’سکیورٹی اور شہری معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

فلسطین کے صدر محمود عباس (بائیں) اور اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز (دائیں)۔ (فائل تصاویر: اے ایف پی)

فلسطین کے صدر محمود عباس نے منگل کو اسرائیل کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز سے ملاقات کی، جس کے دوران سکیورٹی اور شہری معاملات پر بات چیت کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ بینی گینٹز نے محمود عباس کو بتایا کہ وہ ’اقتصادی اور سویلین شعبوں میں اعتماد کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کا فروغ  جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی گذشتہ ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔‘

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ملاقات وسطی اسرائیل کے شہر روش ہاعين میں وزیردفاع بینی گینٹز کے گھر پر ہوئی، جس کے دوران ’دونوں شخصیات نے سکیورٹی اور شہری معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔‘

اگست کے آخر میں بینی گینٹز نے محمود عباس کے ساتھ بات چیت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر دفتر کا دورہ کیا تھا، جو کئی سالوں میں اس سطح پر پہلی سرکاری ملاقات تھی۔

لیکن ان مذاکرات کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ ’فلسطینیوں کے ساتھ کوئی امن عمل جاری نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا۔‘

فلسطینی شہری امور کے وزیر حسین الشیخ نے بدھ کو اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’محمود عباس نے بینی گینٹز سے ملاقات کی جس میں ایک ایسا سیاسی منظرنامہ بنانے کی اہمیت پر بات ہوئی جو بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق سیاسی حل کی طرف لے جاتی ہو۔‘

یروشلم پوسٹ نے بھی اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’محمود عباس اور بینی گینٹز  کے درمیان سکیورٹی، اقتصادی اور انسانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

اے ایف پی کے مطابق دونوں نے ’(یہودی) آبادکاری کی وجہ سے پیدا ہونے والے زمینی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس ملاقات میں بہت سے سلامتی، معاشی اور انسانی مسائل بھی زیر بحث آئے۔‘

دوسری جانب اسرائیل میں حزب اختلاف کی جماعت لیکوڈ پارٹی نے اس ملاقات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’اسرائیلی-فلسطینی حکومت نے فلسطینیوں اور محمود عباس کو دوبارہ ایجنڈے میں شامل کر دیا ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے خطرناک ہے۔‘

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں کافی خراب ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کی لیکوڈ پارٹی کے رہنما بنجمن نیتن یاہو نے 2009 سے 2021 کے دوران وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے دور میں اس معاملے کو سائیڈ لائن کردیا تھا۔ اسی طرح 2014 میں امن مذاکرات معطل کر دیئے گئے تھے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں میں توسیع ہوئی تھی۔

فلسطینی ریاست کی مخالفت کرنے والی آبادکار لابنگ کونسل کے سابق سربراہ نفتالی بینیٹ جون میں اقتدار سنبھالنے والے اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔

رواں برس اکتوبر میں اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس پر فلسطینیوں، امن کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور پڑوسی ملک اردن کی جانب سے مذمت کی گئی۔

وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے وزیر برائے ہاؤسنگ زیو ایلکن نے ایک بیان میں کہا تھا: ’مغربی کنارے میں یہودی موجودگی کو مضبوط کرنا صہیونی وژن کے لیے ضروری ہے۔‘

دوسری جانب فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر اسرائیل کا مقابلہ کریں، جسے فلسطینی ’جارحیت‘ تصور کرتے ہیں۔

تقریباً چار لاکھ 75 ہزار اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھے جاتے ہیں اور جس پر فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کے حصے کے طور پر دعویٰ کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا