مغربی کنارے میں 1300 سے زائد مکان تعمیر کرنے کا اسرائیلی اعلان

دائیں بازو کی ’نیو ہوپ‘ پارٹی کے رکن اور وزیر برائے ہاؤسنگ زیو ایلکن نے ایک بیان میں کہا: ’مغربی کنارے میں یہودی موجودگی کو مضبوط کرنا صہیونی وژن کے لیے ضروری ہے۔‘

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید رہائش گاہیں تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس پر فلسطینیوں، امن کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور پڑوسی ملک اردن کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی وزارت برائے ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن کے اعلان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے کے 13 سو 55  گھروں کے لیے ٹینڈر شائع کیے گئے تھے، جو کہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے اسرائیل کے قبضے میں ہیں جبکہ اگست میں نئے حکمران اتحاد کے اعلان کردہ مکانات کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

دائیں بازو کی ’نیو ہوپ‘ پارٹی کے رکن اور وزیر برائے ہاؤسنگ زیو ایلکن نے ایک بیان میں کہا: ’مغربی کنارے میں یہودی موجودگی کو مضبوط کرنا صہیونی وژن کے لیے ضروری ہے۔‘

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر اسرائیل کا مقابلہ کریں، جسے فلسطینی ’جارحیت‘ تصور کرتے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ردعمل پر گہری نظر رکھے گی، جس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے معاملے کی، اس تنازعے کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر مخالفت کرتی ہے۔

تقریباً چار لاکھ 75 ہزار اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھے جاتے ہیں اور جس پر فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کے حصے کے طور پر دعویٰ کرتے ہیں۔

’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘

دوسری جانب اسرائیل کے سکیورٹی پارٹنر اردن نے اس اعلان کو ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیثم ابو الفول نے بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی اراضی کی عمومی ’ضبطگی‘ کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا۔

اسرائیلی قبضے کے مخالف گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ اتوار کے اعلان نے ثابت کیا کہ نفتالی بینیٹ کا نظریاتی طور پر متنوع اتحاد، جس نے جون میں سابق وزیراعظم بینجمن نتن یاہو کی اسرائیلی بستیوں کی حامی حکومت کو ہٹا دیا تھا، ’تبدیلی کی حکومت‘ نہیں تھی۔

’یہ حکومت واضح طور پر نتن یاہو کی ڈی فیکٹو انضمام کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

پیس ناؤ نے بینیٹ کی بائیں بازو کے پارٹنرز ، لیبر اور میرٹز پارٹیوں سے مطالبہ کیا کہ ’بیدار ہوجائیں اور ان بستیوں کی تیزی سے تعمیر کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بار الان یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے شعبے سے منسلک موشے ہیلنجر نے اے ایف پی کو بتایا کہ بینیٹ کے آٹھ جماعتی اتحاد میں دائیں بازو کے دھڑوں کو ’اپنے ووٹروں کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ بائیں بازو کے ساتھ اتحاد میں ہونے کے باوجود اپنے مفادات کا دفاع کررہے ہیں۔‘

آبادکار لابی گروپ کے سابق سربراہ نفتالی بینیٹ، فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے دور میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ باضابطہ امن مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاشی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا پسند کرتے ہیں۔

آبادکاری کے اعلان کے فوراً بعد وزارت دفاع نے کہا کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو اسرائیلی تعمیراتی صنعت میں کام کرنے کے لیے نو ہزار اضافی اجازت نامے جاری کر رہی ہے جبکہ اس میں ’جلد ہی‘ مزید چھ ہزار اجازت نامے شامل کیے جائیں گے۔

تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار فلسطینیوں کو اس وقت اسرائیل کے اندر یا یہودی بستیوں میں کام کرنے کی اجازت ہے، جو عام طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں مساوی کام کے مقابلے میں کہیں زیادہ اجرت حاصل کرتے ہیں۔

ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن کی وزارت کے بیان کے مطابق نئے گھر سات بستیوں میں تعمیر کیے جانے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے اور الحاق شدہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع 1967 سے ہر اسرائیلی حکومت کے تحت جاری ہے، تاہم سابق وزیراعظم نتن یاہو کے دور میں گذشتہ چند سالوں میں تعمیراتی کام میں تیزی آئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا