نیا سال اور قدیم افغانستان کے تازہ جمہوری دکھ

اس وقت افغانستان کو کھوکھلے نعروں سے زیادہ جمہوری نظام کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے قدموں پہ دوبارہ کھڑے ہو سکیں، اپنا پرچم لہرا سکیں اور اپنا ملی سرود گا سکیں۔

کابل میں افغان  شہری الصبح بینک کے باہر رقم نکلوانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں (اے ایف پی)

دوستو! میں نہیں جانتی اس بار دسمبر کو میں کیسے الوداع کروں؟ گذشتہ سالوں میں جب کرونا کی وبا پھوٹ پڑی اور شہر کا شہر قرنطنیہ میں چلا گیا تھا تو ہم کتنے خوش تھے کہ چلو وبا کی وجہ سے بم دھماکوں میں کمی تو آئی۔

ہم کھانستے کھانستے دوہرے ہو جاتے پھر بھی شکر ادا کرتے کہ کرونا سے مرنے والے شہریوں کی قبروں میں ان کی لاشیں دفن ہو رہی ہیں باقیات نہیں۔ ہمیں نہیں معلوم تھا ہماری ادھوری خوشیوں کو بھی کسی کی نظر لگ سکتی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے حالات اتنے بدل جائیں گے کہ افغانستان میں لوگ بھوک سے مرنے لگیں گے اور کفن خریدنے کے پیسے نہیں ہوں گے۔ پچھلے سال جب پیشں گوئی کی گئی کہ آنے والے سال میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں تو میں ڈر گئی تھی۔ میں فال نکالنے والے کو کوسنے لگی۔

جب میں نے شوہر سے کہا کہ نئے سال کی فال اچھی نہیں نکلی تو وہ بولے ہم تو پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں ہم پہ اور کیا جنگ مسلط ہوگی۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ پھر میں کرونا کو ہی جنگ سمجھ کر چھینکتے چھینکتے جیت گئی۔

سوچا بلا تھی اور برکت نہ تھی۔ اس جشن نوروز میں ہم نے جو  گیت گائے مجھے ان کے بول تک بھول گئے ہیں۔ بس اتنا یاد ہے دسترخوان پہ ہفت میوہ سجا تھا اور ننھی ننھی سنہری مچھلیاں  شیشے کے جار میں تیر رہی تھیں۔

جن میں سے ایک جار ٹھوکر لگنے سے ٹوٹ گیا اور مچھلیاں دسترخوان پہ تڑپنے لگیں۔ انہیں تو ہم نے بچا لیا مگر شیشے کی کرچیاں دیکھ کر میری سہیلیوں کا دل دہل گیا۔ میں نے کہا تھا سائنس کے دور میں شگون کون مانتا ہے۔

آہ! وہ محفلیں، وہ قہقہے وہ احباب۔ ہم سبھی دوست، رشتے دار ایک دوسرے سے ایسے بچھڑ گئے جیسے شام کے وقت درخت پہ بیٹھے اونگھتے  پرندوں پہ کوئی فائر کر دے۔

کوئی سپین چلا گیا تو کوئی جرمنی میں رہ گیا۔ کسی کو البانیہ میں مکان ملا کسی کی قسمت میں اٹلی آیا اور کچھ تو ابھی بھی ابوظہبی کے کیمپ میں منتظر ہیں۔

انہیں ابھی تک یہ بھی نہیں معلوم  کہ ان کے نصیب میں کون سا ملک لکھا جائے گا۔ کسی کو امریکہ کی طرف سے بخشش میں دی جانے والی ہجرت ملی تو کسی کے حصے میں اپنے ہی ملک میں مفلسی، بیروزگاری اور نظر بندی آئی۔

شاید ہم زندگی میں دوبارہ کبھی اس طرح اکٹھے نہ ہو سکیں جیسے کابل کے چائے خانوں میں مل کر بیٹھا کرتے تھے۔ گو کہ شہر نو کی گنجان سڑکوں پہ ہمہ وقت دہشت گردی کا خوف ہمیں ستایا کرتا تھا مگر اتنی بےبسی بھی نہیں تھی کہ لوگ بھوک اور بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے لگیں۔

کابل میں لوگ اتنے دلبرداشتہ اور دل گیر ہو چکے ہیں کہ اپنے پناہ گزین رشتہ داروں اور دوستوں سے گزارش کرنے لگے ہیں کہ ’تم جس بھی ملک فرار ہوگئے نئی زندگی مبارک مگر خدا کے لیے اپنی تصویریں فیس بک پہ شیئر کر کے ہمارے دل مت جلاؤ۔‘

انھیں کیا پتہ دل پشوری کرنے کے لیے ہم مسکرا دیتے ہیں مگر اندر سے ہمارے اپنے دل رو رہے ہیں۔ میں نے غلطی سے اپنی ایک دوست سے جو ہرات میں رہتی ہے پوچھ لیا اس سال تمھارا کیا پلان ہے؟ اس نے فورا جواب دیا ’فرار از کشور (ملک سے فرار)۔‘

جب سے لڑکیوں پہ تعلیم اور روزگار کے دروازے بند ہوئے ہیں وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہیں۔ انہیں اپنے عورت ہونے پہ خدا سے گلہ ہے۔ وہ کہتی ہیں ہم زمانہ جہالت میں جی رہی ہیں۔

مرد کہتے ہیں ہمارا کون سا کاروبار چمک رہا ہے۔ ایک طرف مفلسی ہے دوسری طرف طالبان عشر کے نام پہ پیسے لینے آ جاتے ہیں۔ ہر دوسرے دن کوئی تاجر اغوا ہو جاتا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ ویسے ہی عروج پہ ہے۔

امن کی بدترین صورت حال اور معاشی مسائل ختم کرنے کی بجائے حکمران کبھی کہتے ہیں گاڑی میں میوزک سننا منع ہے کبھی کہتے ہیں عورت کا بغیر محرم گھر سے نکلنا منع ہے۔ مجھے افغانستان میں رہ جانے والے رشتےداروں اور دوستوں سے حال احوال پوچھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب سے ایک دوست نے کہا تھا کہ ’بار بار ہم سے ہمارا حال مت پوچھا کرو۔ ہم پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں نہ مر رہے ہیں۔‘ میں اب بہت محتاط ہوگئی ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کس سہیلی کے آنسو پونچھوں، کس کو تسلی دوں؟

کاش دنیا سمجھ سکتی کہ جنگ کبھی بھی اپنی یا پرائی نہیں ہوتی جنگ، جنگ ہوتی ہے۔ اپنے اور پرائے تو وہ ہوتے ہیں جو جنگ میں آپ کے ساتھ یا آپ کے مخالف کھڑے ہوتے ہیں۔

اس وقت افغانستان کو کھوکھلے نعروں سے زیادہ جمہوری نظام کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے قدموں پہ دوبارہ کھڑے ہو سکیں، اپنا پرچم لہرا سکیں اور اپنا ملی سرود گا سکیں۔

نئے سال کی خوشیاں اہل دنیا کو مبارک، ورجینیا میں جشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور مجھے کابل کے حالات پہ حبیب جالب کی نظم رہ رہ کر یاد آ رہی ہے:

ہنستی گاتی، روشن وادی

تاریکی میں ڈوب گئی

بیتے دن کی لاش پہ اے دل

میں روتا ہوں تو بھی رو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

ہر دھڑکن پہ خوف کے پہرے

ہر آنسو پر پابندی

یہ جیون بھی کیا جیون ہے

آگ لگے اس جیون کو

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا یہ ممکن ہے تم ہی کہو

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ