18 سال کی عمر میں گھر سے نکالا گیا لڑکا ’یوٹیوب کا بادشاہ‘ کیسے بنا؟

فوربز کے مطابق یوٹیوب پر مسٹر بیسٹ کے نام سے چینل چلانے والے 23 سالہ جمی ڈونلڈسن 2021 کے سب سے زیادہ کمانے والے یوٹیوبر رہے، جنہوں نے 5.4 کروڑ ڈالر کما کر وِن ڈیزل، جے زی اور بلی ایلش جیسی سلیبریٹیز کو پیچھے چھوڑ دیا۔

جمی ڈونلڈسن  کی کاروباری سلطنت اب اشتہارات اور سپانسرشپ کے روایتی آن لائن انفلوئنسرز سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے (مسٹر بیسٹ انسٹاگرام اکاؤنٹ)

جنوری 2017 میں امریکی ریاست شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ جمی ڈونلڈسن ایک کیمرے کے سامنے بیٹھے اور ایک لاکھ تک گنتی شروع کر دی۔

اگلے 40 گھنٹوں کے دوران وہ آہستہ آہستہ تھکے ہوئے لگنا شروع ہوگئے۔ اپنی کرسی پر پیچھے کی جانب جھکے ہوئے، آنکھیں بند، کبھی کبھی آگے پیچھے ہلتے ہوئے، نمبر ایک دوسرے ساتھ جڑتے گئے۔ سکرین پر ٹیکسٹ لیبل آتے رہے، ’مجھے مارو‘ اور ’مجھے اس پر افسوس ہے۔‘

آخر کار گنتی ختم ہوئی۔ ’میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟‘ یہ کہتے ہوئے وہ کرسی پر ڈھیر ہوگئے۔

یہ سخت گنتی ڈونلڈسن کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ اپنے فرضی نام ’مسٹر بیسٹ‘ سے پوسٹ کی گئی ویڈیو کے بعد سے وہ دنیا کے سب سے مشہور ترین یوٹیوب سٹارز میں سے ایک بن گئے ہیں۔

انہوں نے سٹنٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس میں مشہور کورین سیریز سکویڈ گیم کا ایک غیر مہلک سین کو دوبارہ سے پیش کرنا بھی شامل ہے، جس سے انہیں 8.8 کروڑ سے زائد صارفین ملے ہیں۔

جمعے کو فوربز نے انہیں 2021 کا سب سے زیادہ کمانے والا یوٹیوبر قرار دیا، جنہوں نے اشتہارات، سپانسرشپس، کپڑوں، ویڈیو گیمز اور برگرز کی ترسیل سمیت مصنوعات کے بڑھتی ہوئی سلطنت سے 5.4 کروڑ ڈالر (3.9 کروڑ یورو) کی آمدن حاصل کی۔ 

یہ 2020 کے ٹاپ سٹار کے مقابلے میں تقریباً دوگنی آمدنی تھی، جس کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ٹاپ 40 سلیبریٹیز کی فہرست میں وِن ڈیزل (5.4 کروڑ ڈالر)، جے زی (5.35 کروڑ ڈالر) اور بلی ایلیش (5.3 کروڑ ڈالر) کو پیچھے چھوڑ گئے۔

تو ایک انٹرنیٹ کے جنون میں مبتلا نوجوان، جسے یونیورسٹی چھوڑنے پر والدین نے گھر سے نکال دیا، یوٹیوب کا بادشاہ کیسے بن گیا؟

’میں جاگا، میں نے یوٹیوب کے متعلق پڑھا، میں سو گیا‘

23 سالہ جمی ڈونلڈسن نے 12 سال کی عمر میں یوٹیوب ویڈیوز بنانا شروع کی تھیں۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے، وہ اس سٹریمنگ سائٹ کے خودکار سفارشی نظام (automated recommendation system) کو سمجھنے کے جنون میں مبتلا ہوتے گئے۔

انہوں نے کئی سالوں میں بہت سی چیزیں آزمائیں، مائن کرافٹ کھیلی، کال آف ڈیوٹی کھیلی، یوٹیوب ڈرامے کا مذاق اڑایا، دیگر یوٹیوبرز کا مذاق اڑایا۔ 2013 تک ان کا چینل ’وہ لڑکا‘ (That dude) کہلاتا تھا۔

2016 میں انہوں نے اپنے والدین کو یہ بتائے بغیر یونیورسٹی چھوڑ دی کہ وہ خود کو الگورتھمز کی اسراریت کو سمجھنے کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ جب ان کی والدہ کو پتہ چلا تو انہوں نے ڈونلڈسن کو بے دخل کر دیا، لیکن وہ پھر بھی اپنی کوششوں میں لگے رہے اور روز دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقاتوں میں یوٹیوب کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔

ڈونلڈسن نے 2020 میں بلوم برگ کو بتایا: ’میں بیدار ہوتا، میں یوٹیوب کو سٹڈی کرتا، میں ویڈیوز کا مطالعہ کرتا، میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کرتا، میں سو جاتا۔ یہ میری زندگی تھی۔‘

یہ ایک لاکھ تک کی گنتی تھی جس نے آخر کار ڈونلڈسن کے یوٹیوب کے نقطہ نظر کو وضاحت دی۔ وہ اعلیٰ تصور کے سٹنٹ کے ساتھ  اپنے ناظرین کے دل جیت سکتے ہیں جس کے لیے بہت بڑی کوشش اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ جیل میں 24 گھنٹے گزارنا۔

ڈونلڈسن نے کہا: ’یوٹیوب کی خوبصورتی یہ ہے کہ کوشش دگنی کرنے سے ویوز دگنے نہیں ہوتے، یہ 10 گنا ہو جاتے ہیں۔ آپ کو پہلے 10 لاکھ سبسکرائبرز ملنے میں کئی سال لگیں گے لیکن دوسرے 10 لاکھ چند ماہ میں آ جائیں گے۔‘

19 سال کے ہونے سے پہلے ہی انہیں سالانہ 12.2 کروڑ ویوز مل رہے تھے، اس کے بعد 46 کروڑ۔ انہوں نے 20 لاکھ تک گنتی کی، 24 گھنٹے تک پانی کے اندر رہنے کی کوشش کی، خود کو برف کے ایک بلاک کے اندر قید کر لیا۔

گذشتہ مارچ میں جب انہوں نے خود کو 50 گھنٹے تک تابوت میں زندہ دفن کرنے کا سٹنٹ کیا تو وہ اصل میں پرجوش اور خوش نظر آئے۔ تابوت میں جانے سے قبل وہ خوشی سے کہتے ہیں: ’میرے تابوت میں خوش آمدید!‘

انہوں نے توجہ حاصل کرنے والے ویڈیو ٹائٹلز بنانے کے فن میں بھی مہارت حاصل کی: ’میں سب سے زیادہ سکیورٹی والی جیل میں 50 گھنٹے زندہ رہا‘، یا ’مجھے ایک اصلی باؤنٹی ہنٹر نے نشانہ بنایا۔‘ وہ پیش منظر تصاویر میں کسی خوفناک یا عجیب و غریب صورت حال میں چیختے ہوئے نظر آئے۔

ان کے بہت سے سٹنٹ خیراتی تھے: پیزا کوریئرز، اوبر ڈرائیورز، ٹوئچ سٹریمرز، بے گھر افراد، ان کے 30 لاکھ ویں سبسکرائبر اور ان کی والدہ کے لیے سخاوت کے کام، جن میں سپانسرشپس کے ذریعے رقم حاصل کی گئی۔

ان کی سب سے مہنگی ویڈیوز میں سکویڈ گیم  کی مکمل سٹیجنگ تھی، جس میں موت تک آخری جنگ کی جگہ میوزیکل چیئرز کا کھیل پیش کیا گیا۔ اس کے وسیع سیٹوں اور ڈرامائی طور پر پھٹنے والے ٹریک سوٹس کے ساتھ، اس کی لاگت تقریباً 35 لاکھ ڈالر تھی۔

انہوں نے بلوم برگ کو بتایا کہ ’پیسہ بڑی ویڈیوز کرنے اور بہتر مواد بنانے کا ذریعہ ہے۔‘

کیلیفورنیا میں قائم انفلوئنسر ایجنسی کریٹر ڈیک کی چیف ایگزیکٹو ہیلسن زو، جنہوں نے اکثر ڈونلڈسن کے درجے کے یوٹیوبرز کے ساتھ کام کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ان کے چینل نے ’ہیرو یا ولن بننے کی گہری انسانی خواہش کو سمجھا‘ اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنایا، جن کے بارے میں دوسرے بس خواب ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس ایسا کرنے کے اتنے وسائل ہوں۔ 

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ایک لاکھ تک گنتی کرنا، کول گیمز کھیلنا، ایک بینک لوٹنا، فوج کو اپنا پیچھا کروانا، وہ واقعی وائلڈ اور انتہائی ہیں مگر تفریحی بھی، جس کے خواب سات سے 13 سال کی عمر کے لڑکے اپنی خیالی دنیا میں دیکھتے ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گی کہ ان کا اپنا سات سالہ بیٹا مسٹر بیسٹ کا چینل دیکھے۔

آج ڈونلڈسن کے پاس سٹنٹس کی منصوبہ بندی کرنے، لکھنے، پروڈیوس کرنے، سیٹ اپ کرنے، انتظام کرنے اور ایڈٹ کرنے کے لیے تقریباً 50 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ اس کے باوجود ان کی کاروباری سلطنت اب اشتہارات اور سپانسرشپ کے روایتی آن لائن انفلوئنسرز سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔

اپنے ہیرو ایلون مسک کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شہرت کو متعدد دیگر صنعتوں میں قدم رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے متعدد ٹیک سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی ہے اور آن لائن تخلیق کاروں کو گرانٹ دینے کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا سرمایہ کاری فنڈ (اگرچہ اپنے پیسوں سے نہیں) تشکیل دینے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے ایپ پر ’کیپ یور فنگر آن دی ایپ‘ کے نام سے ایک موبائل گیم لانچ کی جس میں جو بھی اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر سب سے زیادہ دیر انگلی رکھ سکتا ہے اسے 25 ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا (پہلا راؤنڈ 70 گھنٹے تک جاری رہا)، نیز انہوں نے آئی فون کے لیے ویڈیو گیم کنٹرولر میں بھی رقم لگائی۔

سب سے کامیاب ان کا برگر برانڈ تھا، ایک ’گھوسٹ کچن‘ کا کاروبار، جس میں امریکہ بھر میں ریستوران مالکان ان کے نسخے کے مطابق اپنے باورچی خانے میں ان کے برگر پیٹیز بنا سکتے ہیں اور انہیں مداحوں تک پہنچا سکتے ہیں جبکہ ڈونلڈسن اس کی مارکیٹنگ سنبھالتے ہیں۔

فوربز کے مطابق یہ کاروبار تیزی سے شروع ہوا اور پہلے دو ماہ میں 10 لاکھ سینڈوچ اور گذشتہ جمعے تک مجموعی طور پر 50 لاکھ سینڈوچ فروخت ہوئے۔ اس وقت تقریباً 1600 ریستوران شریک ہیں اور منافعے کو ڈونلڈسن کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں۔

یہ سائیڈ وینچرز اس بات کی مثال ہیں جس کو وینچر کیپیٹل فرم سگنل فائر ’انفلوئنسر معیشت‘ کا ایک نیا مرحلہ قرار دیتی ہے، جس میں مواد تخلیق کرنے والے یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر اپنی مصنوعات کو مونیٹائز کرنے سے لے کر دیگر کاروباروں تک جاتے ہیں اور اپنے مداحوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتے ہیں۔

ہیلن زو کا کہنا ہے کہ ڈونلڈسن ایک ایسے مقام پر ہیں، جس کے لیے بہت سے آن لائن تخلیق کار جدوجہد کرتے ہیں، جب وہ کامیابی کی درمیانی صفوں سے مسٹر بیسٹ کے سٹراٹوسفیئر میں منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتی ہیں: ’جب وہ درمیانے درجے میں پہنچتے ہیں تو وہ کسی چیز کے بارے میں پریشان ہونا شروع کر دیتے ہیں، جو یوٹیوب، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم کے حوالے سے ان کے برانڈ کی لمبی عمر ہے۔‘

’یہ پلیٹ فارم ہر وقت اپنے الگورتھم تبدیل کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے الگورتھم تبدیل کرتے ہیں تو ان انفلوئنسرز کو اپنی ویورشپ اور فالوورز کھونے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘

ہیلن زو نے کہا کہ تاہم یہ بھی مداحوں کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ کام کے نئے طریقوں کو فروخت کرنے کی اناڑی کوششوں کے طور پر دیکھ سکیں۔ ’عام طور پر یہ بہت کیا جاتا ہے، لیکن یہ یقینی طور پر ایک مشکل اقدام ہے۔‘

دوسرے بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ فوربز کی فہرست پر نمبر دو جیک پال اپنی اور اپنے بھائی کی متنازع ویڈیوز کی وجہ سے یوٹیوب کے ادائیگی کے نظام سے منجمد ہونے کے بعد اب باکسنگ کی نمائش سے زیادہ تر رقم کماتے ہیں۔

دوسرے یوٹیوبرز کے ساتھ میچوں کو پیچھے چھوڑ کر وہ اب پیشہ ورانہ مکسڈ مارشل آرٹس کے فائٹرز کے ساتھ میچ کھیلتے ہیں۔ 

اچھی کام کی جگہ نہ ہونے کے الزامات

گذشتہ سال نیو یارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ مسٹر بیسٹ کے متعدد سابق ملازمین نے ان پر ایک ناخوشگوار، بلیئنگ (bullying) والے کلچر اور بعض اوقات ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا الزام لگایا تھا۔

ایک نوجوان ویڈیو ایڈیٹر میٹ ٹرنر نے کہا کہ ڈونلڈسن تقریباً روزانہ انہیں ڈانٹتے اور ان کی توہین کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں رلا دیتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈسن کے دوستوں کے لیے اپنے کام کا کریڈٹ لینا آسان تھا جبکہ ان کے ساتھ اکثر ایسا نہیں ہوتا تھا۔

ایک اور ملازم نیٹ اینڈرسن نے بتایا کہ انہوں نے ڈونلڈسن کے بے دریغ کمال پسندی اور غیر معقول طرز عمل کی وجہ سے صرف ایک ہفتے کے بعد عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

دونوں افراد نے کہا کہ ڈونلڈسن نے اپنے جنونی مداحوں کو روکنے کے لیے کام نہیں کیا، جن میں سے کچھ نے اینڈرسن کو ان کے تجربے کے بارے میں یوٹیوب ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں بھیجی تھیں۔

ڈونلڈسن کی میڈیا کمپنی نائٹ اور ان کی سمندری تحفظ کی خیراتی تنظیم ٹیم سیز نے دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ ایک ترجمان نے گذشتہ سال نیو یارک ٹائمز کو کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

کچھ مداح ریفائنایبل میں ڈونلڈسن کی طرف سے سرمایہ کاری کو بھی سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہ کرپٹو کرنسی پروجیکٹ ہے جو نان فنج ایبل ٹوکن (این ایف ٹی) بنانے، انہیں خریدنے اور فروخت کرنے کو آسان کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل آرٹ ورک سے منسلک ایک قسم کا مالیاتی آلہ ہے۔

گذشتہ اپریل میں جب اس کا آغاز ہوا تو ریفائنایبل کی بلٹ ان کرنسی فائن کی ایکسچینج پرائس میں تقریباً تین سے پانچ ڈالر کے درمیان اتار چڑھاؤ آتا رہا لیکن یہ تیزی سے 20 سینٹ کے لگ بھگ گر گئی اور تب سے ہی وہاں موجود ہے اور اب وہ نقصان میں ہیں جنہوں نے اسے خریدا تھا۔

ڈونلڈسن نوعمری میں کی گئی ویڈیوز اور ٹویٹس میں ہم جنس پرستی کے خلاف زبان استعمال کرنے پر بھی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، وہ اکثر کسی ’بری‘ چیز کے لیے (gay) ’ہم جنس پرست‘ کا لفظ استعمال کرتے اور کسی کے ساتھ بحث میں انہیں نیچا دکھانے کے لیے ہم جنس پرستوں کے لیے توہین آمیز لفظ استعمال کرتے۔

اس سے قبل ایک ترجمان نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا: ’جب جمی نوعمر تھے اور پہلی بار آغاز کر رہے تھے تو انہوں نے لاپروائی سے ایک سے زیادہ مواقع پر ہم جنس پرستوں کے لیے استعمال ہونے والے توہین آمیز لفظ استعمال کیے۔ جمی جانتے ہیں کہ ہوموفوبک بیان بازی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مسٹر بیسٹ کے تاج کو نہیں چھین سکتا۔ ان کی تازہ ترین ویڈیو ’ایک لاکھ ڈالر کی انتہائی ہائیڈ اینڈ سیک‘ کو 4.7 کروڑ ویوز ملے ہیں، جس میں وہ لوگن پال سمیت دیگر مشہور یوٹیوب ناموں کو تلاش کرتے ہیں جو خالی سپورٹس سٹیڈیم، کوڑے دانوں، کریٹوں اور فریزر کے اندر چھپے ہیں۔

ہیلن زو کا کہنا ہے: ’جو چیز (یوٹیوب پر) واقعی اچھی طرح کام کرتی ہے وہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے حقیقی خیالات کو سامنے رکھتے ہیں اور وہ اپنے فالورز کے ساتھ حقیقی تعلق قائم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘

’وہ واقعی پرجوش لوگ ہوتے ہیں، وہ عوامی طور پر ناکام ہونے سے نہیں ڈرتے۔ اپنے آپ کو ایسی جگہ پر رکھنے کے لیے نہ صرف صلاحیت بلکہ جذباتی ہمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘

دی انڈپینڈنٹ سے بات کرنے کے بعد ہیلن زو نے اپنے بیٹے سے دوبارہ پوچھا کہ کیا وہ مسٹر بیسٹ کو دیکھتا ہے۔ پتہ چلا کہ وہ ان کو بغیر بتائے ایسا کرتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل