ٹونگا کا دنیا سے رابطہ بحال، امدادی سامان پہنچنا شروع

دفاعی ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کا C-130 طیارہ انتہائی ضروری انسانی امداد لے کر ٹونگا کے ہوائی اڈے پر اترا ہے۔

جنوبی بحرالکاہل میں آتش فشاں کے پھٹنے اور سونامی سے متاثرہ ملک ٹونگا کا پانچ روز بعد باقی دنیا سے اس وقت رابطہ بحال ہو گیا جب نیوزی لینڈ سے امدادی سامان لے جانے والے پہلے طیارے نے جمعرات کو جزیرے پر لینڈ کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دفاعی ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کا C-130 طیارہ انتہائی ضروری انسانی امداد لے کر ٹونگا کے ہوائی اڈے پر اترا ہے۔

ایک بڑے آتش فشاں کے پھٹنے اور سونامی سے ملک کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد یہ فوآموتو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والی یہ پہلی پرواز ہے۔

ادھر آسٹریلوی وزیر دفاع پیٹر ڈٹن نے بھی کہا ہے کہ رائل آسٹریلین ایئر فورس کا امداد سے لدا ہوا ایک طیارہ اور متاثرہ ایئرپورٹ کے رن وے سے راکھ ہٹانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ایک اور سوئپر طیارہ برسبین سے روانہ ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹونگا پہنچنے والی امدادی پروازوں میں پینے کا پانی اور دیگر امدادی سامان شامل ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ ننایہ مہوتا نے بتایا کہ ایک C-130 ہرکولیس فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ پانی کے کنٹینرز، عارضی پناہ گاہوں کی کٹس، جنریٹرز، حفظان صحت کے سامان اور مواصلاتی آلات لے کر ٹونگا پہنچا ہے۔

کرونا کی منتقلی سے بچنے کے لیے امدادی سامان کی ترسیل بغیر کسی انسانی رابطے کے کی جائے گی۔

ٹونگا کرونا کی وبا سے محفوظ رہا ہے جہاں اس وبا کا پھیلاؤ نہیں ہوا اور وبا کے آغاز کے بعد سے یہاں صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیوزی لینڈ کے وزیر دفاع پینی ہینارے نے کہا کہ طیارہ نیوزی لینڈ واپس آنے سے پہلے 90 منٹ تک ٹونگا رکے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ٹونگا میں تقریباً 84 ہزار افراد، جو کل آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں، آتش فشاں کے پھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک کے مطابق ملک میں اس قدرتی آفت سے تین اموات اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں، گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور پینے کا پانی آلودہ ہو چکا ہے۔

ہفتے کو آتش فشاں کے پھٹنے اور سونامی کے بعد ٹونگا کا باقی دنیا کے ساتھ رابطہ محدود رہا اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں کی واحد فائبر آپٹک کیبل ٹوٹ گئی ہے جو ٹونگا کو باقی دنیا سے جوڑتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ استعمال کرنے یا بیرون ملک فون کال کرنے کے قابل نہیں رہے حالانکہ کچھ مقامی فون نیٹ ورک اب بھی کام کر رہے ہیں۔

جمعرات کی شام نیوزی لینڈ سے بحریہ کے ایک جہاز کے بھی ٹونگا پہنچنے کی توقع ہے جس میں ہائڈرو گرافک آلات اور غوطہ خور شامل ہیں۔ اس کے ساتھ بحری جہاز میں امدادی سامان کی فراہمی میں مدد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر بھی لایا جا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس بحری جہاز کا پہلا کام آتش فشاں کے پھٹنے اور سونامی کے بعد دارالحکومت نوکو الوفا میں شپنگ چینلز اور بندرگاہ کی جانچ کرنا ہوگا۔

نیوزی لینڈ کی بحریہ کا ایک اور جہاز ڈھائی لاکھ لیٹر پانی لے کر روانہ ہو چکا ہے۔ یہ جہاز ڈی سیلینیشن پلانٹ کے ذریعے روزانہ دسیوں ہزار لیٹرز تازہ پانی بھی فراہم کرسکتا ہے۔

حکام اور ریڈ کراس نے بتایا کہ ٹونگا کے تین چھوٹے جزیروں کو سونامی کی لہروں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان جزیروں پر بظاہر تمام مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور فونوفا جزیرے پر صرف دو گھر باقی بچے ہیں۔ نوموکا میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع ہے جب کہ متاثرہ جزائر سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا