’اب تو ماں باپ کی مرضی سے شادی کروں گی بھی نہیں‘

تین مرتبہ علیحدگی اختیار کرنے والی ایک خاتون کی کہانی جو خود کو نہیں حالات کو بدلنا چاہتی ہیں۔

ایک عورت کی کہانی جو مسلسل ناکامیوں یا محض اپنی انا کی وجہ سے اپنی غلطیوں سے نظر پوشی کر رہی تھیں (اے ایف پی فائل فوٹو)

ہر انسان یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی زندگی آسان ہو جائے اور جس کے لیے وہ کافی جدوجہد کرتا ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں کبھی جیت جاتا ہے تو کبھی ہار۔

ایک کامیاب انسان کرتا بھی ایسے ہی ہے۔ وہ اپنی پہلی ناکامی کی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کرتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غلطی پہ غلطی کرنے کے باوجود اپنی ناکامی کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسی ہی ایک داستان آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

وہ آج بھی سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی پر میں اسے روزانہ کی طرح   نظرانداز کرکے آگے بڑھ گئی۔ اس نے آواز دی: ’رکیں میری بات سنیں۔‘

اس کی زندگی پوری طرح الجھی ہوئی تھی اور میں سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے۔ کبھی کہتی کہ میں نے واپس اپنے شوہر کے پاس جانا ہے جو بقول اس کے شادی کے تیسرے روز اسے ماں باپ کے گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور پھر اس نے مڑ کے خبر نہیں لی۔ 

میں نے اسے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تمھاری کس طرح سے مدد کروں۔ ’باجی میں اس سے بدلہ لینا چاہتی ہوں،‘ وہ گویا ہوئی۔

’بدلہ، کیسا بدلہ؟‘ میں نے حیرت سے سوال کیا۔

’باجی اس نے میری زندگی تباہ کی ہے میں اس کی زندگی تباہ کر دوں گی۔ اس کے لیے مجھے آپ کی مدد چاہیے،‘ وہ غصے اور جذبات میں مسلسل بولتی گئی مگر اسی جذبات کی لہر میں ایک بات کہہ گئی جس نے مجھے چونکا دیا کہ یہ اس لڑکی کی تیسری شادی ہے اور اس شادی کا محلے والوں کو بھی پتہ نہیں۔

دوسری طلاق کے بعد ماں باپ کے گھر رہ رہی تھی اور پھر کچھ عرصے بعد ماں باپ نے اس کا نکاح تیسری بار کروا کے اس آدمی کے ساتھ رخصت کر دیا تھا جس کی پہلی بیوی مر گئی تھی اور اس سے ایک نو سال کی بیٹی بھی تھی لیکن شادی کے تیسرے روز وہ اس کو ماں باپ سے ملوانے لے کر آیا اور یہ کہہ کر گیا کہ کشمیر جا رہا ہوں واپس آ کر لے جاوں گا پر وہاں جا کر اس نے کوئی رابطہ نہ کیا۔

میں نے اس لڑکی کو کہا کہ اس کا رابطہ نمبر ہے تو کال کر کے بات صاف کر لو کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔

’نہیں باجی میں اسے فون نہیں کر سکتی۔ میں نے بھائی کے ایک دوست کو اس کا نمبر دیا ہے، وہی اس سے رابطہ کرتا ہے۔‘

تو آپ کے بھائی کے دوست نے رابطہ کر کے آپ کو کیا بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟

میرے اس سوال کے جواب میں وہ بولی ۔۔ ’باجی وہ کہتا ہے کہ میں اسے سمجھا رہا ہوں وہ سمجھ جائے گا اور تمھیں گھر واپس لے جائے گا۔‘

’وہ اسے کب سے سمجھا رہا ہے؟‘ میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

’تین چار ماہ ہو گئے ہیں،‘ اس نے میرے طنز کو محسوس کیے بنا جواب دیا۔ میں نے کہا، ’دیکھو وہ تمھارا شوہر ہے تم خود اس سے رابطہ کرو اور پوچھو وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔‘

وہ نہیں مان رہی تھی پر میرے اصرار پہ ہامی بھر لی۔ میں نے اسے کہا کہ ’آپ کال کر کے ریکارڈنگ پہ لگا دینا۔‘

شام کو اس نے مجھے واٹس ایپ پہ ایک ریکارڈنگ بھیجی جسے سن کر ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اس کے شوہر نے اسے دو سال پہلے ہی طلاق دے دی ہے جس کے عدالت میں ثبوت بھی موجود ہیں اور اس کی بیٹی کو اغوا کرنے کا اس نے کیس نہیں کیا۔

وہ ریکارڈنگ سن کے میں سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔ میں نے اسے کہا، ’وہ تمھیں چھوڑ چکا ہے اور تم نے مجھے بتایا ہی نہیں؟‘

جواب میں بولی کہ ’میں نہیں مانتی وہ بےشک کہتا رہے۔‘

میں نے اس کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب رکھنا چاہے بھی تو نہیں رکھ سکتا کیونکہ مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا اصرار کہ ’طلاق میرے تک پہنچی ہی نہیں تو میں کیوں مانوں کہ اس نے دے دی ہے،‘ یہ کہتے ہوئے اس نے وہ کاغذ تہہ کر کے پرس میں رکھ دیا جس پہ واضح اس کے سابق شوہر کی تحریر تھی کہ دو شادیوں کو مجھ سے پوشیدہ رکھ کر جھوٹ بول کے نکاح کیا گیا اور پھر میری بیٹی کو اغوا کر کے راولپنڈی لے کے جانے پر انہیں پریشان رکھا جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس میں طلاق دے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں نے اسے کہا، ’دیکھو حقیقت کو سمجھو، تمھاری غلطی ہے کہ اس کی بیٹی کو بنا بتائے راولپنڈی لے گئی اور پہلی شادیاں پوشیدہ رکھیں۔‘ پر مجھے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ میری باتوں سے بےزار ہو رہی ہے اور آخر میں میری بات کاٹتے ہوئے پھر بولی کہ ’میں اس سے بدلہ لینا چاہتی ہوں۔‘

میں نے کہا کہ ’کیا اس نے تمھارے جہیز کا سامان اس نے واپس نہیں کیا؟‘

’وہ تو میں نے کب کا بیچ دیا،‘ اس نے لاپروائی سے جواب دیا۔

’کیا اس نے حق مہر ادا نہیں کیا؟‘ میں نے پھر سوال کیا۔

’وہ اتنا تھا ہی نہیں بس ایک لاکھ روپے تھا جو میں نے پہلے ہی لے لیا تھا۔‘

میں نے کہا تو پھر اس کا پیچھا چھوڑو اپنی زندگی کا سوچو کہ آگے کیا کرنا ہے اور ماں سے کہو کوئی اچھا لڑکا دیکھ کے شادی کر دیں۔

’نہیں اب تو ماں باپ کی مرضی سے کروں گی بھی نہیں۔‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر چلی گئی پر میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنے بگڑے حالات کا ذمہ دار اپنے ماں باپ اور اپنے سابق شوہروں کو ٹھہرا رہی تھی۔

میرے خیال سے اسے کسی اچھے ماہر نفسیات کی ضرورت تھی کیونکہ مسلسل ناکامیوں یا محض اپنی انا کی وجہ سے اپنی غلطیوں سے نظر پوشی کر رہی تھی اور قصوروار دوسروں کو ٹھہرا رہی تھی۔ اپنی ناکامیوں سے وہ کچھ سیکھ نہیں پا رہی تھی اس لیے اسے پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ماضی میں کی گئی غلطیوں کو ٹھیک کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا لیکن ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ غلطی چھپانے کے لیے مزید غلطیاں کر کے اپنی زندگی پہ ناکامی کا ٹھپہ لگانے کی بجائے ان کو تسلیم کر کے اپنے مستقبل کو بہتر بنانا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر