مہنگائی سے متعلق سوال پر بائیڈن کے صحافی کے لیے نازیبا الفاظ

وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ کے بعد فاکس نیوز کے صحافی پیٹر ڈوسی نے امریکی صدر سے سوال پوچھا تھا کہ ’کیا مہنگائی سیاسی مسئلہ ہے؟‘ تو بائیڈن نے انہیں ’بیوقوف‘ کہتے ہوئے نازیبا الفاظ بولے۔ ممنکہ طور پر انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا مائیک آن ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران مہنگائی کے حوالے سے سوال پوچھنے پر فاکس نیوز کے صحافی کے لیے نازیبا الفاظ بول دیے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں اپنے مسابقتی کونسل کے اجلاس کے لیے موجود تھے، جو قوانین و ضوابط کو نافذ یا تبدیل کرنے کی ذمہ دار ہے تاکہ صارفین کو زیادہ قیمتوں سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

اس موقع پر کمرے میں موجود رپورٹرز نے کئی سوالات اٹھائے۔

جب صحافی اجلاس کے بعد باہر نکل رہے تھے تو فاکس نیوز کے رپورٹر پیٹر ڈوسی نے صدر بائیڈن سے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے مہنگائی ایک سیاسی مسئلہ ہے؟‘

جس پر صدر بائیڈن نے طنز کے ساتھ جواب دیا: ’یہ ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ زیادہ مہنگائی۔‘ پھر انہوں نے اپنا سر ہلایا اور بڑبڑائے ہوئے صحافی کو ’بیوقوف‘ اور ایک نازیبا لفظ پکارا۔

اے ایف پی کے مطابق امریکہ میں اس وقت مہنگائی تقریباً 40 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور اس نے صدر بائیڈن کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔

صدر بائیڈن کے الفاظ ان کے سامنے موجود مائیکروفون کے ذریعے ریکارڈ ہوگئے۔ وہ ممکنہ طور پر بے خبر تھے کہ مائیک آن ہے یا اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے۔

پیٹر ڈوسی نے بعدازاں اپنے نیٹ ورک فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں ہنستے ہوئے کہا: ’کسی نے ابھی تک اس کی حقیقت کی جانچ نہیں کی اور کہا کہ یہ سچ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈوسی نے فاکس نیوز کی شان ہینٹی کو بتایا کہ صدر بائیڈن نے انہیں ایک گھنٹے کے اندر فون کیا اور کہا: ’دوست، یہ کوئی ذاتی بات نہیں ہے۔‘

پیٹر ڈوسی کا چینل فاکس نیوز صدر بائیڈن کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔

ایک نیوز کانفرنس میں گذشتہ ہفتے بائیڈن نے پیٹر ڈوسی سے طنزیہ انداز میں کہا تھا: ’آپ ہمیشہ مجھ سے اچھے سوالات پوچھتے ہیں۔‘

جس پر ڈوسی نے جواب دیا تھا: ’میرے پاس ایک مکمل بائنڈر (پلندہ) بھرا ہوا ہے۔‘

تاہم صدر بائیڈن نے کہا: ’میں جانتا ہوں کہ آپ کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی میرے لیے بہت زیادہ معنی نہیں رکھتا ہے۔‘

اے پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس حالیہ واقعے سے متعلق فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تاہم ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو بھی اس بیان سے کوئی پریشانی نہیں تھی، کیونکہ تقریب کے اس ٹرانسکرپٹ میں بائیڈن کا یہ تبصرہ بھی شامل تھا، جو یہ یقینی بناتا ہے کہ یہ سرکاری تاریخی ریکارڈ میں گزر جائے۔

نیو یارک ٹائمز کے وائٹ ہاؤس کی نمائندہ کیٹی راجرز نے ٹرانسکرپٹ کے سکرین گریب کے ساتھ ٹویٹ کیا: ’بس ایک خاص چیز کا اضافہ۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ