بابر اعظم اور محمد رضوان کی ٹیمیں آج کراچی میں مدمقابل

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے آغاز میں اب کچھ گھنٹے ہی باقی ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے شروع ہونے والی پی ایس ایل نشیب و فراز کاسفر طے کرتے ہوئے اپنے ساتویں سال میں پہنچ گئی ہے۔

پی ایس ایل7کے افتتاحی میچ سے پہلے  26 جنوری کو کراچی نیشنل سٹیڈیم کے باہر سکیورٹی اہلکار چوکس کھڑے ہیں ( اے ایف پی)

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں سیزن کا آغاز آج (جمعرات) سے ہو رہا ہے، جس کے پہلے ہی میچ میں پاکستان کے دو نامور کرکٹر بابر اعظم اور محمد رضوان کی ٹیمیں مدمقال ہوں گی۔

پاکستان کی فلیگ شپ لیگ پی ایس ایل نے سات سالوں میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ آغاز میں سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پی ایس ایل کا انعقاد متحدہ عرب امارات میں کیا گیا جبکہ گذشتہ دو سیزن کرونا وبا کی وجہ سے متاثر ہوئے اور میچرز کو ری شیڈول کرنا پڑا۔

پی ایس ایل پر تنقید کی جاتی ہی کہ اس میں غیر ملکی کھلاڑی ’ریلو کٹے‘ ہیں اور عمر رسیدہ کھلاڑی حصہ لیتے ہیں لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بعد سب سے زیادہ دیکھے جانے والی کرکٹ لیگ پی ایس ایل ہی ہے۔

کھیلوں کی آن لائن لائیو سٹریمنگ ویب سائٹ سپورٹیک کے مطابق آئی پی ایل اور بگ بیش کے بعد پی ایس ایل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانی والی کرکٹ لیگ ہے۔ 

اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس سال پی ایس ایل دنیا بھر میں میں سٹریم ٹی وی چینلز پر دکھائی جائے گی۔

پی ایس ایل کا ساتواں ایڈیشن کتنا محفوظ ہے؟

پی ایس ایل کا ساتواں ایڈیشن دو حصوں میں کھیلا جائے گا۔ پہلے حصے میں 27 جنوری سے سات فروری تک کراچی میں اور 10 فروری سے 27 فروری تک لاہور میں میچز ہوں گے۔

تاہم آیا پی ایس ایل بغیر کسی تعطل کے مکمل ہو گا اس حوالے سے بہت سے خدشات موجود ہیں۔ ان خدشات میں پہلا اور سر فہرست خدشہ کرونا وبا کا ہے۔ کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون تیزی سے پاکستان بھر میں پھیل رہی ہے اور کراچی شدت سے اس کا نشانہ ہے۔

کراچی میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کی مثبت آنے کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے پی ایس ایل میچز کے دوران تماشائیوں کی تعداد کُل نشستوں کی 25 فیصد رکھی گئی ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ گذشتہ دنوں لاہور اور اسلام آباد میں دہشت گردی کی کارروائیوں نے منتظمین کو فکر مند کر دیا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی صورت حال قابو میں ہے لیکن دہشت گردی کا مزید کوئی واقعہ ہونے کی صورت میں غیر ملکی کھلاڑی دستبردار ہوسکتے ہیں۔

سکیورٹی کے حوالے سے متعلقہ حکام نے فول پروف انتظامات کیے ہیں تاہم خوف کے بادل پھر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ پی ایس ایل 7 کے فوری بعد آسٹریلیا کا دورہ شروع ہونا ہے اور اگر پی ایس ایل کہیں بھی تعطل کا شکار ہوئی تو آسٹریلیا کا دورہ بھی منسوخ ہوسکتا ہے۔

پی ایس ایل 7 میں شریک ٹیمیں

پی ایس ایل 7 میں شامل تمام ٹیموں نے کم و بیش وہی سکواڈ برقرار رکھے ہیں جو گذشتہ سیزن میں تھے۔ البتہ نامور غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد کم نظر آتی ہے جس کی وجہ مصروف کرکٹ سیزن ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش لیگ اور آسٹریلین بگ بیش کے اختتامی میچز بھی ہو رہے ہیں جس کے باعث بہت سے کھلاڑی وہاں مصروف ہیں۔

ملتان سلطانز

دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کی قیادت آئی سی سی کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے والے محمد رضوان کے ہاتھوں میں ہے۔ رضوان نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کردیا ہے۔ وہ اس سال بھی ملتان سلطانز کے روح رواں رہیں گے جب کہ ان کی معاونت کے لیے صہیب مقصود، عمران طاہر، خوش دل شاہ، شاہ نواز دہانی، شان مسعود، ریلی روسو، رومن پاول، بلیسنگ مرزا بانی، رومان رئیس اور انور علی ہیں۔

ملتان سلطانز کی ٹیم کے صہیب مقصود گذشتہ پی ایس ایل میں چھائے ہوئے تھے۔ اس سال بھی ان سے کافی امیدیں ہیں۔ ملتان سلطانز کی انتظامیہ سب سے زیادہ تجربہ کار ہے جس کا اثر گذشتہ سال کی فتح کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

پشاور زلمی

پشاور زلمی کی ٹیم اپنی آف دا گراؤنڈ مصروفیات کے باعث شائقین میں بے حد مقبول ہے۔

وہاب ریاض اس سال بھی قیادت کریں گے۔ جب کہ اہم کھلاڑیوں میں شعیب ملک، حیدر علی، کامران اکمل، عثمان قادر اور ارشد اقبال شامل ہیں۔ غیر ملکی کھلاڑیوں میں سب سے اہم حضرت اللہ زازئی، لیونگ سٹون، ٹام کوہلر، ثاقب محمود اور ردھر فورڈ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیم کو لیگ سے پہلے ہی دھچکہ لگ چکا ہے کیوں کہ وہاب ریاض، حیدر علی، کامران اکمل اور ارشد اقبال کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، جس کے باعث وہ پہلے چند میچوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

ٹیم متوازن ہے اور جیت کے لیے پرعزم ہے۔ وہاب ریاض کی عدم دستیابی میں شعیب ملک کپتانی کے فرائض انجام دیں گے۔

لاہور قلندرز

قلندرز کی ٹیم اس سال بھی کافی مضبوط نظر آرہی ہے۔ کپتانی کا بوجھ نوجوان شاہین شاہ آفریدی کے سر پر ہے جنہوں نے آئی سی سی کے ہر فارمیٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی بولنگ ہر ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بنے گی۔

ان کی مدد کے لیے محمد حفیظ، فخر زمان، سہیل اختر، فل سالٹ، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، سید فریدون اور عبد اللہ شفیق موجود ہوں گے۔ قلندرز کے نامور کھلاڑی بین ڈنکا اس سال انتظامیہ کا حصہ ہیں اور بلے بازوں کو اونچے شاٹ مارنا سکھائیں گے۔

کراچی کنگز

دنیائے کرکٹ پر راج کرنے والے بابر اعظم پہلی مرتبہ کراچی کنگز کی کپتانی کریں گے۔ قومی ٹیم کی کامیاب کپتانی نے ان میں زبردست اعتماد پیدا کر دیا ہے۔

ان کے ساتھ محمد عامر، محمد نبی، عماد وسیم، شرجیل خان، عامر یامین، کرس جورڈن، جو کلارک، لیوس گرریگوری اور عمید آصف ہوں گے۔

کراچی کی ٹیم بھی خاصی متوازن ہے۔ کراچی کو ایک دھچکہ وسیم اکرم کے کرونا سے متاثر ہونے کی صورت میں لگا ہے۔ ان کی ابتدائی میچز میں کوچنگ ممکن نہیں ہو گی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

نوجوان شاداب خان کی قیادت میں اسلام آباد یونائیٹڈ ٹرافی جیتنے کی ایک مضبوط دعویدار نظر آتی ہے۔

بیٹنگ میں آصف علی، ایلکس ہیلز، رحمان اللہ گرباز، کولن منرو، پال سٹرلنگ نمایاں ہیں۔ بولنگ کی ذمہ داری حسن علی، فہیم اشرف اور وسیم جونیئر کے سر ہو گی۔

سب سے اہم شمولیت اعظم خان کی ہے جو معین خان کے صاحبزادے ہونے کے باوجود کوئٹہ کی ٹیم میں جگہ نہ بنا سکے اور اب اسلام آباد یونائیٹڈ سے قسمت آزمائیں گے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

پی ایس ایل کے ابتدائی دور میں شاندار کارکردگی دکھانے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز گذشتہ کئی سیزنز سے بجھی بجھی سی ہے۔ کپتان سرفراز قومی ٹیم سے بے دخل ہونے کے بعد چمک نہیں سکے ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بیٹنگ کو مضبوط بنانے کے لیے شاہد آفریدی کو شامل کیا تھا لیکن پی ایس ایل شروع ہونے سے پہلے ہی ان کے بائیو سیکیور ببل سے باہر چلے جانے کی اطلاعات تھیں۔ تاہم انڈپینڈنٹ اردو کو کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی انتظامیہ نے آگاہ کیا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا رہے بلکہ میچز کے لیے دستیاب ہوں گے۔

عمر اکمل، افتخار احمد، جیمس ونس، احسن علی، جیمز فالکنر اور محمد نواز پر بیٹنگ کا بوجھ ہو گا۔ جیسن رائے ابتدائی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ ان کی جگہ شمرون ہیٹمائر شامل کیے گئے ہیں۔

نسیم شاہ، محمد حسنین اور نور احمد کے بولنگ میں ہونے کے باوجود ٹیم اس سال بھی کمزور نظر آرہی ہے۔

پی ایس ایل افتتاحی تقریب

جمعرات کی شام کراچی کے شام نیشنل سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کی افتتاحی تقریب ہو گی جسے مختصر رکھا گیا ہے۔

اس میں پی ایس ایل کا ترانہ گانے والے عاطف اسلم اور آئمہ بیگ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ مختصر خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا جائے گا۔

گذشتہ سال افتتاحی تقریب صرف ٹی وی پر دکھائی گئی تھی۔

گذشتہ سالوں میں ہونے والی پی ایس ایل کی افتتاحی تقاریب غیر دلچسپ رہی ہیں اور ناظرین پر اچھا تاثر ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

کرونا کے ایک اور وار نے ٹیموں کو بوکھلا دیا ہے۔ کچھ  کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد سخت حفاظتی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ لیکن انتہائی محفوظ بائیو سکیور ببل ابھی تک بن نہیں سکا ہے۔

جس ہوٹل میں ٹیمز رہائش پذیر ہیں اس میں ابھی بھی غیر متعلقہ افراد کی آمد و رفت جاری ہے اور سٹیڈیم کے سٹاف کا بائیو سکیور ببل بھی زیادہ سخت نظر نہیں آ رہا۔

جمعرات کی شام جب سورج کی کرنیں کم ہو رہی ہوں گی تو مصنوعی روشنیوں سے روشن نیشنل سٹیڈیم میں ملتان سلطانز اور کراچی کنگز کے درمیان پہلے میچ کا طبل بج چکا ہو گا۔

پاکستان ہی نہیں دنیا کے دو نامور کرکٹر بابر اعظم اور محمد رضوان آج ایک ساتھ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گے۔

دو مہمان بلے بازوں کے درمیان اپنی اپنی ٹیموں کو جیت تک پہنچانے کے لیے دلچسپ مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ کرکٹ کے متوالے اگلے 30 دن تک ہر شام ایک نیا میچ اور ایک نیا مقابلہ، ایک نئے نتیجے کے ساتھ دیکیھیں گے۔

شائقین کرکٹ کو زبردست تفریح دیکھنے کو ملے گی۔ ایک ایسی تفریح جس میں کسی کا جوش، کسی کی ترنگ، کہیں جیتنے کی امنگ اور کہیں چوکوں چھکوں کی بارش نظر آئے گی۔

دنیا بھر سے کروڑوں شائقین کرکٹ جس شام کا انتظار کر رہے تھے اب چند ہی گھنٹوں میں حقیقت میں بدلنے جارہی ہے۔ لیکن کرونا کی موجودگی میں یہ خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا کہ کہیں ہنستی مسکراتی شامیں خاموش میدانوں کی تصویر نہ بن جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل