افغانستان: ماہرین ’دہشت گرد گروپوں کی کامیابی پر فکرمند‘

اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک رپورٹ میں کہا کہ طالبان، القاعدہ کے ساتھ ماضی میں روابط کی بنا پر افغانستان کو انتہا پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ’دہشت گرد گروپوں کو وہاں حالیہ تاریخ میں کسی بھی وقت سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔‘

21 جنوری 2022 کو کابل میں  خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم  کارکنوں کے حالیہ احتجاج کی مذمت  کے لیے  ہونے والے مظاہرے کے  دوران طالبان جنگجو ایک سڑک پر گشت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں 15 اگست  2021کو طالبان کی اقتدار میں واپسی کو 20 سال بعد سب سے اہم واقعہ قرار دیا  ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے ماہرین نے پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ حال ہی میں اقتدار حاصل کرنے والے طالبان، القاعدہ کے ساتھ ماضی میں روابط کی بنا پر افغانستان کو انتہا پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ’دہشت گرد گروپوں کو وہاں حالیہ تاریخ میں کسی بھی وقت سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی کہا کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ (داعش) سے منسلک شدت پسند افریقہ میں کامیابی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ داعش عراق اور شام میں بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں اس کی نام نہاد خلافت نے 2014 سے 2017 تک دونوں ممالک کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی اور بعدازاں اسے امریکی افواج کی قیادت میں فوجی اتحاد نے شکست دی۔

ماہرین کے پینل نے کہا کہ انڈونیشیا اور فلپائن دونوں نے داعش اور القاعدہ سے وابستہ 'دہشت گردی‘ کو روکنے میں ’اہم کامیابیوں‘ اور ’کچھ امید‘ کی اطلاع دی ہے کہ ان کی آپریشنل صلاحیت ’کافی حد تک کم ہوسکتی ہے۔‘

القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے جلد بازی میں کیے گئے انخلا کے دوران 15 اگست کو طالبان کی اقتدار میں واپسی کو 20 سال بعد 2021 کے آخری چھ مہینوں کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا گیا ہے۔

طالبان نے پہلی بار 1996سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی تھی، جنہیں 2001 میں امریکہ میں نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے الزام میں بے دخل کر دیا گیا۔

بعدازاں فروری 2020 کے ایک معاہدے میں، جس میں امریکی فوجیوں کے انخلا کی شرائط کو واضح کیا گیا تھا، طالبان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گرد گروپوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ نہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

لیکن ماہرین کے پینل نے کہا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں ایسے کچھ اشارے نظر نہیں آئے کہ طالبان نے ملک میں غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہو۔‘

ماہرین کے مطابق اس کے برعکس دہشت گرد گروہ ’زیادہ آزادی‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، حالانکہ رکن ممالک نے 'افغانستان میں غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی اہم نئی نقل و حرکت کی اطلاع نہیں دی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ القاعدہ نے 31 اگست کو طالبان کو ان کی فتح پر مبارک باد دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا، لیکن اس کے بعد سے اس نے ’ایک سٹریٹیجک خاموشی برقرار رکھی ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر بین الاقوامی شناخت اور قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے طالبان کی کوششوں کومتاثر نہ کرنا ہے۔‘

پینل نے کہا کہ ’القاعدہ اپنی قیادت کو پہنچنے والے نقصانات سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے پاس بیرون ملک ہائی پروفائل حملے کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے، جو اس کا طویل مدتی ہدف ہے۔‘

واضح رہے کہ جنوری 2021 میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے زندہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم ماہرین کے مطابق ’رکن ممالک کو یقین ہے کہ ان کی صحت خراب ہے۔‘

ماہرین کے مطابق کہ امین محمد الحق صام خان، جو اسامہ بن لادن کی سکیورٹی کے ذمہ دار تھے، اگست 2021 کے آخر میں افغانستان میں اپنے گھر واپس آئے جبکہ ایک نامعلوم ملک نے اطلاع دی ہے کہ اسامہ بن لادن کے بیٹے عبداللہ نے اکتوبر 2021 میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔

پینل کے مطابق جہاں تک داعش کا تعلق ہے، وہ افغانستان میں محدود علاقے کو کنٹرول کرتی ہے، لیکن ’اس نے جدید ترین حملے کرنے کی مسلسل صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔‘ مثال کے طور پر  27 اگست کو کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ، جس میں 180 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

پینل کے مطابق رکن ممالک نے کہا ہے کہ کئی ہزار قیدیوں کی رہائی کے بعد افغانستان میں داعش کی طاقت ایک اندازے کے مطابق بائیس سو سے بڑھ کر چار ہزار کے قریب ہو گئی ہے اور ایک ملک کا اندازہ ہے کہ ان میں سے نصف غیر ملکی جنگجو تھے۔

ماہرین نے کہا کہ طالبان داعش کو ’اپنے لیے بنیادی خطرے‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، جو کہ ’افغانستان میں ایک وسیع تر علاقائی ایجنڈے کے ساتھ ہمسایہ وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے خطرہ بننے والی سب سے بڑی قوت بننا چاہتا ہے۔‘

اس رپورٹ میں گذشتہ ہفتے شمال مغربی شام میں امریکی حملے میں ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کے نام سے مشہور داعش کے رہنما کی ہلاکت کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔

لیکن ماہرین نے کہا کہ القاعدہ کی طرح داعش کی قیادت کو بھی ’مشکلات کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے القرشی کی 2021 کی آخری ششماہی میں خود کو ظاہر کرنے میں ناکامی اور 11 اکتوبر کو عراق کی جانب سے سامی جاسم محمد الجبوری عرف حاجی حامد کی گرفتاری کے اعلان کی طرف بھی اشارہ کیا، جو داعش کے مالی معاملات کے انچارج تھے اور انہیں داعش سربراہ کا سب سے سینیئر نائب اور ممکنہ جانشین سمجھا جاتا تھا۔

پینل نے کہا کہ عراق اور شام میں اپنے سابقہ ​مضبوط علاقوں سے داعش ’خطے میں فورسز کی طرف سے مسلسل انسداد دہشت گردی دباؤ‘ کا مقابلہ کر رہی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ داعش کے پاس چھ سے 10 ہزار کے درمیان جنگجو موجود ہیں اور وہ حملے شروع کرنے کے لیے سیلز اور تربیت کاروں کو تشکیل دے رہی ہے۔

داعش اور القاعدہ دونوں افریقہ میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر ساحل میں، جہاں پینل نے کہا کہ انہوں نے ’اندرونی تقسیم اور دشمنیوں کے باوجود اپنے پیروکاروں اور وسائل کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے مقامی شکایات اور کمزور حکمرانی کا کامیابی سے فائدہ اٹھایا ہے۔‘

ماہرین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک 2021 کے آخری نصف کے دوران افریقہ میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ افراد کی کامیابی پر ’شدید فکر مند‘ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا