قندیل بلوچ قتل کیس: کیا ملزم کی بریت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

ماہرین قانون کہتے ہیں کہ یہ کیس ٹرائل کورٹ میں تھا جہاں استغاثہ نے ’فساد فی الارض‘ کی شہادت پیش نہیں کی اور نہ ہی اس کیس میں معاشرتی اہمیت کو اجاگر کیا، مگر ٹرائل کورٹ نے شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی تھی۔

قندیل بلوچ کی یہ تصویر 28 جون 2016 کو لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے موقع پر لی گئی تھی (اے ایف پی/ فائل)

پاکستان کی سوشل میڈیا سلیبرٹی قندیل بلوچ قتل کیس میں لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے قاتل محمد وسیم کو بری کیا جس کی وجہ گواہان کا منحرف ہونا اور مقتولہ اور ملزم کی ماں یعنی کیس کی مدعیہ کا بیٹے کو معاف کرنا ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون و انصاف ملیکا بخاری کا اس بارے میں کہنا ہے کہ قندیل بلوچ کیس میں ریاست قانونی آپشنز پر غور کررہی ہے۔ 

اس معاملے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور بعض حکومتی وزرا نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ کیسے تین سال پہلے ایک خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزم کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیس اب دو فریقین کا ذاتی کیس نہیں بلکہ اس کے معاشرے پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی بہن قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا تو یہ معاملہ معاشرتی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

ماہرین قانون کہتے ہیں کہ یہ کیس ٹرائل کورٹ میں تھا جہاں استغاثہ نے ’فساد فی الارض‘ کی شہادت پیش نہیں کی اور نہ ہی اس کیس میں معاشرتی اہمیت کو اجاگر کیا، مگر ٹرائل کورٹ نے شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر ملزم کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی تھی۔

ملزم نے لاہورہائیکورٹ ملتان بینچ میں اپیل کی تو وہاں قانون کے مطابق مدعیہ اور ملزم کی صلح اور گواہان کے منحرف ہونے پر بریت کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔

قندیل بلوچ کی والدہ مدعی مقدمہ انور بی بی کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ واسطے معاف کیا جس پر عدالت نے اپنی بہن کو قتل کرنے والے محمد وسیم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔

قانونی طور پر کیا فیصلہ چیلنج ہو سکتا ہے؟

سابق جسٹس لاہور ہائیکورٹ ظفر اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شرعی قوانین کے مطابق متاثرہ پارٹی اگر ملزم کو اللہ واسطے معاف کر دے یا دیت لے تو اس کو بری کیا جا سکتا ہے۔ مگر پاکستان کے قانون میں یہ بھی موجود ہے کہ اگر کسی کیس میں ’فساد فی الارض‘ کی شہادت پیش کی جائے تو ملزم کو صلح کی بنیاد پر معاف نہیں کیا جا سکتا بلکہ پھر اس کے خلاف مدعی ریاست بن جاتی ہے۔ ایسا بہت سے مقدمات میں ہو چکا ہے کہ مدعی نے معاف کیا لیکن ریاست خود مدعی بن گئی۔‘

فساد فی الارض کی شہادت کا اطلاق ان کیسوں میں کیا جاتا ہے جہاں خدشہ ہو کہ اس کی وجہ سے معاشرے خرابی اور فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

ظفر اللہ خان نے کہا کہ ’ایک پہلو یہ بھی ہے جیسے کراچی کے ایک نوجوان شاہ زیب قتل کیس میں مقتول کے لواحقین نے دیت لے کر شاہ رخ جتوئی اور دیگرملزموں کومعاف کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر اس معاملے میں ملزموں کی سزا کو برقرار رکھا تھا جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ صلح کسی دباؤ کے تحت ہوئی ہے، لہٰذا اس کیس میں ملزم کو بری نہیں کیا جا سکتا اور پراسیکیوشن نے موقف اپنایا تھا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہو اگر فریقین میں صلح ہو بھی جائے تو انسداد دہشت گردی کی تحت درج مقدمات میں ریاست مدعی بن جاتی ہے اس لیے بریت ممکن نہیں۔‘

ظفر اللہ خان نے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ میں بھی پراسیکیوشن نے کیس میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا، نہ ہی اس کیس کو معاشرتی لحاظ سے پرکھا گیا۔ اگر اسی وقت ریاست اس میں اپنا کردار ادا کرتی تو کیس زیادہ مضبوط ہو سکتا تھا۔ اس کیس سے ملزم اور مقتولہ کے خاندان نے یہ سمجھداری کی کہ ٹرائل کورٹ میں کیس کو چلنے دیا اور ملزم کو سزا ہوئی اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کے ذریعے صلح نامہ پیش کیا گیا ہائیکورٹ کیونکہ اپیلیٹ کورٹ ہے تو وہاں ریاست اب مقدمے پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

سابق جج کے بقول اگر اب وزارت قانون اس معاملہ پر اعتراض اٹھانا چاہے تو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس کیس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے تو سپریم کورٹ پھر اس معاملہ کو دیکھ سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن ایکٹویسٹ نگہت داد کے مطابق ’ابھی کیس کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے، ہم تفصیلی فیصلہ کا جائزہ لے کر وزارت قانون سے رجوع کریں گے اور کوشش کریں گے کہ اس کیس میں ریاست اپنا کردار ادا کرے اور ملزم کو غیرت کے نام پر اپنی بہن کو قتل کرنے کی سزا ضرور ملے۔‘

ملزم کن دو وجوہات کی بنا پر بری ہوا؟

قندیل بلوچ کے وکیل صفدر عباس کے بقول قندیل کے والدین کی جانب سے عدالت میں راضی نامہ جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ اگر عدالت ملزم محمد وسیم کو بری کر دے تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم اس کے بعد وسیم کے وکیل نے ہائیکورٹ ملتان بینچ میں بریت کی اپیل دائر کی تھی جو منظور کر لی گئی۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دو چیزوں کی بنیاد پر قندیل کے بھائی کو بری کیا گیا۔ ایک مدعیہ کی جانب سے جمع کرایا گیا راضی نامہ اور دوسرا عدالت میں جمع کرایا گیا164  کا بیان۔

اس بیان میں محمد وسیم کی جانب سے یہ کہا گیا کہ مجھے دھمکا کر پولیس نے اعترافی بیان لیا تھا جبکہ میں نے قندیل کو قتل نہیں کیا۔

ایڈووکیٹ صفدر عباس نے مزید بتایا کہ قندیل کے والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اس کیس سے بری ہو جائے، اور کچھ عرصہ پہلے قندیل کے والد کا بھی انتقال ہو گیا تھا جس کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مقتولہ کی والدہ انور بی بی کو مدعی بنایا گیا تھا۔

پیر کے روز لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے ملزم کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا جس پر سول سوسائٹی کی تنظیموں اور بعض وفاقی وزرا نے تحفظات کا اظہار کیا۔

’پورے نظام کی ناکامی‘

نگہت داد نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے سے خواتین کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ مرکزی ملزم محمد وسیم نے غیرت کے نام پر ماڈل قندیل بلوچ کو قتل کیا تھا جو خواتین سے ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔

’مدعیہ کیونکہ ملزم کی ماں ہے تو خاندانی دباؤ اور رحم کی وجہ سے پہلے ہی معلوم تھا کہ ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر بھی اسے سزا نہیں ملے گی تو ریاست کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ پورے نظام کی ناکامی ہے کہ ایک خاتون کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے سے روکنے کے لیے قتل جیسا اقدام کرنے والے ملزم کو بری کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس معاملے پر ان کی تنظیم وزارت قانون سے رجوع کرے گی اور انہیں اس معاملہ میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی جائے گی تاکہ اس طرح کی تنگ سوچ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

نگہت داد کے بقول اگر مجرموں کو اس طرح قانونی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جائے گی تو قوانین میں ترامیم کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ جرائم کو صرف جرائم کے طور پر سمجھنا چاہیے اور ایسے مقدمات میں کوئی قانونی گنجائش دینے ہمدردی کا پہلو نظر انداز کرنا ہوگا ورنہ نظام کبھی ٹھیک نہیں ہوسکے گا۔

اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے رابطہ کیا گیا لیکن ابھی تک ان کا جواب نہیں آیا

تاہم وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملزم محمد وسیم کی بریت سے متعلق خبر کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا کہ ’ہمیں بحیثیت قوم ایسے نظام پر شرمندہ ہونا چاہیے۔‘

کیس کا پس منظر

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا سلیبرٹی اور ماڈل قندیل بلوچ کو 2016 میں 14 اور 15 جولائی کی درمیانی شب سوتے ہوئے گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔

قتل میں ان کے دوبھائیوں محمد وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا گیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران مذہبی شخصیت مفتی عبدالقوی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

ستمبر 2019 میں مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک بھائی اسلم شاہین اور مفتی عبدالقوی سمیت پانچ ملزمان کو بری کر دیا جبکہ محمد وسیم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

محمد وسیم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور وجہ قتل بہن کا خاندان کی شہرت کو نقصان پہنچانا بتایا تھا اور غیرت کے نام پر قتل کا بھی اقرار کیاتھا۔

مقدمہ کے مدعی قندیل بلوچ کے والد نے عدالت میں اپنے دونوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست اور بیان جمع کرایا تھا جسے عدالت نے اس وقت مسترد کر دیا تھا۔

ملتان کی ماڈل کورٹ نے ‏ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کوعمر قید کی سزا سنائی تھی۔

مدعی مقدمہ انور بی بی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہاکہ ان کی بیٹی قتل ہوچکی ہے مقدمات پر خرچہ کر کے تنگ آچکے ہیں ملزم بھی ان کا بیٹا ہی ہے بیٹی تو چلی گئی اب بیٹے کا غم برداشت نہیں کر سکتی تھی اس لیے مجبوری میں رہائی کے لیے صلح نامہ جمع کرانا پڑا تاکہ بیٹی کی زندگی تو نہ بچا سکی کم از کم بیٹے کی زندگی توبچالوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان