یمن سے ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا گیا: سعودی اتحاد

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی اتحاد کے فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور جازان کے شہری علاقوں کی جانب بڑھتے ہوئے میزائل کا کھوج لگا کر انہیں تباہ کر دیا۔

یمن سے  کیے گئے حملوں کے نتیجے میں  متاثر ہونے والی ایک گاڑی (تصویر:  ایس پی اے ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن میں سرگرم حوثیوں نے ہفتے کی رات سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل سے حملے کی کوشش کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی سرکاری میڈیا پر جاری اتحاد کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’دشمن کے حملوں‘ میں الشقیق میں ایک پانی صاف کرنے والے پلانٹ اور جازان میں سعودی کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خامس مشایط شہر میں بھی ایک پیڑول پمپ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) اور الاخباریہ نے رپورٹ کیا کہ فوجی اتحاد کے فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور جازان کے شہری علاقوں کی جانب بڑھتے ہوئے میزائل کا کھوج لگا کر انہیں تباہ کر دیا۔

اتحاد کے بیان میں کہا گیا: ’ہم سرحد پار صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لانچ ہونے والے دشمن کے حملوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

ایس پی اے نے ٹوئٹر پر تصاویر اور ویڈیوز بھی پوسٹ کیں، جن میں جازان کے قریب دھاران الجنوب پاور سٹیشن کو دکھایا گیا ہے، جہاں عملہ حملے کے بعد آگ بجھانے میں مصروف ہے۔

ایجنسی کے اکاؤنٹ سے جاری تصاویر میں جازان میں ایک گھر اور تباہ شدہ گاڑیاں بھی دکھائی دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الاخباریہ ٹی وی نے اتحاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میزائل کا نشانہ شہری تھے مگر فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

عرب نیوز کے مطابق اس ہفتے حوثیوں نے چھ رکنی خلیجی تعاون تنظیم کی جانب سے یمن تنازعے پر 29 مارچ کو ریاض میں منعقدہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت بھی مسترد کی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق العربیہ نے اتحاد کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’حوثیوں کا معاشی اور شہری تنصیبات پر حملہ کرکے تنازعے کو بڑھاوا دینا مذاکرات کی پیشکش کا جواب تھا۔‘

سعودی عرب یمن میں اُس عالمی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں ایک فوجی قیادت کی سربراہی کر رہا ہے، جو 2014 سے باغی حوثیوں سے لڑ رہی ہے۔

ایران نواز حوثی ماضی میں کئی بار سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں بھی کئی مقامات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا