پاکستانی ڈراموں میں مظلوم عورت کے کردار ہی مقبول ہیں: حبا بخاری

پاکستانی اداکارہ حبا بخاری کے کئی ڈرامے کامیاب اور یوٹویب پر ٹاپ ٹرینڈ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دعاؤں اور صاف نیت نے انہیں اس مقام پر پہنچایا ہے۔

پاکستانی اداکارہ حبا بخاری ان دنوں ٹی وی کی مقبول ترین اداکارہ ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنہری لمس کی حامل ہیں، جس چیز کو چھوتی ہیں وہ سونا بن جاتی ہے یعنی ان کا نام ہی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں ان کے تمام ہی ڈرامے انتہائی مقبول ہوئے ہیں، جن میں سے کئی تو یو ٹیوب پر نمبر ون ٹرینڈ بھی بنے۔

رواں برس کے آغاز میں وہ ساتھی اداکار آریز کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ آریز سے ان کی ملاقات ڈراما ’بھولی بانو‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی اور پھر وہ ڈراما ’تڑپ‘ کے سیٹ پر ملے، لیکن تب تک دونوں صرف دوست تھے۔

ان کے مطابق ڈراما سیریل ’انتہائے عشق‘ کے سیٹ پر آریز نے ان سے شادی کے لیے پوچھا تو شروع میں تو وہ مذاق سمجھیں لیکن پھر انہوں نے کہا کہ وہ والدین سے بات کریں اور اس طرح یہ معاملہ آگے بڑھا۔

حبا بخاری نے پاکستانی ٹیلی ویژن کو ایک کے بعد ایک مشہور ڈراے دیے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں وہ جس بھی ڈرامے کا حصہ بنیں وہ ہٹ ہوگیا۔

ہم نے حبا سے یہی پوچھا کہ ان کے پاس ایسا کون سا پارس پتھر ہے جو انہیں اتنی کامیابیاں دلا رہا ہے۔ اس پر حبا بخاری کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس کی وجہ دعائیں اور اچھی نیت سے کام کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں کچھ ڈرامے اور ایک فلم ایسی بھی تھی، جن میں انہیں کام کرنا تھا مگر وہ پراجیکٹ بن نہیں سکے۔ اس لیے دعائیں اور پھر نیک نیتی ضروری ہوتی ہے۔

پاکستانی ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں کئی ایسے ڈراموں میں کام کرنے سے منع کیا جس میں خواتین کے کردار ایسے تھے کہ وہ بہت روتی رہتی تھیں، مگر پھر وہی ڈرامے کامیاب ہوتے رہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ایسے میں میرے پاس کسی پروڈیوسر کو منع کرنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے، جب ناظرین کو وہ اچھا لگ رہا ہے۔‘

ڈراموں میں خواتین کو مسلسل ظلم کا شکار دکھانے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پروڈیوسر اسی چیز پر پیسے لگاتے ہیں جن سے انہیں منافع ہوتا ہے، تو اس لیے اگر عوام کو کوئی چیز نہیں پسند تو وہ اپنا ردِ عمل دیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بہت سے اچھے ڈرامے ہیں جو بہت اچھے ہیں مگر ان کی ریٹنگ نہیں آرہی ہے۔ ’عوام جو دیکھنا پسند کرتے ہیں انہیں وہی دکھایا جاتا ہے، یہ ایک طرح سے طلب اور رسد کا معاملہ ہوتا ہے۔‘

ہٹ ڈراما ’فتور‘ میں دلنشین کے کردار کے بارے میں حبا بخاری کا کہنا تھا کہ وہ تھا تو مظلوم لڑکی کا کردار مگر وہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہوئی تھی۔

حبا بخاری نے بتایا کہ ان کے ڈرامے ’بے رخی‘ میں ایک منظر تھا جس میں وہ یتیم خانے جاتی ہیں، جو انہیں بہت اچھا لگا۔

انہوں نے بتایا: ’اس سین کے بعد مجھے ایک کینسر ہسپتال سے فون آیا کہ ایک بچی ہے جو آپ سے ملنا چاہتی ہے، تو جب میں اس سے ملنے گئی تو اس بچی نے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ آپ جیسے بے رخی میں بچوں سے ملنے جاتی ہیں آپ مجھ سے بھی ملنے آئیں گی، تو یہ چیز مجھے بہت زیادہ اچھی لگی تھی۔‘

حبا بخاری نے بتایا کہ بہت سے افراد نے انہیں کہا کہ وہ کوئی منفی کردار کریں، مگر بہت سے یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ منفی کردار نہ کریں، آپ ایسے ہی اچھی لگتی ہیں۔

حبا نے گلوکاری میں بھی اپنا فن آزمایا ہے۔ کشمیر بیٹس کے نام سے شو میں ان ایک گانا بھی سامنے آیا ہے۔

اس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ کوئی پیشہ ور گلوکار نہیں ہیں مگر وہ سجاد علی سے ملی تھیں تو انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

’میں کوئی باقاعدہ گلوکار نہیں ہوں کہ تمام سُر آتے ہوں، مگر میں کسی حد تک گا لیتی ہوں۔‘

فلم میں کام کرنے کے ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ اب تک ان کے سامنے کوئی ایسی فلم آئی نہیں آئی جسے وہ کرنا چاہتی ہوں، مگر جیسے ہی کچھ آئے گا وہ ضرور کریں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی