نئی دہلی: زخمی پرندوں کا علاج کرنے والے دو بھائی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دو بھائیوں نے زخمی پرندوں کے علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے اور وہ اب تک تقریباً ساڑھے 23 ہزار پرندوں کا علاج کر چکے ہیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے وزیرآباد میں دو بھائی ندیم شہزاد اور محمد سعود نے زخمی پرندوں کے علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔

انہوں نے وائلڈ لائف ریسکیو کے نام سے ایک ہسپتال قائم کیا ہوا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا برڈ کلینک ہے جہاں وہ اب تک تقریباً ساڑھے 23 ہزار پرندوں کا علاج کر چکے ہیں۔

ندیم اور سعود نے اپنی نوعمری میں ہی اُس وقت اس کام کا آغاز کیا، جب انہیں ایک زخمی پرندہ پتنگ کی ڈور (مانجھے) میں الجھا ہوا سڑک کنارے نظر آیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب دونوں نے دیکھا کہ کس طرح پرندے پتنگ بازی کی وجہ سے زخمی اور موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مانجھے، جو دھات یا شیشے میں لپٹے ہوتے ہیں، آسمان پر اڑنے والے پرندوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ جب یہ زخمی پرندہ ان بھائیوں کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے اٹھایا اور ہسپتال لے گئے، لیکن ہسپتال کے حکام نے اس پرندے کا علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ پرندہ گوشت خور ہے اور وہ ان پرندوں کا علاج نہیں کرتے۔

44 سالہ ندیم کہتے ہیں: ’ہم نے کئی ویٹرنری کلینکس کے دروازے کھٹکھٹائے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم گوشت خور پرندوں کا علاج نہیں کرتے۔‘

اس کے بعد سے ان کا ایک طویل سفر شروع ہوا، جو اب تک جاری ہے۔ ان دونوں بھائیوں نے زخمی اور معذور پرندوں کے لیے ایک ویٹرنری آپریشن سینٹر کا آغاز کیا، جس سے آج تک ہزاروں پرندوں کو بچانے میں مدد ملی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ندیم نے بتایا: ’ہم ان پرندوں کے زخموں اور اموات پر ریسرچ کرکے ان کا بہتر علاج کرنے کی مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ ہم نے اب تک تقریباً 23 ہزار 500 پرندوں کو بچایا ہے۔‘

پرندوں کے لیے ہسپتال بنانے کے لیے ان بھائیوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور تقریباً ایک دہائی تک انہوں نے ان پرندوں کے علاج کے لیے رقم اپنی جیب سے ادا کی، تاہم انہیں اپنے خاندان خصوصاً والدہ کا بھرپور تعاون حاصل تھا، جو خود بھی ایک سماجی کارکن تھیں۔

ندیم نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا: ’جب زخمی پرندے زیادہ تعداد میں آنے لگے تو اس کام کو جاری رکھنا مشکل ہوا، جس کے بعد ہم نے پہلی بار 2010 میں اپنے دفتر کو رجسٹر کیا اور پچھلے کچھ سالوں سے ہم ان پرندوں کا علاج جاری رکھنے کے لیے عوامی عطیات وصول کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہماری والدہ اور والد اس آئیڈیا کے لیے بنیادی سہارا تھے۔ جب ہم گھر سے دور ہوتے تھے تو وہ پرندوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔‘

یہ دونوں بھائی زخمی پرندوں کے علاج پر تحقیق اور اس میں مہارت حاصل کر رہے ہیں، تاکہ زخمی پرندوں کا زیادہ مؤثر طریقے سے علاج کرسکیں۔

ندیم نے بتایا: ’ہم ان جانوروں کے علاج کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔ اب تک ہمارے پاس زخمی پرندوں کے علاج میں کامیابی کی شرح 80 فیصد ہے۔ ہم ان کا علاج کرتے ہیں اور کچھ وقت تک ان کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر انہیں ایک نیم کھلی پناہ گاہ میں رکھتے ہیں، جہاں وہ مکمل طور پر صحت یاب ہونے پر پرواز کر سکتے ہیں۔‘


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا