پہلے ’اجنبی شہاب ثاقب‘ کا زمین سے ٹکراؤ، سائنسدانوں کی تصدیق

ہارورڈ کے ماہرین فلکیات عامر سراج اور ابراہم لوئب کے کام کی تصدیق کرتے ہوئے ایک میمو جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس شہابیے کی رفتار اور خط حرکت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خلائی چٹان اصل میں اس نظام شمسی سے باہر کی تھی۔

تصویر: ناسا ایسٹیورائڈ واچ ٹوئٹر ہینڈل

امریکی خلائی کمانڈ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے نتائج کی تصدیق کی ہے کہ 2014 میں ایک اور نظام شمسی سے ایک خلائی چٹان زمین پر گری تھی۔

اس اعلان کے بعد غیر نظام شمسی سے آنے والی کسی پہلی چیز کی تصدیق شدہ دریافت کی تاریخ تین سال پیچھے چلی گئی ہے اور اس سے بحر الکاہل سے اجنبی شہابی پتھر کے ٹکڑوں کو اکٹھا کرنے کا امکان  بڑھ گیا ہے جہاں یہ ایک آگ کے گولے کی صورت میں پھٹا تھا۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ممکن ہے غیر نظام شمسی کی خلائی چٹانیں ہمارے نظام شمسی میں اکثر گرتی ہوں۔

6 اپریل کو خلائی کمانڈ نے ہارورڈ کے ماہرین فلکیات عامر سراج اور ابراہم لوئب کے کام کی تصدیق کرتے ہوئے ایک میمو جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس شہابیے کی رفتار اور خط حرکت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خلائی چٹان اصل میں اس نظام شمسی سے باہر کی تھی۔

ڈاکٹر سراج اور لوئب نے2019 میں ایک پیپرلکھا تھا جس میں کیس بنایا گیا کہ یہ شہابیہ ہمارے نظام شمسی کے باہر سے آیا ہے۔ اس پیپر کو سائنٹفک پری پرنٹ سرور آرایکسیو پر پوسٹ کیا گیا تھا۔

وائس میگزین کی رپورٹنگ کے مطابق  امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کچھ سینسرز کے ڈیٹا پر انحصار کی وجہ سے یہ دونوں اپنے پیپر کو اسی قدر کے جائزہ میگزین میں شائع نہیں کروا سکے۔

اومواموا کی دریافت کے تناظر میں لوئب اور سراج نے ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز (سی این ای او ایس) سے تاریخی اعداد و شمار کے ذریعے چھوٹے چھوٹے شہابیوں کے ثبوت تلاش کرنا شروع کیے تھے جو نظام شمسی کے باہر سے آسکتے اور زمین کی فضا میں جل  سکتے تھے۔

ان میں سے ایک شہابیے نے 8 جنوری 2014 کو پاپوا نیو گنی کے قریب ایک آگ کا گولہ بنایا اور سی این ای او ایس کے اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ یہ ایک چھوٹے سے  شہابیے سے آیا ہے غیر معمولی طور پر تیزی سے سفر کر رہا تھا، یہ اشارہ ہے کہ یہ اس نظام شمسی کے باہر سے آیا تھا۔

جب انہوں نے نمبرز کو مزید کھنگالا تو ڈاکٹر لوئب اور سراج نے ’99.999 فیصد اعتماد کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 2014-01-08 کا شہابیہ اس نظام شمسی سے باہر کا تھا‘ لیکن غلطی کا امکان اتنا کم نہیں تھا کہ وہ یہ پیپر منسلک جایزہ میگزین میں چھپوا سکتے۔

وائس کی رپورٹ کے مطابق اس کے لیے سی این ای او ایس سینسرز سے لیا گیا ڈیٹا درکار تھا جس کو امریکی فوج جوہری ہتھیاروں سے بنائے گئے آگ کے گولے کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔

یکم مارچ کو خلائی کمانڈ کا میمو اس پیپر کو شائع کرانے کے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم کر سکتا ہے۔ اس میمو پر امریکی خلائی آپریشن کمانڈ کے چیف سائنسدان جوئل موزر نے دستخط کیے تھے۔

میمو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اومواموا اس نظام شمسی کے باہر آنے والا پہلا شہابیہ نہیں تھا، اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ نہ تو یہ اور نہ ہی 2014 کا شہابیہ آخری ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیپر میں، ڈاکٹر سیراج اور لوئب  نے حساب لگایا کہ تقریبا ایک دہائی میں ایک بار اس نظام شمسی سے باہر کا شہابیہ زمین سے ٹکراتا ہے، زمین کی اب تک کی عمر میں 450 ملین سے زیادہ اس طرح کے شہابیے زمین سے ٹکرا چکے ہیں۔

پیپر میں انہوں نے لکھا، یہاں تک بھی ممکن ہے کہ اس نظام شمسی کے باہر آنے والے اس طرح کے اجسام اپنے ساتھ ایلینز کی زندگی کے ثبوت بھی لے آئیں۔

’دوسرے نظام شمسی سے آنے والے شہابیےممکنہ طور پر کسی دوسرے سیاروی نظام سے زندگی لا سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر لوئب نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ اومواموا اس نظام شمسی سے باہر کے سیارچے کی بجائے ایلین ٹیکنالوجی کی ایک شکل بھی ہوسکتی تھی لیکن ماہرین فلکیات کی برادری میں یہ ایک اقلیتی پوزیشن ہے۔

ڈاکٹر سراج نے وائس کو بتایا کہ زندگی کے آثار نہیں ہیں وہ یہ دیکھنے کے لیے ایک مہم کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں کہ آیا 2014 شہابیے جت ٹکڑے سمندر سے نکالے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ:’ یہ ایک بہت بڑا کام ہوگا لیکن ہم اسے انتہائی گہرائی سے دیکھیں گے حاصل کرنے کا امکان اتنا دلچسپ ہے کہ اس کے اچھی طرح جانچ کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ: ’یہ ایک بہت بڑا اقدام ہوگا، لیکن ہم اسے انتہائی گہرائی سے دیکھنے جا رہے ہیں کیونکہ اس نظام شمسی سے باہر کے مواد کے پہلا ٹکڑے کو اچھی طرح سے چیک کرنے کے لیے حاصل کرنے کا امکان کافی پر جوش ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس