ماری لا پین: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی حریف کون ہیں؟

فرانس میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں ووٹنگ آج جاری ہے، جس میں انتہائی دائیں بازو کی امیدوار ماری لا پین موجودہ صدر کی حریف ہیں، جنہیں بڑی حد تک روسی صدر ولادی میر پوتن کی دیرینہ مداح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

24 اپریل 2022 کو شمالی فرانس میں ماری لا پین صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے بعد پولنگ بوتھ سے باہر آتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

فرانس کے شہری 24 اپریل کو فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں ایمانوئل میکروں کو دوبارہ منتخب کرنا ہے یا نہیں، تاہم رائے شماری کے اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی کی امیدوار ماری لا پین انہیں ہرانے کے اتنا قریب ہو سکتی ہیں کہ جتنا پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

ان انتخابات نے نیٹو اور یورپی یونین کے مفاد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کیونکہ لا پین کو بڑی حد تک روسی صدر ولادی میر پوتن کی دیرینہ مداح کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جن کی افواج اس وقت یوکرین پر حملہ آور ہیں۔

اگرچہ اس سے قبل پیش گوئیوں میں امکان تھا کہ ایمانوئل میکروں پرسکون انداز میں انتخابات جیت جائیں گے لیکن لا پین نے حالیہ ہفتوں میں ان کی اس برتری کو کم کیا ہے۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق پولنگ فرم آئی پی ایس او ایس کے اندازوں کے مطابق جہاں ایمانوئل میکروں 28.1 فیصد حمایت حاصل کرکے ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں سرفہرست رہے وہیں لی پین کے لیے 23.3 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسری پوزیشن کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس کے برعکس جب 2017 میں انہوں نے ملک کے اعلیٰ عہدے کے لیے الیکشن لڑا تھا تو وہ ایمانوئل میکروں سے 66 کے مقابلے میں 34 فیصد سے ہار گئی تھیں۔

مسلمانوں اور غیرملکی تارکین وطن کو نشانہ بنانے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے باوجود انتخابات میں بہتر نتائج  کے امکانات کی بڑی وجہ لا پین کا نرم رویہ ہے۔

مثال کے طور پر ماری لا پین، جنہوں نے قبل ازیں عہد کیا تھا کہ عوامی مقامات پر سکارف پہننے والے مسلمانوں کو جرمانہ کیا جائے گا، نے حجاب پہنے ہوئے مسکراتی ہوئی نوعمر لڑکی کے ساتھ سیلفی لی۔

جب ان کے انتہائی دائیں بازو کے حریف ایرک زیمور نے ان پر تنقید کی کہ وہ ’نرم‘ ہوگئی ہیں تو انہوں نے جواب میں کہا: ’میں آپ کو انسانیت کے بارے میں سکھاتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دا گارڈین نے رپورٹ کیا کہ لا پین نے کہا: ’آپ کیا کرتے؟ اس کا سکارف کھینچ کر اس کے ساتھ بدتمیزی کرتے؟‘ 

53 سالہ رہنما، جو تیل، خوراک اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنے والے اوسط رائے دہندگان کی روز مرہ کی شکایات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں، نے کہا کہ انتخابات کے نتائج نہ صرف پانچ سالہ مدت بلکہ ’شاید اگلے 50 سالوں‘ کے لیے فرانس کی تشکیل کریں گی۔

پنتھیون اساس یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی اور پارٹی کے سابق رہنما میان میری لا پین کی بیٹی ماری لا پین عوامی ٹینڈرز کے لیے ’فرانسیسی (اشیا) خریدیں‘ کی پالیسی پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہیں۔

اگر وہ اقتدار میں آگئیں تو انہوں نے 20 سال سے کم عمر افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرکے 60 سال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کا مقصد 30 سال سے کم عمر افراد کے لیے انکم ٹیکس ختم کرنا اور توانائی پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 20 فیصد سے کم کرکے 5.5 فیصد کرنا ہے۔

ماری لا پین نے اگلے پانچ سالوں کے دوران دو ارب یورو خرچ کرنے، ہیلتھ ورکرز کی تنخواہ بڑھانے اور مزید 10 ہزار بھرتیوں کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

انہوں نے یورپی یونین کے خزانے میں تعاون کم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، جس سے پیرس یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے دیگر اراکین کے ساتھ ٹکراؤ کی راہ پر چل پڑے گا۔

لا پین نے اصرار کیا ہے کہ فرانسیسی قانون کو یورپی یونین کے قواعد پر برتری حاصل ہے اور وہ دھوکہ دہی کا مقابلہ کرنے کے لیے فرانس آنے والے یورپی یونین بشمول دیگر ممالک کے سامان کی جانچ پڑتال کے لیے مزید ہزاروں کسٹم ایجنٹوں کو ملازمت دیں گی۔

نیشنل ریلی پارٹی کی رہنما نے مغرب کی سرد جنگ کے بعد سکیورٹی آرکیٹیکچر کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کو نیٹو کی مربوط کمان سے نکالنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

2014 میں ان کی جماعت کو روسی بینک سے قرض ملنے اور 2017 کے صدارتی انتخابات سے قبل ماسکو میں ولادی میر پوتن سے ملنے کے بعد ان کے مخالفین نے روس کے بہت قریب ہونے کا الزام لگایا ہے۔

تاہم روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لا پین نے جنگی رہنما چارلس ڈیگال کے نام پر خود کو ’گالسٹ‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ وہ امریکہ اور روس دونوں سے یکساں فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی پر عمل کریں گی۔

برطانیہ اور امریکہ کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ان کے بارے میں وہم چھوڑ دیں۔

اس رپورٹ میں خبر رساں اداروں کی اضافی معاونت شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین