فرانس: میکروں پھر صدر منتخب لیکن حریف کے ووٹوں میں اضافہ

ایمانوئل میکروں نے 58.5 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ماری لا پین کو 41.5 فیصد ملے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ایک بار پھر جیت گئے ہیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے فرانس کو ’عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم شراکت دار‘ قرار دیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جو بائیڈن نے ٹویٹ کیا کہ ’میں مستقبل میں یوکرین کی حمایت سمیت جمہوریت کے دفاع اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں کے درمیان مسلسل قریبی تعاون کا منتظر ہوں۔‘

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اتوار کو دوبارہ منتخب ہونے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو اس امریکی اتحادی کے ساتھ مزید قریبی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔

بلنکن نے ٹویٹ کیا کہ ’ہم عالمی چیلنجز پر فرانس کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے منتظر ہیں جس سے ہمارے طویل اور پائیدار اتحاد اور دوستی کو تقویت ملے گی۔‘

امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ایمانوئل میکروں کی جیت سے فرانس کے اتحادیوں کو یہ اطمینان  ہوا ہے کہ یوکرین جنگ میں روس کی فوجی توسیع پسندی روکنے کی نیٹو کی کوششوں کے درمیان ایک جوہری ملک یورپی یونین سے اپنا راستہ جدا نہیں کرے گا۔

44 سالہ سینٹرسٹ کے لیے دوسری پانچ سالہ مدت نے فرانس اور یورپ کو فائر برانڈ پاپولسٹ ماری لا پین کی قیادت میں بہت سے دھچکوں سے بچا لیا، صدارتی انتخابات میں ایمانوئل میکروں کی حریف نے فوری طور پر شکست تسلیم کی لیکن پھر بھی انہوں نے الیکشن میں اب تک کی بہترین کارکردگی دکھائی۔

ایمانوئل میکروں نے 58.5 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ماری لا پین کو 41.5 فیصد ملے۔ لا پین 2017 کے مقابلے میں جیت کے کافی زیادہ قریب رہیں۔

ایمانوئل میکرون 20 سال میں دوبارہ انتخاب جیتنے والے پہلے فرانسیسی صدر ہیں۔

لا پین نے اپنے نتیجے کو ’ایک شاندار فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس شکست میں امید کی ایک شکل محسوس کرسکتی ہوں۔‘

لا پین کو 2017 میں ایمانوئل میکروں نے 66 کے مقابلے میں 34 فیصد ووٹوں سے شکست دی تھی۔

ایمانوئل میکروں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’بے شمار‘ رائے دہندگان نے ان کو ووٹ دیا تاکہ وہ انتہائی قوم پرست انتہائی دائیں بازو کی امیدوار لا پین کو ہرا سکیں۔

انہوں نے اس ملک کو دوبارہ جوڑنے کا عہد کیا جہاں ’بہت سارے شکوک و شبہات اور تقسیم ہے‘ اور ان فرانسیسی رائے دہندگان کی نارضگی دور کرنے کے لیے کام کریں گے جنہوں نے لا پین کی انتخابی مہم کو تقویت دی۔

ایمانوئل میکروں نے جیت کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔

ہمیں بہت کچھ کرنا ہے اور یوکرین میں جنگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایسے المناک دور سے گزر رہے ہیں جہاں فرانس کو اپنی آواز سننی چاہیے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران لا پین نے 27 ملکی یورپی یونین، نیٹو اور جرمنی کے ساتھ فرانسیسی تعلقات کو کم کرنے کا عہد کیا جس سے یورپ کی سلامتی کا ڈھانچہ ہل جاتا کیوں کہ براعظم دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے بدترین تنازعے سے نمٹ رہا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے ایمانوئل میکروں کی جیت کو سراہا کیوں کہ فرانس نے روس کے خلاف پابندیوں کی  بین الاقوامی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور وہ یوکرین کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ’جمہوریت کی فتح، یورپ کی فتح۔‘

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے ٹویٹ کیا کہ ہم مل کر فرانس اور یورپ کو آگے لے کر جائیں گے۔‘

اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈراگھی نے میکرون کی جیت کو ’پورے یورپ کے لیے شاندارخبر‘ قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ