منحرف اراکین کیس، تیس دن میں فیصلہ سنائیں گے: الیکشن کمیشن

تحریک انصاف کے وکیل نے منحرف ارکان کے کیسز کی الگ الگ تاریخ کی استدعا کی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’ہم شام تک کیس سن سکتے ہیں، ایک ہی جیسا کیس ہے لیکن الگ نہیں کر سکتے۔‘

26 اگست 2008 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن آف پاکستان کی عمارت کے باہر تعینات ایک سکیورٹی اہلکار کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کے 20 منحرف ارکان قومی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھجوائے گئے ریفرنسز کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سب منحرف اراکین کے خلاف کیس ایک ساتھ ہی سنیں گے اور تیس دن کے اندر فیصلہ سنا دیں گے۔

جمعرات کے روز الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے کی۔

منحرف ارکان چوہدری عاصم نذیر، احمد حسین دیہڑ، مخدوم سمیع گیلانی اور عامر طلال گوپانگ کی جانب سے میاں فیصل، منحرف ارکان ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، امجد کھوسہ کی جانب سے عثمان گھمن، منحرف ارکان عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر رمیش کمار ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن پیش ہوئے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے ملیکہ بخاری اور فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ ’تمام منحرف اراکین کے وکلا ایک ایک کرکے روسٹرم پر آئیں۔‘

نور عالم کے وکیل نے آرٹیکل 63 اے (1) کا حوالہ دے کر ریفرنس پر اعتراض کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل نہیں ہے، اس لیے ریفرنس نہیں سن سکتا۔

 نور عالم کے وکیل بیرسٹر گوہر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ فل بنچ کرے گا۔ بنچ کا نامکمل ہونا ایک قانونی مسئلہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نور عالم نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ انہوں نے سیاسی جماعت سے نہ استعفی دیا نہ کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’کمیشن کے سامنے 2015 میں ایسے کیسز آئے تھے۔ کمیشن نے آرڈر کیا تھا کہ مکمل کمیشن ایسے کیسز پر فیصلہ کرے گا۔ منحرف ارکان کے کیس پر فل کمیشن ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔‘

پی ٹی آئی وکیل فیصل چودھری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا مکمل نہ ہونا پارلیمنٹ کی غیر ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کے مکمل نہ ہونے میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ الیکشن کمیشن کو ہر حال میں نااہلی ریفرنس پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہے۔‘

اس پر نور عالم کے وکیل نے کہا کہ ’نااہلی ریفرنس آئینی معاملہ ہے، اس کو صرف فل بنچ ہی سن سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مکمل ہونے تک نااہلی ریفرنس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ دیا جاسکتا ہے۔‘

پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیے کہ ’آرٹیکل 218 کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کورم تین ارکان پر مشتمل ہے۔ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھانا آئین کے منافی ہے۔ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق نا اہلی ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔‘

منحرف ایم این اے نور عالم خان کے وکیل کے اعتراض کہ نامکمل الیکشن کمیشن سماعت نہیں کرسکتا اس اعتراض پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقلیتی رکن رمیش کمار ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’میرا سوال کیس کے قابل سماعت ہونے پر ہے۔‘

 انہوں نے کہ کہا کہ ’شو کاز نوٹس بھی ٹی وی سے ملا، پھر بھی اس پر جواب دیا میں نے جواب دیا کہ میں پی ٹی آئی کا رکن ہوں ، پارٹی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔‘

الیکشن کمیشن نے تمام ریفرنسز کی سماعت چھ مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تمام منحرف اراکین سے تحریری جواب طلب کر لیے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے منحرف ارکان کے کیسز کی الگ الگ تاریخ کی استدعا کی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’ہم شام تک کیس سن سکتے ہیں، ایک ہی جیسا کیس ہے لیکن الگ نہیں کر سکتے۔‘

ریفرنس کی سماعت شروع ہونے سے قبل الیکشن کمیشن کورٹ روم میں دلچسپ صورت حال ہوئی۔

منحرف رکن رمیش کمار تحریک انصاف رہنماؤں سے ملنے ان کی نشستوں پر آئے تو ملیکہ بخاری نے رمیش کمار کے سلام تک کا جواب نہیں دیا۔ رمیش کمار نے متعدد مرتبہ سنیٹر اعظم سواتی کو پکارا لیکن رہنما پی ٹی آئی اعظم سواتی نے رمیش کمار کی بات سنی ان سنی کر دی۔

واضح رہے کہ سپیکر اسمبلی نے آرٹیکل 63/اے کے تحت منحرف اراکین کو اُن کی نشست سے ہٹانے کے لیے ریفرنسز الیکشن کمیشن بھجوائے تھے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو۔

دوسری جانب آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدر مملکت کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان