بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کے امکانات روشن ہوئے ہیں؟

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے جمعرات کو وضاحت کی کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے لیے تجارتی مراعات واپس لینے کے بعد پاکستانی ڈرائیور 20 فروری 2019 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ بارڈر کے قریب سڑک کے کنارے بھرے ٹرکوں کے پاس کھڑے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے گذشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے قمر زمان کو نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں بحثیت وزیر تجارت مقرر کیا ہے۔

یہ عہدہ پانچ سال سے خالی تھا جس کے دوران 2019 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عسکری کشیدگی کے بعد دو طرفہ تجارت تقریباً رک گئی تھی۔

قمر زمان کی تقرری پر کچھ لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھا کہ آیا اس اقدام سے پاکستان کی نئی حکومت نے بھارت کی جانب پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے جمعرات کو وضاحت کی کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے لیکن اگست 2019 کے بھارت کے غیرقانونی اقدامات سے حالات سازگار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ باقی تنازعات پر سفارت کاری کے دروازے کھلے ہیں، تاہم تعمیری بات چیت کے لیے ماحول کا فقدان ہے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات اگست 2019 میں خراب ہوئے جب بھارت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خودمختار آئینی حیثیت ختم کی جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات محدود کر دیے بلکہ باہمی تجارت بھی معطل کردی تھی۔

تجارتی افسر دیگر کئی ممالک میں بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی وزارت تجارت کا بھی اس سے قبل کہنا تھا کہ اہلکاروں کی تعیناتی کے اقدام کا پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اگر نئے وزیر اعظم بھارت کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو یہ حیرت کی بات نہیں ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنگین معاشی بحران میں پھنسنے پاکستان کو بھارت سے سستی درآمدات کی وجہ سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے جبکہ بھارتی منڈیوں کو برآمدات سے کچھ انتہائی ضروری آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔

عالمی افراط زر میں اضافے سے آج کل بھارت بھی محفوظ نہیں۔ ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا، خاص طور پر سبزیوں، مصالحوں اور خوردنی تیل کی اونچی قیمتیں مہنگائی میں تیزی سے اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

اپریل میں بھارت میں خوردہ افراط زر 7.79 فیصد کی آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی۔

خیال ہے کہ شریف خاندان کے پارٹی بیس میں صوبہ پنجاب میں کاروباری اشرافیہ بھی شامل ہے جن میں سے بہت سے سرحد پار تجارت کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے تجارت کو دوبارہ کھولنے پر غور کیا ہے۔

ایک اقتصادی کمیٹی نے گذشتہ سال پاکستان کے اہم ٹیکسٹائل سیکٹر میں خام مال کی قلت کی وجہ سے بھارت سے کپاس اور چینی کی درآمد پر دو سال کی پابندی اٹھانے کا مشورہ دیا تھا۔

اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ تجارت کی کسی بھی بحالی کا تعلق کشمیر کے بارے میں بھارت کی پالیسیوں سے ہوگا۔

دوسری جانب امریکی تھینک ٹینک فارن پالیسی کے مطابق بھارت کی حکومت کو اس وقت پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے سے بہت کم فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسلام آباد کے بارے میں اس کے سخت گیر موقف نے اسے سیاسی طور پر مدد دی ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ شریف حکومت ایک قلیل مدتی حکومت ہے: انتخابات 2023 کے موسم گرما میں ہونے والے ہیں اور اعلیٰ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد بھی ہوسکتے ہیں۔

تھنک ٹینک کے مطابق بھارت کو عبوری انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں بہت کم دلچسپی ہوسکتی ہے۔

اپنی بریفنگ میں دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے متعلق ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پاکستانی کمشنر نے بھارتی ہم منصب سے معاملہ اٹھایا ہے اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

ویسے تو دونوں ممالک کے درمیان حالات میں بہتری سے زیادہ اکثر اوقات کشیدگی ہی رہی ہے لیکن مئی 2020 میں بھارت کی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات دو اہلکاروں کو ’جاسوسی میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

اگست 2019 میں معطل ہونے کے وقت دونوں ممالک کی تجارت کا حجم دو ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھا۔ کسی بھی ملک کے سفارت خانے میں تعینات تجارتی وزیر کی ذمہ داری دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور کاروبار کو بڑھانا ہوتا ہے۔

پاکستان میں تجارتی برادری عمومی طور پر بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کے حق میں ہے لیکن حالات و واقعات اکثر اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاجروں کا خیال ہے کہ تجارتی معاملات کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت