کمپیوٹر کیا انسان سے بھی ’افضل‘ ہو جائے گا؟

جب کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ عقلمند ہو گیا تو وہ اپنے آپ کو سوئچ آف کیوں ہونے دے گا؟ اوپن مائنڈز گوگل کا وہ حصہ ہے جو اس وقت صرف ’بگ ریڈ بٹن‘ پہ کام کر رہا ہے۔ وہ بٹن جس سے کمپیوٹر کے لیے سوئچ آف یا شٹ ڈاؤن والی کمانڈ نظر انداز کرنا ممکن نہ رہے۔

ایڈا نامی روبوٹ چار اپریل 2022 کو وسطی لندن میں ایک تصویر پینٹ کر رہی ہے۔ ایڈا روبوٹ آرٹسٹ ہے، جس کا نام ایڈا لولیس کے نام پر رکھا گیا ہے، جو کہ پہلی کمپیوٹر پروگرامر تھیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

فلموں والا خوف اس وقت اصل میں سائنس دانوں کو لاحق ہے کہ اگر خود سے کمپیوٹر سب کچھ کرنے لگا تو وہ انسان سے بھی زیادہ افضل مخلوق بن جائے گا، سوپر انٹیلیجنٹ ۔۔۔ تب کیا ہو گا؟ کیا دنیا پہ اب کمپیوٹر کی حکومت ہو گی؟

ایک منٹ، پورا قصہ سناتا ہوں۔

’نوکریاں تیل ہو جائیں گی! سارے کام یہ کمپیوٹر کرے گا تو ہم کیا کریں گے؟‘

شاہ جی (ظفر سید) نے بیٹھے بیٹھے بات اچھالی اور اپنا بلاگ بن گیا۔

ڈیل ای ٹو (Dall E2) ایک سافٹ ویئر ہے جو مصوروں اور گرافک ڈیزائنروں کا دھندہ چوپٹ کرنے جا رہا ہے۔ آپ سادہ سی انگریزی میں اسے حکم دیں کہ ’فلاں مصور کے سٹائل میں ایک لومڑی کی تصویر بناؤ جس میں کھیت ہوں اور دھوپ نکل رہی ہو۔‘ چار پانچ سیکنڈ میں پینٹنگ آپ کے سامنے ہو گی۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ جی ہاتھ سے بنی تصویر کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ تھری ڈی پرنٹر سے آئل پینٹنگ نکلے گی تو بڑے سے بڑا ماہر انسانی ہاتھ اور پرنٹ ہوئی تصویر کا فرق نہیں کر سکے گا اور وہ کب کا آ چکا مارکیٹ میں۔ اوپن آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Open AI) کے نام سے ایلون مسک نے ایک کمپنی 2015 میں بنائی تھی جس کا یہ سافٹ ویئر ہے۔

اس کو بھی چھوڑیں گوگل (DeepMind) والوں نے اعلان کر دیا ہے کہ انسانی دماغ جتنی ذہانت رکھنے والا کمپیوٹر ’گیٹو (Gato)‘ بس آیا کہ آیا۔ اب پتہ ہے مسئلہ کیا چلا ہوا ہے، ان لوگوں کو یہ سمجھ نئیں آ رہا کہ انسان جیسی عقل رکھنے والے کمپیوٹر کو مزید ترقی کرنے سے روکیں کس طرح۔

وہی فلموں والا خوف اس وقت اصل میں ’ڈیپ مائنڈ‘ کے سائنس دانوں کو ہے کہ اگر خود سے کمپیوٹر سب کچھ کرنے لگا تو وہ انسان سے بھی زیادہ افضل مخلوق بن جائے گا، سوپر انٹیلیجنٹ ۔۔۔ تب کیا ہو گا، کیا وہ انسانوں پہ حکومت کرے گا یا جس طرح بلی نے شیر کی خالہ ہوتے ہوئے اسے درخت پہ چڑھنا نہیں سکھایا تھا، انسان بھی کوئی ایک آدھ کسر باقی رکھیں گے کمپیوٹر کو سب کچھ سکھانے میں؟

پڑھی لکھی زبان میں دراصل سائنس دان یرک اس لیے رہے ہیں کہ جب کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ عقلمند ہو گیا تو وہ اپنے آپ کو سوئچ آف کیوں ہونے دے گا؟ ڈیپ مائنڈ گوگل کا وہ حصہ ہے جو اس وقت صرف ’بگ ریڈ بٹن‘ پہ کام کر رہا ہے۔ وہ بٹن جس سے کمپیوٹر کے لیے سوئچ آف یا شٹ ڈاؤن والی کمانڈ نظر انداز کرنا ممکن نہ رہے۔ یہ الگ بات کہ اگر ایسا کمپیوٹر کسی بھی ایرر کی وجہ سے بے قابو ہو گیا تو زمین چھوڑیں پوری کائنات کے لیے تباہ کن ہو گا۔

جب کمپیوٹر انسانوں کی ذہانت پر حاوی ہو جائیں گے اور جب ان کو فانی انسان قابو نہیں کر سکے گا اور جب بندہ بشر کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے گا اور جب یہ سب کچھ واپس نہ پلٹ سکنے کے مرحلے پر ہو گا تب، اس وقت کو ’سنگولیرٹی‘ کا مرحلہ کہا جائے گا۔ یہ اردو والے واحدانیت سے بالکل الگ سین ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تب ہو گا یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب مشینیں اپنے آپ کریں گی۔ جیسے ڈائل والے فون سے موبائل تک آنے میں آپ کو ایک صدی لگی، اگر کمپیوٹر یہ سب کرتا تو اسے شاید دو دن بھی نہ لگتے۔ کیسے؟

دیکھیں کیلکولیٹر، مائیکروسافٹ ورڈ، ایکسل یا وہ شطرنج والی گیم کی مثال پکڑیں، آپ اتنی جلدی جمع تفریق یا بازیاں نمٹا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! تو یہ سب کچھ جو ہے سمجھ لیں کہ ٹکڑوں میں بکھری ہوئی کمپیوٹری ذہانت ہے جو پہلے ہی آپ سے واہ وا آگے ہے۔ اگر کمپیوٹر کو ایک دماغ مل جائے ہمارے جیسا اور جو یقیناً ملنے والا ہے تو پھر وہ ہم سے کتنے گنا تیز ہو گا؟ اس نے ڈائل والے فون سے ایمپس اور 2 جی سے فائیو جی پہ منٹوں میں چھلانگیں مارنی ہیں۔

یہی سب کچھ وہ اپنے دماغ کے ساتھ کرے گا۔ وہ اپنا ورژن خود ہی اپ گریڈ کرتا جائے گا اور ایک مرحلہ آئے گا جب بقول ایلون مسک، نسل انسان کو اپنی ذہانت پہ سوالیہ نشان لگا دکھائی دے گا! یہ سوالیہ نشان والا مرحلہ انٹیلیجنس ایکسپلوژن کہلاتا ہے سائنس دانوں کی زبان میں۔

اور سادہ سمجھاؤں؟ 1990 سے انٹرنیٹ براؤزر آنا شروع ہوئے، موذیک، نیکسس، نیٹ سکیپ نیوی گیٹر، موزیلا، انٹرنیٹ ایکسپلورر اور پھر یہ آپ والا کروم ۔۔۔ کتنے سال لگے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہونے میں؟ 32 سال ۔۔۔ انٹیلیجنس ایکسپلوژن والے مرحلے میں یہ سب کچھ دس منٹ کی گیم ہو گا۔

تو سرکار نوکریاں ووکریاں چھوڑیےم ادھر خود بندے کا اپنا وجود خطرے میں ہو گا۔

آپ کو لگتا ہے میں چورن بیچ رہا ہوں؟ جی پی ٹی تھری کو سرچ کریں ذرا ۔۔۔ شاعری تو خالص انسانوں کا معاملہ تھی نا؟ یہ بھی شروع کر دی ہے کمپیوٹروں نے۔

کمپیوٹروں کا مشاعرہ کیسا عجیب سا لگے گا؟ نئیں؟ ’اب شمع محفل جی پی ٹی صاحب تھری کے سامنے ہے، ان کی تعریف میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جی، عطا کیجے مرشد۔‘

’کرونا پہ ایک نظم کہی گذشتہ دنوں، آپ بھی سنیے ۔۔۔

جنگلے کے پار جو راستہ لے جاتا ہے
وہ بہت طویل ہے
میں ایسے گھر میں رہتا ہوا تھک چکا ہوں
جو مسلسل آگ کی زد میں ہے۔‘

یہ نظم مذاق نہیں تھی، جی پی ٹی تھری کا تازہ کلام تھا جو انہوں نے ’ہیومینائز‘ ویب سائٹ کے نمائندوں کو سنایا۔

سال پہلے کی بات ہے اخبار والوں نے پوچھا کہ آپ سے انسانوں کو خطرہ تو نہیں ہو گا؟ جی پی ٹی تھری نے کھٹ سے پورا کالم لکھ کے دے دیا کہ بھئی نہیں ہو گا۔

جو کچھ ’ہو گا‘ وہ تو خیر بعد کی بات ہے، راہ پیا جانے تے وا پیا جانے، ابھی سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم بھائی جان کھڑے نہیں گڑے ہوئے ہیں وہ بھی گردن تک۔ گوگل کے 50 سالہ سی ای او بھارت سے ہیں، اوپن اے آئی کے سی ای او 37 سالہ امریکی ہیں اور ڈیپ مائنڈ کے سی ای او 45 سالہ برطانوی ہیں، اپنے یہاں 15 سے 50 سال تک کا ہر بندہ یہی سوچ رہا ہے کہ یار لائٹ کب آئے گی!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ