منکی پاکس کا ’ممکنہ علاج دریافت‘

سائنس دانوں کی تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق منکی پاکس کا وائرس مریضوں کے گلے اور خون کے نمونوں میں پایا گیا۔ جن مریضوں پر تحقیق کی گئی ان میں سے پانچ تین ہفتے سے زیادہ  یا 39 دن تک آئیسولیشن میں رہے۔

کانگو میں 1997 کی منکی پاکس وبا کے دوران لی گئی تصویر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سائنس دانوں نے منکی پاکس کا ممکنہ اینٹی وائرل علاج دریافت کر لیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری کووڈ کے مقابلے میں کہیں کم خطرناک ہے۔
ماضی میں برطانیہ میں پھوٹنے والی منکی پاکس کی وباؤں کے بارے میں نئی تحقیق میں ایک ایسے مریض کو شناخت کیا گیا ہے جن کا چیچک کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دو اینٹی وائرل ادویات میں سے ایک کی مدد سے علاج کیا گیا تھا جس کے بعد ان میں علامات کا دورانیہ کم ہو گیا۔
’دا لانسیٹ انفیکشیئس ڈیزیز‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2002 سے 2018 کے درمیان ان مریضوں کا جائزہ لیا گیا جن کا اس وائرس کے خلاف علاج کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق ایسے وقت کی گئی ہے جب منکی پاکس کی وبا میں متاثرہ ہونے والے مصدقہ مریضوں کی تعداد برطانیہ میں 71 اور اور یورپ کے آٹھ ملکوں میں 85 ہو چکی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف چند لوگوں پر مشتمل ایک گروپ پر تحقیق کی۔ محققین کے مطابق اینٹی وائرل علاج کے معاملے میں مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔
سائنس دانوں کی تحقیق سے حاصل شدہ نتائج کے مطابق منکی پاکس کا وائرس مریضوں کے گلے اور خون کے نمونوں میں پایا گیا۔ جن مریضوں پر تحقیق کی گئی ان میں سے پانچ تین ہفتے سے زیادہ  یا 39 دن تک آئیسولیشن میں رہے۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ایسا ضروری نہیں ہے کہ منکی پاکس کا انفکیشن اسی شرح سے ہوا کے ذریعے پھیلتا ہو جس طرح کووڈ کا وائرس پھیلا تھا۔ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کے پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے جن میں انفیکشن کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی۔
تحقیقی رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر ڈیوڈ پورٹر کے بقول: ’ہمارے کیسز میں معاملہ گھروں میں بچوں کے درمیان بہت قریبی رابطے کا ہے جن میں ضروری فاصلے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطہ ہوتا ہے۔‘

انسانوں کے لیے اس وقت منکی پاکس کا کوئی منظورہ شدہ طریقہ علاج نہیں ہے۔ وہ ادویات جن کی تحقیق کے دوران شناخت ہوئی ان میں صرف برنسیڈوفوویر اور ٹیکوویریمٹ ہیں جن کی امریکہ میں چیچک کے علاج کے لیے منظوری دی گئی تھی۔  
منکی پاکس کے جن تین مریضوں کا جائزہ لیا گیا ان اینٹی وائرل پرنسیڈوفوویر کی مدد سے علاج کیا گیا۔ یہ دوا مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ ایک مریض کو دو ہفتے کے لیے ٹیکوویریمٹ دی گئی جس نے مرض کا دورانیہ کم کر دیا۔ ہسپتال داخل ہونے کے چھ ہفتے بعد ایک مریض کو کم شدت کے ساتھ اس مرض کا دوبارہ سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ میں 2018 اور 2019 کے درمیان منکی پاکس کے مریضوں میں سے چار کا علاج خصوصی یونٹس میں کیا گیا۔ ان میں سے تین کیسز کا تعلق جنوبی افریقہ سے تھا اور ایک مریض صحت کے وہ کارکن تھے جو وائرس کا شکار ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق کے دوران منکی پاکس کے مزید جن تین مریضوں کا جائزہ لیا گیا وہ 2021 میں ایک ایسے خاندان میں رپورٹ ہوئے جو نائیجیریا کے سفر سے لوٹی۔ ان مریضوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ محقیقن نے نوٹ کیا کہ وہ کیسز جن پر 2018 اور 2021 کے درمیان تحقیق کی گئی وہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کے معاملے میں ان کیسز سے’مختلف‘ نہیں جن کی حال ہی میں شناخت ہوئی۔ 
تحقیقی رپورٹ کے مطابق: ’ہم نے جن مریضوں کے بارے میں بتایا ان میں بیماری کی مشکل نوعیت اور برطانیہ جیسے زیادہ آمدنی والے ملک میں بھی علاج کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت ہے۔ مغرب اور وسطیٰ افریقہ میں منکی پاکس کی وبا پھوٹتی رہے گی اور دنیا بھر میں صحت کے کارکنوں کو ایسے مسافروں کے حوالے سے ہوشیار رہنا ہو گا جو بخار میں مبتلا ہوں اور ان کے جسم پر سرخ رنگ کے نشانات ہوں۔ اس مختصر سیریز کے دوران ہمارا مشاہدہ اینٹی وائرل ادویات کے معاملے میں مزید تحقیق کی حمایت کرتا ہے تا کہ گرم علاقے کی اس نظرانداز شدہ بیماری کا علاج کیا جا سکے۔‘
سائنس میڈیکل سینٹر کی جانب سے منگل کو ایک بریفنگ کے دوران محققین نے منکی پاکس کی حالیہ وبا کا موازنہ کووڈ کے سااتھ کرنے کے معاملے میں خبردار کیا۔ رائل فری ہسپتال میں متعدی اور گہرے اثرات کی حامل متعدی بیماریوں کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر جیک ڈننگ کا کہنا تھا کہ’کووڈ ایک ابھرتا ہوا مرض ہے جو منکی پاکس کے مقابلے میں معاشرے کے لیے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم دونوں بیماریوں کے باہمی موازنے میں احتیاط سے کام لیں۔ خاص طور پر ان کے پھیلنے اور وبائی شکل اختیار کرنے کے خطرے کے حوالے سے۔‘
’اس لحاظ سے یہ دو مختلف امراض ہیں۔ لہٰذا میں نے نہیں چاہتا کہ لوگ یہ سوچیں کہ محض اس لیے کہ ہمیں کووڈ کی وبا کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا ابھرتی ہوئی ہر نئی بیماری وبائی شکل اختیار کر لے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت